کیڈٹ کالج رزمک: یادوں کا کمرہ، روم نمبر: 28۔


زندگی کی رنگینیوں کا انحصار انسان کے تجربات اور اس کے ساتھ گزرنے والے لمحات پر ہوتا ہے۔ کیڈٹ کالج رزمک کے پانچ سال، وہ بے فکری اور دوستوں کے ساتھ گزری مسکراہٹوں سے بھرپور زندگی، ایک یادگار خواب کی مانند محسوس ہوتی ہے۔ ہنسی مذاق، قہقہے اور بے ساختہ لمحے، جیسے زندگی کی کتاب کے خوشنما باب ہوں۔ اس دور میں زندگی ایک جشن ایک جذبہ تھی، اور ہر دن ایک نئی کہانی لے کر آتا تھا۔

لیکن جیسے ہی ایف ایس سی مکمل ہوئی اور میں نے پنجاب کی سرزمین پر قدم رکھا، زندگی کی حقیقتیں مختلف زاویوں سے سامنے آنے لگیں۔ دوست احباب کے بچھڑنے کا دکھ، ذمہ داریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، اور سوچوں کی پیچیدگیاں زندگی کو ایک مختلف سمت میں لے گئیں۔ وہ ہنسی مذاق، وہ بے فکری، وہ قہقہے جیسے کہیں کھو گئے۔

ایک دن میں اپنے ہاسٹل کے روم نمبر اٹھائیس عمر ہال، میں تنہا بیٹھا ماضی کے ان خوشگوار لمحوں کو یاد کر رہا تھا۔ کالج کی زندگی، اس کے خوشگوار لمحات، اور وہ دوستانہ ماحول یاد آیا۔ اچانک خیال آیا کہ اب میری ہنسی پہلے جیسی بے ساختہ نہیں رہی۔ یہ حقیقت دل کو بوجھل کر گئی کہ زندگی کی وہ بے فکری جیسے ایک خواب تھی، جو وقت کے ساتھ تحلیل ہو گئی۔

میرے ذہن میں یہ شعر آیا،
بہت دنوں سے ہنسا نہیں ہوں اے زندگی!
” لمحہ فکریہ“ ہے کہ کیا ہو گیا ہے!

یہ لمحہ فکریہ تھا۔ کیا زندگی کی سنجیدگی نے میرے قہقہوں کو خاموش کر دیا؟ یا میں نے خود ان خوشیوں کو بھلا دیا؟ زندگی کی رفتار نے شاید احساسات پر حاوی ہو کر مجھے ایک نئی سمت میں دھکیل دیا۔ لیکن اس سوچ نے یہ سکھایا کہ وقت کے بدلاؤ کے باوجود، خوشی اور ہنسی کو اپنانا ایک شعوری انتخاب ہے۔ شاید زندگی کی حقیقی خوشی انہی لمحوں کو زندہ کرنے میں ہے۔

Facebook Comments HS