زندگی کو معنی دینا: ایک ذاتی انتخاب کی پیچیدہ داستان


کبھی رات کے اندھیرے میں، آسمان پر پھیلے ان گنت ستاروں کو دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔ اس لامتناہی کائنات میں ہماری حیثیت ایک ننھے سے ذرے سے زیادہ نہیں۔ یہ خیال اکثر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا اس کا کوئی حقیقی، پہلے سے طے شدہ مطلب ہے، یا یہ صرف ایک اتفاقی حیاتیاتی عمل ہے جسے ہم، یعنی انسان، اپنی سوچ، ثقافت اور مشترکہ تجربات سے کوئی نام، کوئی پہچان، کوئی معنی دینے کی کوشش کرتے ہیں؟

یہ سچ ہے کہ فطرت اپنے اصولوں پر چلتی ہے۔ سورج طلوع ہوتا ہے، دریا بہتے ہیں، پودے اگتے ہیں، جانور پیدا ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ اس سارے نظام میں کہیں بھی ’معنی‘ یا ’مقصد‘ کا وہ تصور نظر نہیں آتا جو ہم انسان اپنی زندگیوں سے وابستہ کرتے ہیں۔ ایک چیونٹی دن بھر محنت کرتی ہے، لیکن کیا وہ اپنی ’محنت کے معنی‘ پر غور کرتی ہے؟ ایک شیر شکار کرتا ہے، لیکن کیا وہ ’شکار کے فلسفے‘ پر بحث کرتا ہے؟ شاید نہیں۔ یہ سب جبلت، بقا اور تسلسل کا کھیل ہے۔

حیاتیاتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو زندگی کا بنیادی مقصد اپنی نسل کو آگے بڑھانا، اپنے جینز کو اگلی نسل تک منتقل کرنا ہے۔ اس سارے عمل میں خوشی، غم، محبت، نفرت جیسے انسانی جذبات اور معنی کی تلاش جیسی فکری کاوشیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں، یا شاید بالکل ہی غیر متعلق ہیں۔ فطرت بس ’ہے‘ ۔ وہ نہ اچھی ہے نہ بری، نہ بامعنی نہ بے معنی۔ وہ بس اپنا کام کرتی ہے۔

لیکن انسان صرف حیاتیات کا مجموعہ نہیں۔ ہمارے پاس شعور ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہے، اور سب سے بڑھ کر، اپنے وجود پر سوال اٹھانے کی اہلیت ہے۔ ہم ماضی کو یاد کرتے ہیں، مستقبل کے منصوبے بناتے ہیں، اور حال میں اپنے ہونے کا مطلب تلاش کرتے ہیں۔ یہیں سے فلسفے، نفسیات، سماجیات اور تاریخ کا کردار شروع ہوتا ہے۔

فلسفیانہ زاویے سے دیکھیں تو وجودیت (Existentialism) کے مکتبہ فکر نے اس سوال پر گہری روشنی ڈالی ہے۔ ژاں پال سارتر جیسے فلسفی کہتے ہیں کہ انسان پہلے وجود میں آتا ہے، پھر وہ اپنے جوہر (essence) یا معنی خود تخلیق کرتا ہے۔ کائنات نے ہمیں کوئی پہلے سے لکھا ہوا کردار یا مقصد نہیں دیا۔ ہم ایک خالی کینوس کی طرح ہیں، اور یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس پر کیا تصویر بناتے ہیں۔ البرٹ کامیو (Albert Camus) نے ’بے معنویت‘ (Absurdity) کا تصور پیش کیا۔

ان کے نزدیک کائنات کی خاموشی اور انسان کی معنی کی پکار کے درمیان ایک مستقل تضاد ہے۔ لیکن کامیو اس بے معنویت میں مایوسی نہیں دیکھتے، بلکہ وہ اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کرنے اور اس کے باوجود اپنی زندگی کو بھرپور طریقے سے جینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ کائنات کی طرف سے کوئی معنی نہیں ملنے والے، تب ہم اپنی اقدار خود بنانے اور اپنی زندگی کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے آزاد ہو جاتے ہیں۔

تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص زندگی کو معنی دینے سے انکار کر دے، اسے بے معنی سمجھ کر جینا چاہے، تو یہ ٹھیک ہے؟ کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ یہ سوال ہمیں نفسیات اور سماجیات کی طرف لے جاتا ہے۔

نفسیاتی طور پر، معنی کی تلاش انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ وکٹر فرینکل، جنہوں نے ہولوکاسٹ کے کیمپوں میں ناقابل تصور اذیتیں برداشت کیں، اپنی ’لوگو تھراپی‘ (Logotherapy) میں اسی نکتے پر زور دیتے ہیں کہ انسان کی بنیادی خواہش ’معنی کی تلاش‘ ہے۔ جن لوگوں کو اپنی زندگی میں کوئی مقصد یا مطلب نظر آتا ہے، وہ مشکل ترین حالات کا سامنا بھی بہتر طریقے سے کر پاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کو زندگی بے مقصد اور خالی محسوس ہوتی ہے، وہ نفسیاتی مسائل جیسے ڈپریشن، مایوسی اور ’وجود کے خالی پن‘ (Existential Vacuum) کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جب زندگی میں کوئی سمت نہ ہو، کوئی مقصد نہ ہو، تو انسان خود کو کھویا ہوا محسوس کر سکتا ہے۔ یہ احساس اسے خود کو تباہ کرنے والے رویوں، نشے یا مکمل لاتعلقی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

سماجی طور پر، مشترکہ معنی اور اقدار معاشرے کو جوڑ کر رکھتے ہیں۔ ثقافت، مذہب، قومی شناخت، یہ سب اجتماعی طور پر تخلیق کردہ ’معنی‘ کے نظام ہیں جو افراد کو ایک دوسرے سے منسلک کرتے ہیں اور انہیں ایک مشترکہ مقصد کا احساس دلاتے ہیں۔ مشہور سماجیات دان ایمائل درخائم (Émile Durkheim) نے ’اینومی‘ (Anomie) کا تصور پیش کیا، جس کا مطلب ہے معاشرے میں اصولوں اور اقدار کا ٹوٹ جانا یا کمزور پڑ جانا۔ ایسی صورتحال میں افراد خود کو معاشرے سے کٹا ہوا اور بے سمت محسوس کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں سماجی انتشار اور انفرادی سطح پر مایوسی بڑھ سکتی ہے۔ جب لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی زندگی یا ان کے کام کا کوئی وسیع تر سماجی مطلب نہیں، تو ان کی وابستگی کمزور پڑ جاتی ہے۔

تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے۔ ہر دور میں، ہر تہذیب میں انسانوں نے زندگی کو معنی دینے کے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔ کبھی یہ معنی مذہب اور خدا سے وابستہ رہے، کبھی قوم، قبیلے یا خاندان سے۔ کبھی فن، علم، یا خدمت خلق کو زندگی کا محور بنایا گیا۔ صنعتی انقلاب کے بعد کام اور ترقی کو معنی کا درجہ ملا۔ آج کے دور میں، جہاں روایتی ڈھانچے کمزور پڑ رہے ہیں، معنی کی تلاش زیادہ انفرادی اور ذاتی ہو گئی ہے۔ کچھ لوگ کیریئر میں معنی تلاش کرتے ہیں، کچھ رشتوں میں، کچھ اپنے شوق یا تخلیقی کاموں میں، اور کچھ روحانیت یا ذاتی ترقی میں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ معنی کی ’تخلیق‘ ایک مسلسل انسانی عمل ہے۔

