جس کی محنت سے پھبکتا ہے تن آسانی کا باغ


پاکستان کا ایک واحد طبقہ ہے جو نہ تو احتجاج کرتا ہے، نہ ہی اپنے حق میں مضبوط آواز بلند کرتا ہے اور نہ ہی حلقہ اقتدار میں ان کی کوئی مضبوط لابنگ موجود ہے کہ ان کے مسائل کو سامنے رکھ پالیسی ترتیب دی جائے۔ وہ مظلوم طبقہ کسانوں کا ہے۔ اسی وجہ سے ہر دفعہ یہ طبقہ استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔

پاکستان کے جی ڈی پی کو 23 ٪ زراعت کی طرف سے آتا ہے۔ اور پاکستان کی امپورٹ اور ایکسپورٹ کا 70 ٪ انحصار زراعت پر ہے۔ پاکستان بنا تو صدر ایوب کے زمانے میں ٹیوب ویل سسٹم اور بجلی وغیرہ دی گئی تاکہ زراعت سے حکومت کو بھی آمدن ہو سکے اور 64 ٪ جو اس وقت دیہی آبادی ہے وہ بھی مستفید ہو سکے۔ پہلے زمینوں پر جنگلات اور جڑی بوٹیوں کی بھرمار تھی لیکن ان سہولیات کے بعد زراعت نے ترقی کی اور ملکی معیشت کو سنبھالنے میں بھرپور کردار ادا کیا، اسی وجہ سے یہاں درآمدات اور برآمدات کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہوا۔

پاکستان نہ تو مینوفیکچرنگ میں کمال رکھتا ہے، نہ انڈسٹریز کا سسٹم ہے، نہ ہی آٹو موبائلز ذریعہ آمدن ہے اور نہ ہی یہ ضرورت سے زائد تیل اور گیس کے ذخائر رکھتا ہے۔ اس کا واحد ذریعہ زراعت ہے اور حکومت کو اس پر باقاعدہ پالیسی سازی کر کے زراعت کے شعبہ کو جدید کرنے اور اس ذریعہ آمدن کو بہت زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے غریب طبقہ بھی مستفید ہو گا، درمیانہ طبقہ بھی اور بڑے طبقات کے لیے بھی فائدہ ہو گا کہ ان کا کاروبار بڑھے گا۔ پاکستان کے سیاق میں بازار تبھی چلتے ہیں جب کسان مضبوط ہوتے ہیں۔

یہ تو تھے کچھ حقائق جو کہ پاکستانی عوام کے مفاد اور معیشت کے سیاق میں تھے۔ اس کے برعکس اب ہم وہ کردار دیکھتے ہیں کہ حقیقتاً بیت کیا رہی ہے۔ پچھلے تین سالوں سے مسلسل جو استحصال کسانوں کا ہو رہا ہے اس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ باقاعدہ پالیسی کے تحت شعبہ زراعت کو تباہ کرنا موجودہ حکومت کا منشور ہے۔ اس کے پیچھے پاکستان اور عوام کا کیا مفاد ہے اس کی حکمت سمجھ سے بالاتر ہے۔

کسان کو جب بھی کسی فصل میں باقاعدہ ریٹس میسر نہ آنے کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے تو وہ اس آس پر خاموش ہوجاتا ہے کہ چار یا چھ ماہ بعد اگلی فصل میں نقصان بھی پورا ہو جائے گا اور کچھ آمدنی بھی۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل کسان فی ایکڑ صرف نقصان جھیل رہا ہے، مٹر، گندم، چاول، مکئی، آلو، کینولا، سب میں کسان کو آس کی بجائے آنسو میسر آئے۔ وہ جو پچھلی فصل کا نقصان اس لیے برداشت کر رہا تھا کہ چلو اگلی فصل دیکھیں گے لیکن اس میں پچھلی فصل سے بھی زیادہ نقصان اٹھا کر اور مسلسل نقصان اٹھا کر اب تو یوں ہے جیسے کسان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہو۔

