اپنے بچوں کے سکول میں پڑھانے والی مائیں


کوئی ایک نہیں بے شمار باصلاحیت، زمانے میں کچھ کر دکھانے والی،حوصلہ مند،باہمت خواتین جو بچے پیدا ہونے کے بعد صرف اس لیے سکول میں ٹیچنگ اختیار کرتی ہیں کہ ان کے بچے ان کی نظروں کے سامنے رہیں گے اور ان کے بچوں کی فیس میں کچھ رعایت بھی ہو جائے گی۔بچے نظروں کے سامنے رہیں اس کے لیے اس کے خواب، نیند، آرام، چین صبح صبح طلبا کے حاضری رجسٹر میں حاضری لگوا دیتے ہیں۔ اس کی خوشیاں، خواہشات،جذبے، پسند ناپسند ہفتے وار پلاننگ کے رجسٹر میں سب سے نیچے تجزیاتی جملوں میں مدغم ہو کر طلبا کی بہتری کی یاد دہانی میں مارک کر دیے جا تے ہیں۔ اس کی بھوک، پیاس کینٹین سے اپنے بچوں کی چیزیں لیتے وقت کھاتے کے رجسٹر میں مر جاتی ہیں۔امتحانی پرچوں کو ترتیب دیتے اور پھر چیک کرتے وہ بیمار باپ کو فون کرنا، ماں کو تسلی دینا بھول جاتی ہے۔ اس کے احساسات، جذبات اس تیزی سے مٹتے ہیں جس تیزی سے وہ بے خیالی میں ہاتھ کی ہتھیلی سے وائٹ بورڈ سے کبھی سیاہ، کبھی نیلے الفاظ مٹا ڈالتی ہے۔

ہانیہ، رابعہ، سبین، فاریہ، نغمانہ، بشریٰ، شیبا، عائشہ، سدرا، منزہ، غزالہ، شزا، لبنیٰ، مریم، ندا، صباحت نام میں کیا رکھا ہے۔ سکول میں ماں کا نام بچے کے حوالے سے اور ٹیچر کا نام تو اس کے سبجیکٹ کے حوالے سے یاد رکھا جا تا ہے۔

چلئے آپ کو ان ٹیچرز سے ملائیں۔

ہانیہ نے ایم بی بی ایس کیا، اب بیالوجی پڑھا رہی ہے، رابعہ نے ایل ایل بی، وکالت کی چاو میں کیا، اب پاکستان سٹڈیدیز پڑھا رہی ہے۔ سبین بینک میں جاب کرنا چاہتی تھی، اب سکول میں اکنامکس پڑھا رہی ہے۔ فاریہ نے سائیکالوجی پڑھی تھی، اب اسلامیات پڑھا رہی ہے۔ نغمانہ نے سی اے کیا۔ بہترین جاب ملی۔شادی کے بعد بچے کی پیدائش میں کچھ مسائل ہو ئے۔ ڈاکٹرز نے مکمل بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا۔ دو بیٹے ایک بیٹی کے بعد مصروف رہنے اور بچوں کے تحفظ کے پیشِ نظر ٹیچنگ ہی بہتر آپشن تھا۔ بشریٰ کو باہر جا کر پڑھنے کا شوق تھا۔مگر شادی کے بعد اب ریاضی پڑھا رہی ہے۔ شیبا کو صحافی بننے کا شوق تھا، اردو پڑھا رہی ہے۔ عائشہ یو نیورسٹی میں جاب کے خواب دیکھ رہی تھی لیکن خوابوں نے بچے کی انگلی پکڑ کر سکول کا رستہ دکھا دیا۔ سدرا فیشن ڈیزائننگ کر کے بوتیک کھولنا چاہتی تھی وہ کیمسٹری پڑھا تی ہے، غزالہ نے ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرز کیا تھا، ایک چینل پر پروڈیوسر تھی۔ شادی اور بچوں کے بعد سکول جوائن کیا اور اب انگلش پڑھا رہی ہے۔ شزا کو ٹیچنگ سے نفرت تھی، وہ بزنس کرنا چاہتی تھی، شادی ہو گئی، گھر پر بچوں کو کون دیکھتا، اب بزنس کرنے کے بجائے پڑھا بھی رہی ہے اور دیکھ بھی رہی ہے۔

