ہم گناہ گار ہیں

تعلیم کے مہنگے فرض کو جیسے تیسے پورا کر لیں تو اب صحت کو یقینی بنا نے لئے اچھی غذا،صاف پانی اور پھر بیماری کے لئے علاج کی مناسب سہولیات کی دستیابی کا سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ ہر جگہ نجی ادارے خدمت خلق میں مشغول ہیں ، بشرطیکہ لوگ ان کی طلب کردہ فیس ادا کر پائیںجبکہ فیس کا معیار پختہ ہے ، اس میں ردو بدل کی قطعی کوئی گنجائش نہیں۔ روز مرہ کی اشیا میں ادھار چل سکتا ہے مگر شفا خدا کے ہاتھ میں ہے اور زمین پہ اسکی فراہمی کے نقد دام وصول کئے جاتے ہیں۔سرکار کی طرف سے قائم کردہ مراکز میں کیا مسئلہ ہے کہ لوگ نجی ہسپتالوں اور سکولوں کی طرف بھاگتے ہیں۔اگر نبض مفت چیک ہو جائے تو ادویات کی قیمتوں تلے دمے کے مریض دب جاتے ہیں۔دوسری طرف ان سب سہولیات کی مفت فراہمی کا دعویٰ بھی کچھ کم نہیں۔ لوگ جھوٹے ، دھوکے باز ہونے کے ساتھ ساتھ پاگل بھی ہیں شاید، کہ ان تمام کی تمام مفت سہولیات کو چھوڑ کر پیسے بہانے چلے جاتے ہیں۔ لوگ مفت مال کو کیوں ٹھوکر مارتے ہیں۔ ان کے پاس نہ جانے لوٹ کا مال ہے یا پھر اس قدر وافر رقم ہے کہ جسے یوں تقسیم کئے بغیر انہیں چین نہیں آتا۔
کچھ ہے، جس کی پردہ داری ہے۔ لوگوں کے بیان پہ یقین کریں تو گویا انہیں کچھ مہیا نہیں اور اگر سرکار کی کارگزاری کا ذکر سنیں تو لگ بھگ 15 سال سے ہر حکومت کی اشتہاری مہم میں کارہائے نمایاں بیان ہوتے ہیں اور عوامی تمغے وصول کئے جاتے رہے ہیں۔ جب سب چوکھٹ پہ فراہم کر دیا گیا تو پھر حکومتیں اشتہار کی ضرورت کو کیوں محسوس کرتی ہیں۔ ان اشتہارات کو سالانہ ترتیب سے دیکھا جائے تو دعوﺅں میں یورپ اور امریکہ جیسے ممالک کو اب تک ہم پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جھوٹ عوام سے سرکار تک اگر برابر تقسیم ہے تو پھر دھوکے کو کسی نہ کسی تناسب اور کھاتے میں ظاہر کرنا پڑے گا۔
ایک طرف توانائی کے بحران کی آزمائش کا سامنا ہے، بجلی کی قلت اور گیس کی کمی کا بڑے پیمانے پہ واویلا مچتا ہے۔مگر حکومت بہت دلیری سے پچھلی حکومت کو مورد الزام ٹھہراتی ہے، اسی طرح اگر پچھلی حکومتوں کے نمائندگان سے پوچھا جائے تو بات آزادی کی تحریک تک پہنچ سکتی ہے، مگر اس گتھی کا سلجھنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے، اس الجھے دھاگے کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ دھوکہ ناگزیر ہے،ہم اس سے جتنی بھی نفرت کا اظہار کریں مگر بحیثیت سماج اس کی مشق کافی تواتر اور تسلی کے ساتھ سر انجام دی جا رہی ہے جبکہ منہ سے مسلسل تردید کا سلسلہ بھی عوامی اور سرکاری دونوں سطح پہ تھمنے والا نہیں۔
اکثر حکمران طبقات کے مشاغل کو عوامی گناہوں کی سزا قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن سزا کی طوالت اور پھر لوگوں کی دن بدن بگڑتی معاشی صورتحال سے گناہوں کی شدت کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔تہذیب نے جدت کے سفر میں جھوٹ اور فریب کو اپنے ساتھ ساتھ رکھا ہے، جس قدر ترقی معیار زندگی میں ہوئی اس قدر پیش رفت ان سماجی عوارض کو بھی حاصل رہی ہے۔ لوگ اتنا سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود ابھی تک ان ممنوعات سے بچتے نہیں اور خلاف ورزی کرتے نظر آتے ہیں۔ قانون اور اخلاقیات کی حدودو قیود سخت سزاو¿ں کے باوجودپامال ہوتی ہیں۔ ابھی بھی شدت پسندی اور جذباتیت کی گنجائش بنی ہوئی ہے، کالے دھن کو سفید کرنے کابندوبست بھی ہوتا ہے۔ ابھی بھی غیرت اور عزت کے نام پہ فرسودہ رسوم کو ادا کیا جارہا ہے۔ عورت سے منسوب عزت کا رکھوالا مرد ہے اور اسکی حد کا تعین بھی اسے ہی طے کرنا ہے۔ لوگ جانتے ہیں مگر پھر بھی حق گوئی سے اجتناب کرتے ہیں۔ سچ آج بھی کڑوا ہے، جبکہ جھوٹ کی شیرینی ہر مقام پہ بٹ رہی ہے۔ یہ گھاٹے کا سودا لوگ دانستہ کر لیتے ہیں، ذرا سی شرم ،تھوڑی سی لجاہت محسوس نہیں ہوتی۔ اب تک حرام اور حلال کی بحث مختصر ہوتے ہوتے صرف جانوروں کے گوشت تک آ گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم جس حرکت کی مذمت کرتے ہیں اس حرکت کے مرتکب شوق سے نہیں ہوسکتے۔ لوگ بے بس اور لاچار ہیں، اکثریت حالات کے جبر کا شکار ہو کے اخلاقی اور قانونی حدود کو پھلانگ جاتی ہے۔ جب حق دار کو اسکے حق سے سماج محروم رکھے تو پھر فرد اور معاشرے کے رشتے کا تقدس قائم نہیں رہتا۔ ان مانی ہوئی برائیوں سے لوگوں کی جان کیوں نہیں چھوٹ پاتی ، اس کا جواب ڈھونڈے بغیر ان سے جان بچانی مشکل ہے۔ سب سے بلند موقف یہی ہے کہ بھوک کی موجودگی اور سماجی سہولیات کے فقدان کے ہوتے ہوئے قانون اور اخلاقیات کی پاسداری کا مطالبہ تھوڑا غیر فطری سا لگتا ہے۔لوگ اتنے گناہ گار نہیں کہ ہر حکومت ان پہ قہر بن کے ٹوٹ پڑے اور نہ ہی اتنے سیاہ بخت ہیں کہ نسل در نسل ناکامیاں ان کا مقدر بنی رہیں۔ان سب حالات کے پیچھے ٹھوس وجوہات ہیں، افسوس یہ ہے کہ ہماراتجزیہ وجوہات سے اکثر خالی ہوتا ہے۔

