ایک منفرد مشغلہ
روز مرہ زندگی میں کئی مشاغل ایسے بھی ہیں جو انسان کے لیے نہ صرف فرحت بخش ہوتے ہیں بلکہ علم میں اضافے کا بھی سبب بنتے ہیں۔ جیسا کہ بعض لوگ کتابیں جمع کرنے اور مطالعہ کے شوقین ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض اخبارات، رسائل اور ڈائجسٹ پڑھنے کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ ایسے مشغلوں کے حامل افراد کے پاس معلومات کا کثیر ذخیرہ ہوتا ہے، ان کی گفتگو علمی ہوتی ہے۔ ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ جلدی سے کتاب ختم کر کے کوئی نئی کتاب خریدی جائے۔ اس کے علاوہ ایسے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ کوئی بھی تحریر ان کی نظروں سے گزرے وہ پڑھے بغیر جانے نہیں دیتے اور ہر تحریر ان کے لیے لطف اٹھانے کا سامان مہیا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے مشغلے ہیں جو علمی سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس تحریر کے ذریعے ایک ایسے مشغلہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جس کی طرف اکثر متوجہ ہی نہیں۔ اس سے میری مراد دنیا بھر کی کرنسی نوٹوں اور سکوں کا جمع کرنا ہے۔ اس کے لیے عام طور پر نومیسمیٹکس (Numismatics) اور نوٹیفلیٹی (Notaphily) کی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ ایک دلچسپ اور تاریخی اہمیت کا حامل شوق ہے۔ یہ نہ صرف مالی اعتبار سے فائدہ مند ہے بلکہ اس کے ذریعے کسی ملک کی تاریخ، تہذیب اور فنون کے بارے میں گہرائی سے علم حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو نہ صرف اس کی طرف ملتفت نہیں بلکہ اس کی اہمیت کا بھی انکاری ہے۔ جب ان کے سامنے اس مشغلے کا نام لیتے ہیں یا کوئی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو ان کے ذہن عالی میں ایک غیر ضروری مشغلہ اجاگر ہوتا ہے۔ چوں کہ وہ اس کی اہمیت اور وسعت سے واقف نہیں ہوتے ہیں اسی لیے ایسا سوچتے ہیں۔
اسی طرح اس مشغلے کے مبتدی کے لیے بھی ابتدا میں اس کی اہمیت اور وسعت کا اندازہ نہیں ہوتا جوں جوں اس کے رگ و پے میں اترتا ہے تو اسے پتا چلتا ہے کہ یہ ایک بحرِ بے کراں ہے۔ جس سے ہر ایک اپنے شوق اور رغبت کے لحاظ سے فائدہ اٹھاتا ہے اور لطف اندوز ہوتا ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان جیسا قلیل المدتی تاریخ رکھنے والے ملک کے تمام (ابتدا سے اب تک) کرنسی نوٹ اور سکوں کو جمع کرنے میں ایک عمر لگ جائے گی لیکن شاید ہی کوئی ہو جو اس میدان میں فتح یاب ہوا ہو سکے۔ میں بذات خود اس مشغلے سے وابستہ ہوں اور تقریباً دس سال ہونے کو ہیں لیکن میں نے کہیں نہیں سنا کہ فلاں کلیکٹر (جمع کنندہ) کے پاس پاکستان کی تمام کلیکشن موجود ہیں۔
بہر حال جب ہم ایک کم سرگذشت رکھنے والے ملک کے بارے میں یہ کہتے ہیں جس کے وجود میں آئے ہوئے سو سال بھی نہیں ہوئے تو اس سے اس کی وسعت کا اندازہ آپ خود لگائیں کہ جن ممالک کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے وہاں اس کام کی وسعت کیا ہوگی۔ اس ضمن میں یہ بات بھی واضح کردوں کہ اپنے شوق کے اعتبار سے بعض افراد رائج الوقت اور بعض پرانے اور قدیم کرنسی نوٹ اور سکے جمع کرتے ہیں۔ اس مشغلے کی دیگر تقسیمات اور ابعاد کی بات کی جائے تو پوری کتاب بھی کم پڑے گی۔
ملک عزیز پاکستان میں اس مشغلے سے وابستہ افراد کی اچھی خاصی تعداد ہے لیکن صاحب اقتدار اس وقت رائج الوقت کرنسی بٹورنے میں لگے ہوئے ہیں، افسوس سے کہنا پڑتا اس مشغلے کے لیے کوئی پلیٹ فارم تک موجود نہیں۔
دور حاضر کا انسان جو افراتفری، الجھن، اضطراب جیسے مسائل سے دوچار ہے وہ اپنے زندگی کے چند لمحوں کو صحت مند مشغلوں کے ذریعے پُر سکون بنا سکتا ہے۔ چوں کہ میں خود اس تجربے سے گزرا ہوں اور قریب سے محسوس بھی کیا ہے نیز بہت سے اہل علم حضرات سے سنا بھی ہے کہ صحت مند مشغلوں میں پُر سکون لمحے مہیا کرنے کی بھرپور صلاحیت ہوتی ہے، لہٰذا آپ بھی ایسا کوئی مشغلہ ضرور اپنائیے (بھلے کچھ لمحات کے لیے ہی سہی) جو آپ کو سکون فراہم کر سکے۔


