اڈوولف ہٹلر کے آخری ایام
اپریل 1945 کے آخری ایام میں دوسری عالمی جنگ اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ کب ہٹلر کو احساس ہوا کہ جرمنی یہ جنگ جیت نہیں سکتا اور اس کی زندگی کا بھی خاتمہ ہونے والا ہے۔
ہٹلر نے، اٹھائیس اپریل انیس سو پینتالیس، ریڈیو پر سنا کہ اس کا قریبی ساتھی اور ایس۔ ایس۔ رائیخس لیڈر، ہائنرخ ہملر، اتحادیوں سے مذاکرات کر رہا ہے تو وہ دل برداشتہ ہو گیا۔ اس سے پہلے بھی ہٹلر کے تقریباً تمام قریبی ساتھی اس کو چھوڑ چکے تھے۔ ہٹلر نے ہملر کو نازی جماعت سے نکالنے اور گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا۔
جرمن مورخ فولکر ہائزے اپنی کتاب ”انیس سو پینتالیس۔“ میں، ہٹلر کی سیکریٹری ٹراؤڈل یونگے کے علاوہ دیگر مختلف ذرائع؛ پرائیویٹ ڈائریوں، پروٹوکول، اور اوریجنل ڈاکومنٹس کے حوالے سے، لکھتے ہیں کہ ہٹلر نے رائیخس یوگنڈ لیڈر، آرتھر اکسمان سے کہا کہ وہ اب صرف اپنی محبوبہ، ایوا براؤن اور بلنڈی نامی شیفرڈ کتیا پر ہی بھروسا کر سکتا ہے۔ آخری وقت، ہٹلر کے بنکر میں، اس کی محبوبہ ایوا براؤن، اس کی سیکریٹری ٹراؤڈل یونگے، اس کا پراپیگنڈہ منسٹر جوزف گوئبلز بمعہ فیملی اور آرتھراکسمان وغیرہ، موجود تھے۔
جنگ سے بچنے کے لئے، ساڑھے آٹھ میٹر سطح زمین سے نیچے بنایا گیا، ہٹلر بنکر، جسے جنگ کے خاتمے پر روسی حکومت نے دھماکے سے اڑانے کی، روبسٹ تعمیر کی وجہ سے، ناکام کوششیں کی تھیں، اور جسے نوے کی دہائی میں بالآخر بند کر دیا گیا تھا، برلن کے و لہلم/ ووس اسٹراسے کے قریب واقع، آج بھی سیاحوں کے لئے پُرکشش جگہ ہے۔ یہ اب ایک پارک نما حصہ ہے جہاں پر صرف کچھ معلومات لکھی ہوئی ہیں۔
انتیس اپریل کو ہٹلر نے اپنی سیکریٹری ٹراؤڈل یونگے کو وصیت نامہ لکھنے کو کہا۔
وصیت نامہ کے سیاسی حصے میں، ہٹلر، جس کے ہاتھ، ساٹھ سے ستر ملین انسانی خون سے رنگے ہوئے تھے، بین الاقوامی راہنماؤں، جو بقول ہٹلر یہودیوں کی پشت پناہی کر رہے تھے یا جن کے آبا و اجداد یہودی تھے، کو جنگ کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ ہٹلر اپنے آپ کو جنگ شروع کرنے کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا۔ ہٹلر اپنا جانشین اور رائیخس پریزیڈنٹ، بگ ایڈمرل کارل ڈؤنٹس جبکہ رائیخس چانسلر، جوزف گوئبلز کو مقرر کرتا ہے۔
وصیت کے پرائیویٹ حصے میں، ہٹلر اپنا اور ایوا براؤن کی خودکشی کا عندیہ دیتا ہے۔ تاکہ انہیں جرمنی کی ممکنہ عبرتناک شکست کی ہزیمت نہ اٹھانی پڑے۔ اور یہ کہ دونوں لاشیں جلا دی جائیں۔ وصیت نامہ لکھوانے کے بعد ہٹلر اپنی طویل المدتی محبوبہ، ایوا براؤن سے ”شادی“ کرتا ہے جہاں شیمپین پی جاتی ہے۔
روسی فوج نے، برلن، چاروں اطراف سے گھیر رکھا ہے اور پیش قدمی جاری ہے۔ ہٹلر، اپنے برلن سرکاری ضلع کے چیف، و لہلم موہنکے سے، روسی فوج کی معلومات لیتا ہے جو بیس سے چوبیس گھنٹے تک برلن فتح ہونے کا کہتا ہے۔
ہٹلر نے دو بجے بعد دوپہر ایک سنیک کھایا اور تین بجے سب کو یہ کہہ کر الوداع کہا کہ اب میرا اور جرمنی کا آخری وقت آ چکا ہے میں جرمنی کی شکست برداشت نہیں کر سکتا۔ اور ایوا براؤن کے ساتھ اپنے پرائیویٹ کمرے میں چلا جاتا ہے۔
تیس اپریل، ہٹلر سلیپنگ سوٹ، چپل اور سیاہ ریشمی مارننگ گاؤن پہنے، ایوا براؤن کے ساتھ، بنکر کے بیرونی دروازے پر آخری دفعہ زندہ دیکھا گیا تھا۔
مورخین ( بحوالہ سیکریٹری ٹراؤڈل یونگے اور دوسرے گواہان) کے مطابق، یک دم ایک زور دار آواز سے بنکر میں خاموشی چھا جاتی ہے۔
ایڈجوٹینٹ اوتو گنشے کے مطابق ہٹلر، صوفے پر مردہ پایا گیا تھا۔ لیکن آرتھر اکسمان کے مطابق اس کی لاش ایک آرام دہ کرسی پر تھی۔ وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ ہٹلر نے اپنی کنپٹی یا منہ میں گولی ماری تھی؟
بعض مورخین کے مطابق، ہٹلر نے، الوداعی ملاقات کے وقت، بنکر میں موجود لوگوں میں زہر کے کیپسول، جسے اس نے پہلے اپنی شیفرڈ کتیا بلنڈی کو دے کر تجرباتی طور پر مشاہدہ کیا تھا، تقسیم کیے تھے۔
قریباً چار بجے، ایس ایس سپاہی اور ہٹلر کے قریبی ساتھی مارٹن بورمن، ہٹلر اور ایوا براؤن کی لاشوں کو ایمرجنسی گیٹ سے گھسیٹتے ہوئے بنکر کے گارڈن تک لائے جہاں انہوں نے دونوں لاشوں کو جلایا۔
رات گیارہ بجے، ہٹلر اور ایوا براؤن کی جلی ہوئی لاشوں کی باقیات، خیمہ ترپال میں ڈال کر زمین کے اندر پھینکیں گئیں اور اوپر مٹی ڈال دی گئی تھی۔
رات دس بجے کر چالیس منٹ پر، رائیخس تاگ عمارت پر روسی پرچم لہرا رہا تھا۔
دو مئی انیس سو پینتالیس، صبح سات بج کر پچاس منٹ پر، جرمن کمانڈر انچیف نے جرمنی کی شکست کو قبول کرتے ہوئے ڈاکومنٹس پر دستخط کیے جس سے مار کٹائی، قتل و غارتگری کے خاتمے کے ساتھ دوسری عالمی جنگ کا بھی خاتمہ ہو گیا تھا۔







