ہائے کیا دور تھا جو بیت گیا
ہمارے بچپن میں لاہور رومانس کا شہر تھا۔ اکثر گھروں میں ریڈیو تھے جن سے مدھ بھرے گیت کانوں میں رس گھولتے تھے اور گلیوں میں خوبصورت موسیقی رقص کرتی محسوس ہوتی تھی! ہم بچے بھی خوبصورت دھنوں کو محسوس کرتے اور ہمارے دل موسیقی کی رم جھم میں تھرکتے رہتے تھے۔
بیڑی دتی ٹھیل ای اوئے محبتاں دا میل ای اوئے
رب نے کرایا ساڈا پتناں تے میل ای اوئے
(محبت کرنے والوں نے اپنی کشتی پانی میں ڈال دی ہے
خدا نے پیار کرنے والوں کا ملاپ دریا کے کناروں پر کرا دیا ہے )
ہر طرف ٹھنڈا ٹھنڈا سا ماحول تھا۔ سڑکوں پر جو افراتفری اور غدر کی کیفیت آج نظر آتی ہے، اُس زمانے میں کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔
ہم باغبانپورہ سے گڑھی شاہو اپنے سکول جانے کے لئے ڈبل ڈیکر بس پر سفر کیا کرتے تھے۔ آج کل یہ شاید حیرت کی بات ہو کہ بسیں اُس زمانے میں بھی مسافروں سے بھری ہوئی ہوتی تھیں۔ گورنمنٹ کی ان بسوں کو اومنی بس سروس کہا جاتا تھا۔ کنڈیکٹرز ہر ٹکٹ پنچ کر کے دیتے تھے۔ ٹکٹ کی ایک طرف سٹاپس لکھے ہوتے تھے اور دوسری طرف عجیب و غریب جناتی زبان میں کچھ شرائط اور ہدایات لکھی ہوتی تھیں جنہیں شاید ہی کوئی پڑھتا ہو۔
ان دنوں ہمیں محسوس ہوتا تھا کہ پاکستان کی آبادی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ریڈیو پر چلنے والا ’خاندانی منصوبہ بندی‘ کا ایک اشتہار بہت مشہور تھا۔ ’پاکستان دی آبادی ڈبل تھی گئی اے‘ (پاکستان کی آبادی ڈبل ہو گئی ہے ) ۔ جگہ جگہ خاندانی منصوبہ بندی کی ہورڈنگز لگی ہوئیں نظر آتی تھیں۔ اگر آج کے گھمسان کے رش کو دیکھیں تو وہ آبادی کچھ بھی نہیں تھی۔ لیکن اس زمانے میں رش زیادہ لگتا تھا اور صبح کے وقت بسوں پر چڑھنا بہت مشکل تھا۔
لوگ دروازوں کے باہر تک لٹکے ہوتے تھے۔ شاید اس وقت کی آبادی کے لحاظ سے بسوں کی تعداد خاصی کم تھی۔ جیسے ہی بس سٹاپ پر آتی، لوگ پاگلوں کی طرح اس کی طرف دوڑ پڑتے تھے۔ ایسی دھکم پیل ہوتی کہ خدا کی پناہ۔ جس کی ہمت ہوتی وہ بس پر سوار ہو جاتا۔ زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ جس میں ہر شخص کی اپنی دوڑ ہے۔ کسی نے بس پالی اور کسی نے کھو دی۔ بسوں پر چڑھنا باقاعدہ ایک فن تھا۔ میرا بھی یہی معمول تھا کہ جیسے ہی بس آ کر سٹاپ پر رکتی، میں بھی بھاگ کر سوار ہونے کی کوشش کرنے لگتا۔
خصوصاً صبح کے وقت رش زیادہ ہوتا تھا کیونکہ سکول، کالج اور آفسز کے کھلنے کا ایک ہی وقت ہوتا تھا۔ اس میں یہ بھی تھا کہ جو پہلے سوار ہو جاتا وہ بس پر دوسرے چڑھنے والے کا بھی ہاتھ تھام لیتا تھا۔ چلتی ہوئی بس سے گرنے سے بچانے کے لئے لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ روزانہ ایک ہی بس سٹاپ پر بس کا انتظار کرنے والے ایک دوسرے سے اچھے خاصے شناسا ہو جاتے تھے۔ اس زمانے میں جی ٹی روڈ اتنی چوڑی نہیں تھی مگر سلور کلر کے الیکٹرک پولز نو آبادیاتی نظام کی یاد گار کے طور پر موجود تھے۔ ان پولز پر وکٹورین سٹائل کے قمقمے لگائے گئے تھے جنہیں شام ہوتے ہی روشن کر دیا جاتا تھا۔