اب واپس آتے ہیں اس سوال پر کہ کیا معنی نہ دینا بھی ایک آپشن ہے؟ کیا یہ لازمی ہے کہ ہر کوئی کسی ’بڑے مقصد‘ کی تلاش میں سرگرداں رہے؟ شاید نہیں۔ اگر معنی واقعی ایک انسانی تعمیر (human construct) ہے، تو منطقی طور پر اسے قبول نہ کرنے کا اختیار بھی ہمارے پاس ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ زندگی کو بس ویسا ہی قبول کر لیں جیسی وہ ہے۔ لمحہ بہ لمحہ جینا، چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے لطف اندوز ہونا، فطرت کے قریب رہنا، بغیر کسی عظیم فلسفیانہ یا سماجی مقصد کے بوجھ کے۔ شاید ان کے لیے یہی ’معنی‘ ہو۔ زندگی کی سادگی اور اس کے فطری بہاؤ کو قبول کرنا۔ اس میں کیا حرج ہے؟ شاید کوئی حرج نہ ہو۔ اگر کوئی شخص اس حالت میں مطمئن ہے، کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہا، اور اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے، تو یہ اس کا ذاتی انتخاب ہے۔

یہاں ’ذاتی انتخاب‘ کا تصور بہت اہم ہے۔ ہم سب کے پاس یہ اختیار موجود ہے۔ ہم یہ انتخاب کر سکتے ہیں کہ اپنی زندگی کو کسی نصب العین، کسی مقصد، کسی معنی کے حصول کے لیے وقف کر دیں۔ ہم علم حاصل کر سکتے ہیں، دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں، فن تخلیق کر سکتے ہیں، محبت بھرے رشتے بنا سکتے ہیں، اور ان چیزوں میں اپنی زندگی کا مطلب تلاش کر سکتے ہیں۔ یہ راستہ ہمیں اپنا ’بہترین دوست‘ بنا سکتا ہے، جہاں ہم اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے خود کو اور دنیا کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسری طرف، ہم یہ انتخاب بھی کر سکتے ہیں کہ زندگی کی بے معنویت کو تسلیم کر لیں اور اس کے ساتھ جینا سیکھ لیں۔ لیکن یہاں ایک خطرہ ہے۔ اگر یہ بے معنویت ہمیں مایوسی، لاتعلقی، یا خود غرضی کی طرف لے جائے، تو ہم اپنے ’بدترین دشمن‘ بن سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ چونکہ زندگی کا کوئی حتمی مطلب نہیں، اس لیے کچھ بھی اہم نہیں، نہ اخلاقیات، نہ رشتے، نہ ذمہ داریاں، تو یہ راستہ تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ نفی پسندی (Nihilism) کی ایک خطرناک شکل ہے۔

اصل بات شاید یہ ہے کہ ’معنی‘ کا تصور بہت وسیع اور ذاتی ہے۔ جو چیز ایک شخص کے لیے بامعنی ہے، ضروری نہیں کہ وہ دوسرے کے لیے بھی ہو۔ معنی کسی عظیم الشان دریافت یا کارنامے میں بھی ہو سکتے ہیں اور کسی چھوٹے سے عمل، کسی مسکراہٹ، کسی کی مدد میں بھی۔ یہ پہلے سے طے شدہ نہیں، بلکہ مسلسل تخلیق ہونے والا عمل ہے۔ یہ ہماری سوچ، ہمارے جذبات، ہمارے رشتوں اور ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔

انسانیت کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم معنی کے متلاشی رہے ہیں۔ غاروں کی دیواروں پر بنی تصویروں سے لے کر آج کے سائنسی نظریات تک، مذہب کی تعلیمات سے لے کر فلسفیانہ بحثوں تک، عظیم ادبی شاہکاروں سے لے کر روزمرہ کی گفتگو تک، ہم مسلسل اپنے وجود کو سمجھنے اور اسے کوئی مطلب دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہ کوشش ہی شاید ہمیں ’انسان‘ بناتی ہے۔

