آج کا دن مزدوروں کے نام                                   


نظام کے بدلنے تک اب یہ درد سہنا ہے
مزدور کے بچے کو مزدور ہی رہنا ہے
آج یکم مئی عالمی یوم مزدور ہے لیکن مزدور کے علاوہ سب ہی کو چھٹی ہے کیونکہ اگر مزدور ایک دن بھی چھٹی کرے گا تو فاقوں سے مر جائے گا۔ مزدور وہ ہے جو محنت کرتا ہے تو باقی دنیا کھاتی ہے اور وہ خود بھوکا رہتا ہے ۔ یہ دنیا قائم ہی مزدور کی وجہ سے ہے لیکن بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ ہمارا سماج بہت ہی دھوم دھام یوم مزدور مناتے ہیں فوٹو شوٹ کرتے ہیں اور رات گئ بات گئ اب تو یہ عالم ہے کہ سرکاری سطح پر ہر سال ایک دفعہ سرکار مزدوروں  کو لالی پاپ دے کر یہ گئے وہ
بوجھ کاندھوں سے کم کرو صاحب
دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا
آج میں اس معاشرے کے ہر ذی شعور انسان کے آگے یہ سوال رکھنا چاہتا ہوں جو ہاتھ گندم اگاتے ہیں وہ دو وقت کی روٹی کی خاطر اپنی زندگیاں گنوانے پہ مجبور کیوں،  جو ہاتھ چولہے بناتے ہیں ان کے چولہے ٹھنڈے کیوں،  آج ہر وہ کسان سوال کرتا ہے آپ سے جو ہل چلا کے کھیتوں کو سجاتے ہیں لیکن ان کے بچے بھوکے کیوں ہیں۔آج کا دن ان مزدوروں کے نام جنھوں نے سب کے گھر بنائے لیکن ان کا اپنا کوئی گھر نہیں۔آج کا دن ان کارخانوں کے مزدوروں کے نام جو فیکٹری مالکان کو ہر سہولت میسر کرتے ہیں لیکن خود بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ یوم مزدور پہ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہمیں مزدور کو جاننے کا حق دینا ہو گا۔ اسے یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے سپنے کیوں ٹوٹ رہے ہیں۔
آج مزدور کے پاوں آپ سے سوال کرتے ہیں کہ انھیں کیوں گاوں گاوں میلوں میل پیدل چلنا پڑتا ہے کیوں ان کے لیے سواری کا حق نہیں۔ آج مزدور کا  ہاتھ آپ سے سوال کرتا ہے کیوں اس کے ہاتھ پہ چھالے تو ہیں لیکن معاوضہ نہیں ہے۔ آج مزدور کی آنکھ آپ سے پوچھ  رہی ہے اسے علاج کی سہولت کیوں میسر نہیں اور اس کے بچے بلک بلک کر مر جاتے ہیں۔ آج مزدور کے دل کی دھڑکن دھڑک دھڑک کر یہ صدا لگا رہی ہے کہ کیوں اسے اپنے سپنے پورے کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ آج کا مزدور اک سوالیہ نشان بنا بیٹھا ہے کیوں بڑے بڑے ڈیم بنائے جا  رہے ہیں لیکن اس کی فصل میں ہریالی نہیں ہے۔ آج کا مزدور جاننا چاہتا ہے کیوں اسے آلودہ ماحول میں سانس لینا پڑتا ہے۔ آج مزدور کی بیٹی آپ سے سوال کرتی ہیں کیوں جہیز جیسی لعنت کی وجہ سے شادی کے حق سے محروم ہے۔ آج کا دن اقبال مسیح کے نام جس نے اپنا حق مانگتے ہوئے اپنی جان گنوا دی۔ آج مزدور کے بچے اپنی آنکھوں میں روشن مستقبل کا خواب لیے بڑے گھروں کے بچوں سے حسرت بھری نگاہوں سے یہ پوچھنے پہ مجبور ہیں کیوں ان کے ہاتھ میں قلم کتاب کے بجائے اینٹیں اٹھا رکھی ہیں۔ آج کا دن شکاگو کے مزدوروں کے نام، آج کا دن پاکستان کے ان کروڑوں مزدوروں کے نام جنھوں نے اپنے حق کے حصول کے لیے اپنی جانیں گنوا دیں۔ آج کا دن دادا امیر حیدر ،جام ساقی ، دادا امیر حیدر، کاکا جی صنوبر،دادا فیروز الدین منصور، افضل بنگش اور میجر اسحاق کے نام۔
آج یکم مئی کے موقع پر اپنے مزدور بھائیوں کے آگے بھی اک سوال رکھنا چاہتا ہوں کیوں وہ چند ہاتھوں کے آگے مجبور ہیں، وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو موڑ کے اٹھا کیوں نہیں دیتے،اپنے حق کے نعرے گاتے ہوئے آسمانوں کو چھو کیوں نہیں لیتے، اپنے حق کے لیے ظالم سے لڑ کیوں نہیں جاتے۔ مزدوروں کے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں اور پانے کے لیے پوری دنیا مزدور کو بس ہمت، لگن اور حوصلے کی ضرورت ہے اور وہ وقت دور نہیں جب مزدور اپنے تمام حقوق حاصل کر لے گا۔
Facebook Comments HS