میرے ساتھ میرے محلے کا ایک اور لڑکا بھی پڑھتا تھا۔ اسحاق نام تھا اس کا۔ سانولا رنگ، لمبا قد لیکن پڑھائی میں تھوڑا کمزور تھا۔ میں ساتویں جماعت میں تھا تو وہ نویں میں تھا۔ ہماری دوستی بھی بہت تھی۔ ہم اکٹھے سکول جاتے اور واپس آتے۔ مزید کچھ واقعات میں اس کا ذکر بھی آئے گا۔
ایک دن ہم سکول سے بذریعہ ڈبل ڈیکر بس پر واپس گھر آرہے تھے۔ وہاں ہمارا ایک اور محلے دار منیرا بھی سفر کر رہا تھا۔ وہ اور ایک دوسرا شخص، جسے ہم جانتے نہیں تھے، کسی مسئلے پر الجھ رہے تھے۔ پھر وہ بحث کرتے کرتے ہاتھا پائی پر اتر آئے۔ بس کے اندر اور مسافر بھی تھے۔ ان کی دھکم پیل سے عجیب صورت حال پیدا ہو گئی۔ منیرا 25۔ 20 سال کا ہو گا اور دوسرا شخص 45۔ 40 کا۔ کنڈیکٹر نے بس رکوا کر دونوں کو نیچے اتار دیا۔ میں اور اسحاق بھی نیچے اتر گئے اور للکار کر کہا کہ منیرے تونے گبھرانا نہیں۔ ہم ہیں نا تمہارے ساتھ۔ اس بندے کو مل کر مارتے ہیں۔ منیرے نے ہمیں منع کر دیا۔ بس سے باہر نکل کر وہ دونوں بحث کرتے کرتے پھر گتھم گتھا ہو گئے۔ منیرے نے اس کو سڑک پر پٹخ دیا۔ میں بڑا حیران ہوا کیونکہ دیکھنے میں منیرا چھیٹکا سا لگتا تھا اور وہ شخص صحت مند نظر آ رہا تھا۔ لڑائی کا تماشا دیکھنے کے لئے کافی لوگ جمع ہو گئے تھے۔ کچھ فاصلے پر ایک موٹا سا شخص فٹ پاتھ کے قریب درخت کی چھاؤں میں ایک چار پائی پر بیٹھا ہوا تھا۔
اس سے پہلے میں ذکر کرنا بھول گیا ہوں کہ اس زمانے میں جی ٹی روڈ گھنے درختوں سے گِھری ہوتی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف باڑیں اور خوبصورت پھولوں والے پودے لگائے جاتے تھے۔ اور ان پودوں کا باقاعدہ خیال رکھنے کے لئے عملہ متعین تھا۔ بعد کے سالوں میں سڑک کی بار بار توسیع کی گئی جس کے نتیجے میں وہ پودے اور باڑیں ختم ہو گئیں اور درخت بھی کٹتے گئے۔ اب تو صرف سڑک، دھوپ اور بے ہنگم ٹریفک ہے۔ یا سمنٹ کے بنے ہوئے گھر اور دکانیں رہ گئی ہیں۔
اس چارپائی پر بیٹھے ہوئے شخص نے، جس کی بھاری آواز تھی، کڑک کر ان کو حکم دیا کہ وہ دونوں لڑائی بند کر کے اس کے پاس آئیں اور مسئلہ بتائیں۔ کہنے لگا کہ ’میں تہاڈا فیصلہ کر دینا واں‘ (میں تمہارا فیصلہ کر دیتا ہوں ) ۔ منیرے اور دوسرے شخص نے گھبرا کر ایک دوسرے کو چھوڑ دیا۔ موٹو پھر کڑک کر بولا کہ ادھر اس کے سامنے کھڑے ہو جاؤ اور بتاؤ معاملہ کیا ہے۔ منیرا بولا کہ جی اس بندے نے اس کا لکّا کبوتر پکڑ لیا یے اور اب واپس نہیں کر رہا۔
وہ بندہ بولا منیرے نے بھی اس کی جون سری کبوتری پکڑی تھی اور واپس نہیں کی تھی حالانکہ وہ اس سے پہلے منیرے کا ہر کبوتر واپس کرتا رہا تھا۔ وہ موٹو شخص گرج کر بولا اوئے تم دونوں کبوتر باز ہو؟ ادھر سے بھاگ جاؤ ورنہ میں تم دونوں کو بہت ماروں گا۔ پھر لوگوں سے کہنے لگا نکلو ادھر سے تم بھی۔ یہ تو کبوتر باز ہیں۔ اس کے بعد منیرا اور وہ بندہ بحث کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ گرم ماحول کی ٹھنڈی ٹھنڈی سڑک پر میں اور اسحاق بھی کھسک لیے۔
ہائے کیا دور تھا جو بیت گیا
اب جو سوچوں تو آنکھ بھر آوے