حکومتی کارندوں کا مشن صرف دیہاڑی لگانا لگتا ہے۔ بدعنوانی کے ان کیڑوں کو اپنے ذات کے بعد پہاڑ نظر آتا ہے۔ یوں ہی وہ جب پاکستان میں اپنی فصلیں تیار ہونے کے باوجود اربوں روپے لگا کر درآمد کر کے اپنی روٹی سینکتے ہیں۔ جب غریب کسان آہ کرے تو مافیا کا لقب پاتا ہے۔ بھلا کبھی وہ بھی مافیا ہو سکتا ہے جس بیچارے کا دن رات صرف اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے گزرے اور وہ محنت اور مشقت میں اس قدر مگن ہو کہ مشکل سے ہی اسے مافیا بننے کا وقت ملے۔

دھوپ میں جھلسا، بارش میں بھیگا،
پھر بھی کہلایا وہی ”مافیا“ ؟

حکومتی وزراء کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ روٹی کی بجائے کیک کھانے کی تلقین کر رہے ہیں اور ان کے بیانات اور ردعمل سے کہیں سے بھی سنجیدگی ظاہر نہیں ہوتی۔

اگر ناکام منصوبہ بندی کی وجہ سے تنخواہ دار طبقہ مشکلات برداشت کر رہا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے مقابلے میں دوسرے طبقے کا استحصال شروع کر دو۔ بہترین منصوبہ بندی اور رائٹ سائزنگ کی بجائے کسانوں کے استحصال کے ذریعے اگر آپ مسائل حل کرنا چاہتے ہیں میرے خیال سے پھر آپ دیگر جتنے مرضی اداروں پر کام کر لیں، انفراسٹرکچر و تزئین و آرائش وغیرہ کر لیں، لیکن آپ پاکستانی کی 64 ٪ آبادی جو کہ کسان ہیں، کو ناراض کر رہے ہیں۔ اچھے اقدامات کو ہم سراہتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسانوں کو پِیس دو اور شعبہ زراعت کو تباہ کرو۔

پنجاب میں موجودہ حکومت کے کم مینڈیٹ کی وجہ یہی ہے کہ یہاں تین چوتھائی آبادی کے پسینے کو ہی ایندھن سمجھ کر مسلسل گاڑی چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبکہ اب کسان تھک چکا ہے۔ اب ہوش کے ناخن یہی ہیں کہ کسانوں کا مزید استحصال بند کرو، ان کو بہترین ریٹس دو، کھادیں اور بجلی سستی کرو تاکہ پاکستان خوشحال ہو۔

زراعت کے شعبہ کو خصوصی توجہ دو تاکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہو۔

کاشتکار کی عظمت اور اس کی محنت ہر جوش ملیح آبادی کی نظم ”کسان“ پڑھنے کے لائق ہے۔ اس کے چند منتخب اشعار درج ذیل ہیں :

یہ سماں اور اک قوی انسان یعنی کاشت کار
ارتقا کا پیشوا تہذیب کا پروردگار
جس کے ماتھے کے پسینے سے پئے عز و وقار
کرتی ہے دریوزۂ تابش کلاہ تاجدار
سرنگوں رہتی ہیں جس سے قوتیں تخریب کی
جس کے بوتے پر لچکتی ہے کمر تہذیب کی
جس کی محنت سے پھبکتا ہے تن آسانی کا باغ
جس کی ظلمت کی ہتھیلی پر تمدن کا چراغ
جس کے بازو کی صلابت پر نزاکت کا مدار
جس کے کس بل پر اکڑتا ہے غرور شہریار
دھوپ کے جھلسے ہوئے رخ پر مشقت کے نشاں
کھیت سے پھیرے ہوئے منہ گھر کی جانب ہے رواں

Facebook Comments HS