زندگی کا مقصد


dr qamaruddin nizami
اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

یہ شعر تو شاید اکثر لوگوں نے سنا ہو گا۔ لیکن کیا واقعی زندگی کا مقصد یہی یا صرف یہی ہے۔ یہ بات بحث طلب ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی ایک کالم میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے۔ اور اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس سوال کا کہ زندگی کا مقصد کیا ہے انتہائی مشکل ہے۔ پچھلے سال ایک نو سال کی بچّی نے مجھ سے یہی سوال کیا تھا۔ اس نے کہا کہ میں مرنا نہیں چاہتی لیکن مجھے بتائیں کہ زندگی کا مقصد کیا ہے اس نے یہ سوال اس لئے کیا تھا کہ اسے اسکول میں کچھ بچّوں نے مذاق کا نشانہ بنایا تھا۔

اس نے رو رو کر اپنا حال برا کر لیا۔ مجھے اسے سمجھانے اور بہلانے میں کافی وقت صرف کرنا پڑا۔ اسی طرح دو ہفتے پہلے ایک پانچ سال کی بچّی نے کہا کہ میں بوڑھا ہونے سے پہلے مرنا نہیں چاہتی۔ یہ زندہ رہنے کی خواہش ہر شخص میں پائی جاتے ہے چاہے وہ اپاہج ہو، بستر مرگ پر ہو، کسی کام کاج کا نہ ہو، کسی لا علاج اور انتہائی تکلیف دہ بیماری میں مبتلا ہو اور اس کی زندگی نہ صرف اس کے کسی کام کی نہ ہو بلکہ اس کی دیکھ بھال کرنے والوں کے لئے بھی ایک بوجھ ہو۔

اس سب کے باوجود نہ صرف وہ بلکہ اس کی دیکھ بھال کرنے والے بھی چاہتے ہیں کہ وہ زندہ رہے۔ یہ اکثر ہوتا ہے جب ہمارے پاس کوئی ایسا مریض ہو تا ہے جسے طبّی بنیاد پر اس کے نگہبانوں اور سرپرستوں سے تبادلہ خیال اور ان کی مرضی اور اجازت سے ڈی این آر کیا گیا ہو جس کا مطلب ہے کہ زندگی کے آخری لمحے میں جب اس کی سانس ختم ہو رہی ہوں اسے بچانے کے لئے کوئی خاص دوا یا مصنوعی تنفّس کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔ لیکن جب آخری وقت آتا ہے تو وہاں موجود لواحقین شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کچھ کریں۔

اسی طرح ایک بوڑھا شخص جو نہ اپنے ہاتھ سے کھا پی سکتا ہو نہ کوئی اور کام کر سکتا ہو اور اپنی تمام ضروریات کے لئے دوسروں کا محتاج ہو وہ بھی مرنا نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ کچھ گھنٹوں کی مہلت اور مل جائے۔ لیکن اگر اس سے اس کی وجہ پوچھا جائے کہ وہ کیوں اور زندہ رہنا چاہتا ہے تو اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔

یہ زندہ رہنے کی خواہش صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ ہر جاندار بشمول کیڑے مکوڑوں میں پائی جاتی ہے۔ جب آپ کسی شخص سے پوچھیں کہ وہ زندہ کیوں رہنا چاہتا ہے تو وہ اس کی مختلف وجوہات بیان کرے گا۔ جس میں مختلف دنیاوی کاموں کا حوالہ دے گا لیکن کیا واقعی زندہ رہنے کا مقصد صرف یہ ہی دنیاوی کام ہیں یہ بات بحث طلب ہے۔

زندگی کا مقصد کیا ہے۔ اس سوال کو دو زاویوں یا نقطہ نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک مذہبی اور دوسرے سائنسی۔ مذہبی نقطہ نظر سے زندگی کا مقصد عبادت ہے۔ لیکن عبادت کیا ہے۔ یہ سوال بذات خود بحث طلب ہے۔ لیکن اس وقت اس مضمون کا حصّہ نہیں ہے۔

جہاں تک سائنسی نقطہ نظر کا تعلق ہے تو بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے سوائے کھانے اور نسل بڑھانے کے۔ آپ کوئی بھی جاندار کو دیکھیں اس کے یہی دو کام نظر آئیں گے۔ چاہے کیڑے مکوڑے ہوں، مچھلی اور سمندری مخلوق ہو، خشکی اور ہوا کے جانور ہوں یا انسان۔ جہاں تک کھانے کا تعلق ہے ہر مخلوق دوسری مخلوق کی خوراک ہے۔ چھوٹی مچھلی کو بڑی مچھلی کھاتی ہے۔ بڑی مچھلی کو اس سے بڑی مچھلی اور اسے انسان اور دوسرے جانور کھاتے ہیں۔

چوپائے کو ایک درندہ اور ایک درندہ کو دوسرا درندہ کھا جاتا ہے۔ کسی جاندار کو اپنے لئے غذا حاصل کرنے کے لئے کوئی کام نہیں کرنا پڑتا ہے۔ سوائے آج کل کے انسانوں کے۔ زمانہ قدیم کے انسان بھی شکار پر گزارہ کرتے تھے۔ انہیں کوئی کام یا مزدوری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ مگر جیسے جیسے انسان نے عقل و شعور کی منازل طے کیں۔ قبیلوں اور سوسا‏ئیٹیوں کی شکل میں رہنا شروع کیا، اس نے علم حاصل کرنا اور اپنا ذہن استعمال کرنا شروع کیا اسے خوراک حاصل کرنے کے لئے محنت مزدوری اور دیگر کاموں کی ضرورت محسوس ہوئی۔

اگر انسان عقل و شعور کی منازل طے نہ کرتا تو وہ آج بھی جانوروں کی طرح زندگی گزا ر رہا ہوتا۔ ان تمام باتوں کے باوجود بنیادی طور پر اس کے وہی دو کام نظر آتے ہیں یعنی کھانا اور نسل بڑھانا۔ البتّہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے انسان نسل کیوں بڑھانا چاہتا ہے۔ جانوروں میں تو نسل خود بخود بغیر نسل بڑھانے کی خواہش کے بڑھتی ہے لیکن انسانوں میں نسل خواہش کی بنیاد پر بڑھتی ہے۔ انسان یہ خواہش کیوں رکھتا ہے اس پر بحث کرنے کے لئے ایک الگ مکمّل مضمون چاہیے۔

اس طرح اجتماعی زندگی کا مقصد تو نسل بڑھانا یا برقرار رکھنا نظر آتا ہے۔ لیکن انفرادی طور پر زندگی کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔ اس کے باوجود کو ‏ئی شخص مرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ ہاں اجتماعی طور پر ہر شخص دوسرے شخص کا محتاج ہے۔ یہی شاید انسانی زندگی کا مقصد ہے لیکن انفرادی طور پر زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ کیونکہ انسان زندگی کی ایک انتہائی ارتقائی شکل ہے جو سائنسی طور پر وقت کے ساتھ ساتھ ”طاقتور کی بقا“ کے اصول پر بغیر کسی مقصد کے ظہور پذیر ہوئی۔ لیکن بعد میں عقل و شعور اور خود آگہی کے حصول پر اپنا مقصد زندگی دوسروں کی مدد بنالیا۔

Facebook Comments HS