تو، کیا زندگی کو معنی دینا ضروری ہے؟ فطرت کے نقطہ نظر سے شاید نہیں، لیکن انسانی تجربے کے نقطہ نظر سے، یہ اکثر ہماری ذہنی، جذباتی اور سماجی صحت کے لیے اہم ثابت ہوتا ہے۔ کیا معنی نہ دینا ٹھیک ہے؟ ہاں، اگر یہ ایک شعوری، پرامن اور ذمہ دارانہ انتخاب ہے، نہ کہ مایوسی یا لاتعلقی کا نتیجہ۔ حتمی طور پر، یہ ایک گہرا ذاتی سفر ہے۔ کائنات ہمیں خاموشی سے دیکھتی رہے گی، لیکن ہم اپنے اندر کی آواز سن کر، اپنے دل کی روشنی میں، اپنی زندگی کا گیت خود لکھ سکتے ہیں۔

دوسری طرف، ایک شخص جو اپنی تمام سماجی اور خاندانی ذمہ داریاں پوری کر چکا ہے، کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتا، اور پھر شعوری طور پر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں مزید کوئی معنی نہیں اور اسے ختم کر دینا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اب بھی اپنا یا معاشرے کا دشمن ہے؟

معاشرے کے نقطہ نظر سے، اسے دشمن کہنا مشکل ہے۔ اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں، کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ لیکن اس کے فیصلے کا بالواسطہ اثر اس کے پیاروں پر پڑ سکتا ہے۔ اس کا عمل معاشرے کی بنیادی اقدار، جیسے کہ زندگی کی قدر، کو چیلنج کر سکتا ہے۔ پھر بھی، اسے ’دشمن‘ کہنا ایک سخت فیصلہ ہو گا، کیونکہ اس میں بدنیتی یا فعال مخالفت نہیں۔

لیکن کیا وہ اپنا دشمن ہے؟ یہ زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس شخص کے اپنے نقطہ نظر سے، وہ شاید یہ سمجھتا ہو کہ اس نے زندگی کا سفر مکمل کر لیا۔ اس کے لیے یہ فیصلہ مایوسی کا نہیں، بلکہ ایک منطقی انجام کا ہو سکتا ہے۔ وہ اسے اپنی آزادی سمجھ سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم زندگی کے امکانات، یا وجود کی اندرونی قدر کے زاویے سے دیکھیں، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ہی مستقبل کے خلاف جا رہا ہے۔ حیاتیاتی اور نفسیاتی طور پر، جانداروں میں زندہ رہنے کی ایک بنیادی جبلت ہوتی ہے۔

اس جبلت کے خلاف جانا، چاہے وہ شعوری فیصلہ ہی کیوں نہ ہو، ایک طرح سے اپنی فطرت کے خلاف عمل کرنے کے مترادف ہے، جسے ’اپنا دشمن‘ ہونے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ زندگی ہر لمحے نئے معنی لا سکتی ہے، اور اسے ختم کرنا ان تمام امکانات کو ختم کرنا ہے۔ کیا اس کے پیچھے کوئی پوشیدہ مایوسی یا نفسیاتی بحران ہے؟ اگر ہاں، تو شاید یہ فیصلہ بیماری کا نتیجہ ہے، اور اس لحاظ سے بھی وہ اپنا دشمن بن جاتا ہے۔ اسی لئے یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ کسی بھی ایسے انتخاب سے پہلے کسی پوشیدہ مایوسی یا نفسیاتی بحران کے امکان کو رد کرنے کے لئے کسی ماہر اور مستند نفسیاتی ماہر سے مکالمہ کرنا نہایت ضروری اور ناگزیر ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ شعور اور وجود بذات خود ایک قدر رکھتے ہیں، چاہے کوئی بڑا کائناتی مقصد نہ بھی ہو۔ اس اندرونی قدر کو خود ختم کرنا اپنے وجود کی بنیادی قدر کے خلاف جانا ہے۔ ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اپنے وجود کے کینوس پر کیا رنگ بھریں، کیا کہانی لکھیں۔ یہ آزادی، یہ ذمہ داری، اور یہ چیلنج شاید انسان ہونے کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ ہم اپنے بہترین دوست بھی ہیں، اور بدترین دشمن بھی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani