دیواروں سے باتیں

شاعری کی صنف میں میں دیواروں سے باتیں کرنا تو بہت سنا تھا لیکن یہ باتیں میں نے پہلی دفعہ ہوتے ہوئے سنی بھی ہیں اور دیکھی بھی۔ میں آپ کو اپنی آنکھوں دیکھی حقیقی روداد پیش کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ دیواروں سے باتیں کرنا حقیقت میں بھی خوبصورت ہے۔ مزید یہ کہ شاعری میں تو یہ خیال استعارہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور غالب گمان یہی ہوتا تھا کہ یہ پاگل پن کی کیفیت ہوتی ہے یا پھر مکمل پاگل پن مگر حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں۔
عرصہ دو سال سے ہمارے اسکول میں ایک استاد کا تقرر بذریعہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن ہوتا ہے۔ اس استاد کا تعلق شعبہ فنون لطیفہ سے ہوتا ہے۔ تقرری کے ساتھ ہی وہ اسکول کی روزمرہ کی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔ سب لوگ اسے جذبات سے خالی چند رسمی جملوں کے ساتھ خوش آمدید کہتے ہیں اور فنون لطیفہ کے نئے استاد بھی ویسی ہی رسمی اور بے رخی مسکراہٹ کے ساتھ اظہار تشکر کرتے ہیں۔
اس کے بعد وہ استاد اپنی پرچی پکڑ لیتے ہیں اور سکول کی گھنٹی کے سامعین میں ایک اور بھاری بھرکم وجود کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسکول کی گھنٹی سب کی طرح اسے بھی تحریک دینا شروع کر دیتی ہے مگر اس کے اندر سمایا ہوا فنون و ادب اسے بے چین اور بے قرار کرتا ہے۔ اس کے تاثرات سے اس کی بے چینی ہمیشہ عیاں رہتی ہے۔ مگر کمرہ جماعت کے اندر اس کا اعتماد بے مثال ہوتا اور روایت کے بر عکس، چند ہی ہفتوں میں طلبہ کے ساتھ ایسے گھل مل گئے جیسے رنگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو شاہکار بنتے ہیں۔ پھر وہ ہر کلاس سے نگینوں کی تلاش میں لگ گئے۔
یہ سب دیکھتے ہوئے میرا تجسس بھی بڑھا اور میں اپنی روایتی برتری ترک کر کے ان سے مخاطب ہوا تاکہ اس کے ساتھ ایک جامع تعارف ہو سکے۔ بات کرنے پر معلوم ہوا کہ بندہ تو نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے فارغ التحصیل ہے رنگوں کی زبان سے اس کی شناسائی بہت زیادہ ہے اور رنگ ہی اس کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ہم نے پہلی ہی ملاقات میں بہت ساری باتیں کر لیں بلکہ یوں کہیے کہ میری باتیں پہلی ہی ملاقات میں ختم ہو گئی تھیں کیونکہ میں تو مجرد آرٹ، امپریشنزم، ڈاڈازم، منملزم، ابسرڈازم، وغیرہ کے علاوہ تو کچھ جانتا نہیں تھا مگر وہ رنگوں کا کھلاڑی اور آرٹس کے تمام نظریات سے شناسا بندہ، میں نے تو خاموشی میں عافیت جانی۔
اس کے بعد اس استاد کا واسطہ پرنسپل سے پڑتا ہے اور ان کی گفتگو اسکول کی حالت زار پر ہوتی ہے۔ ان کا موضوع تو اسکول کی ظاہری حالت کو بہتر کرنا ہوتا ہے مگر استاد صاحب کی اپنی حالت بہتر ہو جاتی ہے اور اس کی بے قراری کو قرار آ جاتا ہے۔ اس کا اسکول میں ہونا اسے سود مند لگنے لگتا ہے۔
پرنسپل اور استاد ایک دوسرے کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔ فنون لطیفہ کے استاد اپنے طے شدہ معاملات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں جت جاتے ہیں جبکہ پرنسپل اپنے وعدے کے مطابق ہر چیز مہیا کرتے ہیں۔
پھر چند ہی دنوں میں ایک سرکاری اسکول کے در و دیوار اور پچوں میں فنون و لطیفہ کی حقیقی تصاویر نظر آنے لگتی ہیں اور اسکول حقیقت میں رنگ و بو کا آئینہ دار بن جاتا ہے۔
یہ ایک مختصر ترین میزانیہ ہے دو بندوں کے خلوص اور استاد کی محنت اور قربانی کا۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ایک مخلص، محنتی اور بے لوث انسان سے اتنا فرق پڑ سکتا ہے تو سوچیں اگر ہر ادارے کے لوگ اس تندہی کے ساتھ کام کریں تو ہم یقیناً نئے جہاں پیدا کریں گے۔
اک استاد، اک دیا، اک فن قوم کی تقدیر بدلنے کے لیے کافی ہے۔

