صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 40 : خدشات
” کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکرگزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خدا کا وہ اطمینان جو سمجھ سے بالاتر ہے، تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے گا۔“ فلپیوں 4 : 6۔ 7
اگلے دن یومِ آزادی کی چھٹی تھی۔ پچھلی رات کو پوری فیملی تھکن سے چور تھی۔ عارف بھی اپنے والدین کے گھر رک گیا تھا اور دوسروں کی طرح گھوڑے بیچ کر سویا تھا۔ صبح کو اٹھتے اٹھاتے اور نہا دھو کر ناشتے کی ٹیبل پر پہنچتے پہنچتے گیارہ بج گئے تھے۔ مریم کی فلائٹ رات کے دس بجے تھی اور صبح کو چھ بجے کراچی پہنچتی تھی۔ اگرچہ چٹاگانگ سے کراچی صرف ڈیڑھ ہزار میل دور ہے مگر وہ فلائٹ ڈگلس ڈی سی 3 کی تھی جسے لوگ گدھا گاڑی کہتے تھے۔
گلوریا نے مشورہ دیا کہ ناشتے کے بعد تحائف کے ڈبّے کھولے جائیں۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک سوٹ کیس میں سارے تحائف بھر کر مریم ساتھ لے جائے۔ عادل نے مشورہ دیا کہ ایک سوٹ کیس کافی نہیں ہو گا، لہٰذا انہیں ایک بڑے سے ڈبے میں پیک کر کے بعد میں بھیج دیا جائے گا۔ فی الحال انہیں کھول کر دیکھ لیا جائے کہ کس نے کیا دیا اور عارف تحفہ دینے والوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے مریم کی طرف سے انہیں پیغام بھیج دے۔ ناشتے کے بعد وہ سب ڈرائنگ روم میں آ بیٹھے جہاں خورشیدہ نے تمام تحائف جمع کر دیے تھے۔
مریم نے پہلا تحفہ اٹھایا اور اس پر لگے ہوئے سرخ ربن کے نیچے سے کارڈ نکال کر پڑھا۔ یہ نواب زادہ سلیم اللہ اور ان کی بیگم، قدسیہ خاتون کی طرف سے تھا۔
” خواجہ سلیم اللہ نوابوں کے خاندان سے ہیں، ان کے والد نواب آف ڈھاکہ تھے،“ عادل نے مریم کو بتایا۔
مریم نے سرخ ربن کھولا اور اندر ایک خوبصورت مغل طرز کا جیولری باکس رکھا تھا جس پر ہاتھ سے مینا کاری کی گئی تھی۔ ڈھکن کھولا تو اندر موتیوں اور نیلم کا ہلکا سا سیٹ جگمگا رہا تھا۔ گلوریا نے مسکرا کر کہا، ”قدسیہ کا ذوق ہمیشہ سے شاہی رہا ہے۔“
دوسرا تحفہ بیگم نوازش کی جانب سے تھا۔ یہ سفید سلک میں لپٹا ہوا پیکٹ تھا۔ اس میں سے ایک نفیس ہاتھ سے کڑھی ہوئی کشمیری شال نکلی، جس پر باریک زری کا کام تھا۔ شال کے کناروں پر کڑھی ہوئی سنہری زری کی ڈوریاں جھلملا رہی تھیں۔
اگلا تحفہ عارف کے ایک قریبی دوست، جہاں گیر، کی طرف سے تھا۔ عارف نے ہنستے ہوئے کہا، ”مجھے یقین ہے کہ اس میں پرفیوم ہو گا کیوں کہ اسے خوشبوؤں سے عشق ہے۔“ مریم نے جب تحفے پر لپٹے ہوئے سرخ کاغذ کو ہٹایا تو اس میں سے ایک خوب صورت ڈبہ نکلا۔ اس میں چھ مختلف عطر کی شیشیاں تھیں جن پر عربی رسم الخط میں ان کے نام کندہ تھے : یاسمین، عنبر، صندل، زعفران، مشک، اور عود۔ عارف نے قہقہہ لگا کر کہا، ”دیکھا! میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا۔“
ڈاکٹر فتّاح اور ان کی بیگم نے لیدر کا ایک البم دیا تھا جس کے صفحات سنہرے کناروں والے تھے، اور ہر صفحے پر خوب صورت اقوال لکھے ہوئے تھے۔ البم کے صفحات پلٹتے ہوئے مریم کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ وہ آہستہ آہستہ صفحات پلٹتی گئی۔
”دیکھو، ہر صفحے پر کوئی قول لکھا ہے،“ مریم نے عارف کو البم دیتے ہوئے کہا۔
”خوشی اُن لمحات میں چُھپی ہوتی ہے جنہیں ہم دوسروں کے ساتھ بانٹتے ہیں،“ عارف نے ایک صفحے پر لکھا ہوا قول پڑھا۔
