نظریے کی جنگ
دنیا میں کئی قسم کی جنگیں لڑی جاتی ہیں ان میں سے دو سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ یعنی طاقت کی جنگ اور نظریے کی جنگ۔ طاقت کی جنگوں کے اثرات دیر پا نہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس جنگ سے متاثرہ اقوام کا رد عمل بھی قابل توجہ ہوتا ہے۔ یعنی ایک قوم دوسری قوم کو بزور بازو محکوم بناتی ہے تو چند عرصے بعد محکوم قوم اپنی آزادی اور شناخت کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ اس طرح محکوم قوم کا ردعمل اسے حاکم قوم کی ہر چیز کو رد کرنے پر اکساتا ہے۔ لہذا ایسی غلامی سے قوموں کے رویے نہیں بدلا کرتے۔
جبکہ ایک جنگ فقط نظریاتی ہوا کرتی ہے۔ اس جنگ میں طاقت سے زیادہ دانش، ضابطہ حیات، نظریات، اصول و ضوابط، تہذیب و تمدن، مذہب رسم معاشرت، فکر و شعور اور فہم و ادراک کے ذریعے سے دوسری اقوام کو زیر تسلط لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دنیا میں انہی اقوام کی حکمرانی رہتی ہے جو نظریاتی جنگ میں جیت کو یقینی بناتی ہے۔ اس کے اثرات بھی دیر پا ہوتے ہیں۔ اپنے نظریات اور ضابطہ حیات اور مذہب کو دوسری اقوام پر مسلط کیا جانا اور اس سے عقیدت کا اظہار کروانا ناممکنات میں شامل ہے لہذا ایسی جنگ میں دوسروں سے زیادہ اپنے نظریات پر توجہ دی جانی پڑتی ہے۔ یعنی جس ضابطہ حیات، شعور و آگہی، فلسفہ اور مذہب کے سہارے دنیا پر راج کرنے کا خواب دیکھا جاتا ہے وہ ضابطہ حیات، فلسفہ اور مذہب اس قدر فکری اور فطری ہوں کہ ہر غور و فکر کرنے والی قوم کے لیے قابل قبول ہوں۔ بلکہ ان نظریات، عقیدے اور مذہب و فلسفہ کے ذریعے کائنات کے رازوں کو سمجھنا ممکن ہو، دنیاوی زندگی میں سہولت پیدا ہو، انسانی زندگی کا معیار بلند ہو اور ارتقائی سفر میں کہیں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ سب سے بڑھ کر وہ نظریہ، ضابطہ حیات، فلسفہ اور مذہب بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ خود میں بھی تبدیلی کی سہولت رکھتا ہو۔
دنیا میں کئی نظریات عقیدے، فلسفے اور مذاہب نے صدیوں تک کئی اقوام کو متاثر کیے رکھا، بلکہ صدیوں تک ایک ہی طرح کا نظریہ، فلسفہ اور مذہب دنیا کی مختلف اقوام کو بیک وقت نہ صرف متاثر کرتے رہے بلکہ ان کی معاشرتی زندگی کو ترقی دینے میں بھی معاونت فراہم کرتے رہے۔ لیکن جو نظریہ، عقیدہ، فلسفہ یا مذہب جمود کا شکار ہو گیا اس کو رد کرنے میں قوموں نے دیر نہیں لگائی۔ بلکہ کسی طاقت یا جنگ یا خون کی قربانی کے بغیر نظریاتی غلامی سے انھوں نے خود ہی آزادی حاصل کی۔ اس سافٹ جنگ میں نظریات، فلسفے اور مذہب میں معاشرے کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت ہی اسے زندہ رکھ سکتی تھی لہذا جہاں جمود وہاں رد۔
تاریخ فلسفہ دیکھیں نہ جانے کتنے فلسفیوں کے فلسفے صدیوں تک رواج پانے کے بعد رد ہو چکے۔ کتنے مذاہب ایسے ہیں جو صدیوں تک دنیا کو متاثر کرنے کے بعد ناقابل قبول ہو چکے ہیں۔ یعنی زندگی ارتقا کی راہ پر ہے لہذا باقی دنیا کی جملہ چیزوں میں سے جس نے ارتقائی سفر میں خود کو بدلنے کی کوشش کی ہے وہ زندگی کا حصہ ہے اور جس نے خود کو تغیرات سے محفوظ رکھا ہے وہ رد ہو چکی ہے۔ یعنی نظریہ، فلسفہ، عقیدہ، مذہب، ضابطہ حیات، طرز معاشرت، تہذیب و تمدن سب اضافی ہیں اگر کوئی مستقل ہے تو وہ حیات ہے۔ لہذا اصل حیات ہے باقی سب اس حیات کو بہتر بنانے کے ذرائع ہیں۔
اگر آج کوئی نظریہ، فلسفہ، عقیدہ، مذہب، تہذیب و تمدن اور طرز زندگی پر کوئی قوم یا فرد بیزاری کا مظاہرہ کر رہا ہے تو اس قوم یا فرد کو برا بھلا کہنے کی بجائے اس رد شدہ نظریہ، مذہب یا فلسفے کی کمیاں دیکھنی چاہیے۔ اگر کوئی مذہب، نظریہ یا فلسفہ اپنا اہمیت کھو رہا ہے اور حیات میں اس کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے تو حیات کو تنقید کا نشانہ بنانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس نظریاتی جنگ میں سب کچھ فطری طور سے ہوتا ہے لہذا جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہو کر ہی رہے گا۔ اس ہونے کو روکنے کی کوشش فقط ناکام کوشش ہوگی۔ اور اس ہونے اور اس تبدیلی کو رد کرنا بڑی حماقت ہوگی کیونکہ حقیقت کو رد کرنا اور حماقت کو سچ مان کر اس سے اچھے کی امید رکھنا حماقت سے آگے کی چیز ہے۔
آج اگر کوئی نظریہ، فلسفہ یا مذہب مر رہا ہے تو فطری موت مر رہا ہے۔ اس کو مرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بلکہ اگر وہ مر رہا ہے تو یہ سمجھ لیجیے کہ اس میں اب حیات کی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے۔ اور جس نظریے، عقیدے، فلسفے یا مذاہب میں حیات کی ضرورت کو پوری کرنے کی صلاحیت نہ ہو، بلکہ وہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے لگے تو اسے متروک قرار دے کر اس کو اجتماعی سطح پر رد کر دینا حیات پر بہت بڑا احسان ہو گا۔ لہذا اگر کوئی فرد، قوم یا اقوام ان اضافی چیزوں کو حیات کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہیں تو انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھیے کیونکہ یہی نظریاتی جنگ کی سب سے بڑی جیت ہوگی۔