بہت زیادہ پڑھی لکھی باصلاحیت ٹیچرز ہوں تو ہیڈ مسٹریس کو بھی اپنا مستقبل خطرے میں نظر آتا ہے۔ اپنے سے کہیں قابل اساتذہ کے ساتھ ان کا رویہ نہایت ہتک آمیز ہو تا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ سکول چھوڑ جائیں مگر بچوں کی خاطر یہ مائیں سب کچھ برداشت کرتی ہیں۔بچے نظروں کے سامنے رہیں، فیس میں رعایت ہو۔ ذاتی مفاد سوچنے والی اس خود غرض عورت کو ٹیچر اور ماں ہونے کی کیسی کڑی سزا بھگتنی پڑتی ہے جس کا آپ تصور نہیں کر سکتے۔

پیر کے انگوٹھے سے لے کر سر کے بال تک جسم تھکن سے چور،اعصاب ہیڈ مسٹریس کے کچوکوں سے شل اور روح اونرز کے کبریائی احکامات سے زخمی۔ یہی نہیں۔ یہ وہ ماں ہے جو اپنے ساتھی ٹیچرز سے، اپنے بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور رویوں کی شکا یات سننے کے لیے ہمہ وقت موجود۔ مس! آپ کے بچے کی رائٹنگ بہت خراب ہے،مس! آپ کے بچے نے فلاں بچے کو تھپڑ مار دیا،مس! آپ کے بچے کو آج سبق یاد نہیں تھا،مس آج آپ کے بچے نے پانی گرا دیا،مس! آپ کی بیٹی ہر وقت روتی رہتی ہے، مس!آپ کے بیٹے نے ٹیسٹ کی تیاری نہیں کی تھی۔۔۔

اس کا رگڑا گھر اور سکول دونوں میں لگتا ہے۔ رات کو بچوں اور شوہر کے جوتے پالش کپڑے استری، بچوں کے بیگ پیک کر کے کتنی ہی دیر سے سوئے، صبح سویرے بچوں اور شوہر کے جاگنے سے پہلے اٹھ جاتی ہے۔ لگتا ہے جیسے ہاتھوں میں پر لگ گئے ہیں ایک گھنٹے کے اندر اندر ناشتہ بنا کر بچوں کے بیگ میں ان کا لنچ رکھ کر شوہر کی تمام چیزیں اس کے سامنے رکھ کے بچوں کو جگانے کے بعد ان کو تیار کر کے ان کا کھانا میز پر لگا کر خود بھاگم بھاگ ایک دونوالے لیتی ہے اور سکول کے لیے بچوں کے ساتھ نکل پڑتی ہے۔

جس ٹیچر کے بچے رعایت میں سکول پڑھ رہے ہوں اسے کسی قسم کی رعایت نہیں ملتی۔ کیوں ملے ، معلوم ہے کہ ماں ہے…. بچے اسی سکول میں پڑھتے ہیں۔ مالی تنگی بھی ہے۔ نوکری پر لات نہیں مار سکتی۔ مینجمنٹ اس کے پاو¿ں کی بیڑی میں گتھے ہر کڑے کی مضبوطی سے واقف ہے۔

ایسی ٹیچر کو روبوٹ سمجھا جاتا ہے جس کے جذبات ہوتے ہیں نا احساسات۔ اسے بھگائیں، دوڑائیں سب کے سامنے ذلیل کریں ایک وقت میں وہ مختلف قسم کے کام کرے، روبوٹ کو فرق کیا پڑتا ہے۔

اب ہمارے بچے بڑے ہو گئے ہیں ہم اس دور سے نکل آئے ہیں لیکن جب ہم اس ٹیچر ماں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنا وہ دور یاد ا ٓجاتا ہے جب ہم بھی روبوٹ ہوا کرتے تھے۔

Facebook Comments HS