پاک و ہند تناؤ: جوش میں ہوش کی ضرورت


 

22 اپریل 2025 کو نامعلوم دہشت گردوں نے ایک ظالمانہ حملہ کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع انت ناگ کی بستی پہلگام سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر بیسراں کے پر فضا سبزہ زاروں میں 25 سیاحوں اور ایک مقامی باشندے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جس دن یہ سانحہ پیش آیا اس وقت وہاں پر 2000 سے زائد سیاح موجود تھے۔ مستند میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وحشیانہ حملے میں 20 افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔ بیسراں جس کو اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے کشمیری سوئٹزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے، ایک دُشوار گزار علاقہ ہے۔ ذرائع رسل و رسائل نہ ہونے کے برابر ہیں اور پہلگام سے پیدل یا گھوڑوں پر سوار ہو کر ہی وہاں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اس دشواری کے باعث ابتدائی طبی امداد میسر نہ آ سکی اور نہ ہی زخمیوں کو بر وقت ہسپتالوں میں پہنچایا جا سکا۔ جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔ بیسراں میں ہلاک ہونے والوں کا تعلق کسی بھی رنگ، نسل یا مذہب سے ہو، وہ بہرحال انسان تھے۔ ایک انسان دوست ہونے کے ناتے میرا دل خون کے آنسو روتا ہے اور میں اس بربریت کی پُر زور مذمت کرتا ہوں۔

اس حملے کے محرکات کیا ہیں؟ اصل حقیقت ایک غیر جانب دارانہ تحقیق سے ہی سامنے آ سکتی ہے۔ بشرطیکہ دونوں ایٹمی ہمسائے جوش سے زیادہ ہوش سے کام لیتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے تعاون کرنے پر تیار ہوں۔ مگر اس کے بر عکس بدقسمتی سے بغیر کچھ سوچے سمجھے ہندوستانی حکومت نے اس واقعے کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالتے ہوئے اس کے خلاف سخت اقدامات کا یک طرفہ فیصلہ کر لیا۔ ان اقدامات میں سب سے بڑا قدم 6 دہائیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان چلے آ رہے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا تھا۔ اس کے جواب میں پاکستان کی طرف سے بھی اقدامات کیے گئے جن میں سب سے بڑا قدم ہندوستانی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود بند کرنا تھا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیرِ دفاع نے ہندوستان کی جانب سے جنگ شروع کرنے کے شدید خطرے کا نقارہ بجا دیا ہے۔ دوسری طرف ہندوستان کے وزیر اعظم نے اپنی افواج کے سپریم کمانڈر کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ جہاں چاہیں اور جب چاہیں پاکستان پر حملہ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا دونوں ایٹمی ہمسائیوں کے درمیان امن کی صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان عدم اعتماد کی ایک تاریخ موجود ہے۔ یہ فضا دونوں ملکوں کے قیام کے وقت سے چلی آتی ہے۔ اس کی جڑیں تقسیم ہند کے دوران وسائل کی تقسیم، پنجاب میں ہندو مسلم اور سکھ مسلم فسادات، رن آف کچھ اور تنازعہِ کشمیر میں ملتی ہیں۔ آگے چل کر دونوں اطراف کے حکمرانوں نے کشمیر ایسے تنازعات کو اپنی سیاست کو بڑھاوا دینے کا ذریعہ بنا لیا۔ یہ روش آج تک قائم ہے۔ اسی لیے مسئلہ کشمیر کو کبھی بھی سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ جس کی وجہ سے عدمِ اعتماد کی خلیج بڑھتی چلی گئی۔ دونوں ایٹمی ہمسائے کشمیر کے حوالے سے ماضی میں تین جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ہاتھوں مختلف اوقات میں دونوں اطراف میں دہشت گردی کے واقعات نے باہمی رقابت کو مزید ہوا دی ہے۔

حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ دونوں اطراف کے میڈیا چینلز اور جذباتی عوام ہیں۔ جو اپنی اپنی حکومتوں پر ہر دو جانب سے مخالف ریاست کو سبق سکھانے پر زور دے رہے ہیں۔ جب کہ دونوں اطراف کی حکومتیں عوام کی نبض کو سمجھتی ہیں اور ان کی نظر میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو دھمکا رہی ہیں۔ اس موقع پر عوام کے جذبات بھڑکانے کے لیے دونوں اطراف کے میڈیا  ہاؤسز نہایت منفی کردار ادا  کر رہے ہیں۔ کس قدر بد قسمتی کی بات ہے کہ میڈیا ہاؤس کی ریٹنگ بڑھانے اور چند ٹکے کمانے کے لیے اپنی قوم کا امن، خوشحالی اور حفاظت داؤ پر لگا دی جائے۔ میں نے بہت سے ذمہ دار صحافیوں کو مختلف چینلز پر پاکستان کے میزائلوں کی اقسام اور رینج بتاتے ہوئے خود دیکھا ہے۔ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے تمام شہر پاکستانی میزائلوں کی زد میں ہیں۔ دوسری طرف ہندوستانی صحافی کہاں پیچھے رہنے والے ہیں۔ وہ بھی اپنی صحافت چمکانے کے لیے اور پیسہ بنانے کے لیے اپنے عوام کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالنے میں دن رات مصروف ہیں۔ ان کمرشل صحافیوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔ وہ دو ایٹمی طاقتوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔ میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں کی جنگ بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ جن میزائلوں کا تذکرہ آپ جنگی جنون پیدا کرنے کے لیے کر رہے ہیں، اگر غلط اندازے کے نتیجے میں یا جوش میں آ کر چل گئے تو آپ کی آئندہ کم از کم تین نسلیں اپاہج پیدا ہوں گی۔ جنوبی ایشیا میں پندرہ سال تک زمین کوئی فصل پیدا نہیں کر سکے گی اور آپ سب کا ملیا میٹ ہو جائے گا۔ صحافت انفرادی اور اجتماعی عوامی رائے ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس موقع پر صحافیوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ علاقائی امن کی راہ ہموار کریں۔

ایسے وقت میں سیاسی جماعتوں کا یہ کردار بنتا ہے کہ وہ عوامی جذبات کو ٹھنڈا رکھیں جبکہ دانشوروں اور اہلِ رائے افراد ہر دو حکومتوں کو ہوش کے ناخن لینے کی تلقین کریں اور ان جنگی جنون میں مبتلا ہونے سے بچائیں۔

اس بات سے کوئی ہوش مند انسان انکار نہیں کرے گا کہ پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور اس سانحے کے ذمے داروں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔

ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے ہندوستان اور پاکستان آپس میں صلح کرنے کی کوشش کریں اور اپنی ریاستوں کو جنگی جنون سے باہر نکالیں۔ اگر بات سمجھ نہیں آتی تو آپس میں لڑی گئی گزشتہ جنگوں کے نتائج پر ایک نظر ڈال لیں۔

جنگ خود ایک مسئلہ ہے یہ کسی مسئلے کو حل نہیں کرتی۔ مزید جنگوں سے بچیں ہمسائے تبدیل نہیں کیے جا سکتے مگر ان کے ساتھ امن اور آشتی کے ساتھ رہنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

یہ دور معاشی طاقت کا دور ہے۔ وہی قوم طاقتور ہے جس کی معیشت طاقتور ہے۔ دونوں ممالک میں سے ایک بھی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مسائل کو بات چیت، باہمی تعاون اور دانشمندی سے حل کرنے کی ضرورت جتنی آج ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی۔

Facebook Comments HS