”بے شک،“ عادل اور گلوریا بیک وقت بولے۔
مریم ایک کے بعد ایک، ڈبوں پر سے کاغذ کی رنگین پَنّیاں اتار کر اندر رکھے ہوئے کارڈ پڑھتی رہی۔ جب اُس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آخری تحفہ اٹھایا اور نیلے مخملی کاغذ میں لپٹے ہوئے پیکٹ کو کھولا تو اندر سے ایک نہایت نفیس چینی پورسلین کا ایک چھوٹا سا بکس نکلا جس کی سطح پر ہاتھ سے پینٹ کیے گئے ننھے ننھے سفید پھول تھے۔ مریم نے بکس کا ڈھکن کھولا تو موسیقی کی ایک مدھم، دل گداز دُھن بجنے لگی۔ کارڈ پر لکھا تھا، ”جب زندگی کی دوڑ میں قدم تھکنے لگیں، تو ایک لمحے کے لیے رکنا اور یہ دُھن سن کر اپنے دل کو پھر سے جگا لینا۔ نیک تمناؤں کے ساتھ، فہد۔“
مریم نے آہستہ سے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔ عادل نے مریم کو بتایا کہ فہد اس کا قریبی دوست ہے۔ کمرے میں سب لوگ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو کر لطیف موسیقی کو سنتے رہے۔
عادل نے جھک کر کہا، ”فہد کا محبوب ترین جملہ ہے کہ زندگی میں کبھی کبھی خاموشی سب سے بڑی نعمت ہوتی ہے۔“
گلوریا خاموشی سے مریم کے پاس آ بیٹھیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا مخملی بیگ تھا۔
”یہ تحفہ تمہارے لیے الگ رکھا تھا،“ انہوں نے دھیرے سے کہا، ”یہ میری ماں کی نشانی ہے۔“
مریم نے بیگ کھولا تو اس میں ایک پرانا موتیوں کا لاکٹ تھا۔ لاکٹ کھولا تو ایک طرف گلوریا کی جوانی کی تصویر تھی، اور دوسری طرف ایک خالی جگہ تھی۔
”یہ لاکٹ مجھے میری ماں نے دیا تھا،“ گلوریا نے کہا، ”میں چاہتی ہوں اب اس خالی جگہ میں تمہاری تصویر ہو، کیونکہ میری ماں کی ہدایت تھی کہ میں اُس کی تصویر نکال کر یہ لاکٹ اپنی بڑی بیٹی کو دوں۔ اب تم ہی میری بیٹی ہو لہٰذا یہ لاکٹ تمہارا ہے۔“
مریم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ اٹھی اور گلوریا سے چمٹ گئی۔ وہ جو بچپن سے اُس ماں کے سائے اور اُس کے لمس کی تپش کو ترس گئی تھی جو اُسے روتا ہوا چھوڑ کر اِس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی، آج جیسے وہ سب کچھ اُسے ایک لمحے میں مل گیا تھا۔
عارف خاموش کھڑا تھا، مگر اس کی نظریں کہہ رہی تھیں کہ ”تم صرف میری ساتھی نہیں ہو، تم میری دنیا ہو۔“
عادل نے اٹھ کر آہستہ سے مریم کی پیشانی چومی اور مریم، اُس لمحے خود کو سنڈریلا نہیں، بلکہ اپنے افسانے کی شہزادی محسوس کر رہی تھی جو رات کے بارہ بجنے کے بعد بھی شہزادی ہی رہتی۔
***
مریم گزرگاہ کی سیٹ پر تھی جب کہ اس کے برابر درمیانی سیٹ خالی تھی۔ کھڑکی کی سیٹ پر ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا جو صرف بنگالی بول سکتا تھا۔ مریم نے گفتگو کرنے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔ آخر اشاروں اشاروں میں اتنا پتا چل گیا کہ وہ باورچی تھا اور ملازمت کی تلاش میں کراچی جا رہا تھا۔ ہوائی جہاز کو چٹاگانگ چھوڑے ہوئے ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکا تھا اور عملے نے مسافروں کو کھانا کھلانے کے بعد روشنیاں مدہم کر دی تھیں۔ مریم نے اپنی سیٹ کی پشت کو پیچھے کیا اور آنکھیں بند کر کے اپنے پچھلے پانچ روز کے متعلق سوچنے لگی۔ وہ محسوس کر رہی تھی جیسے وہ کسی فلم کی ہیروئن تھی۔ عارف اور اس کے والدین کا پیار، اسے خوش آمدید کہنے کے لیے دوستوں کو جمع کرنا اور ان کا ڈھیر سارے تحفے دینا، وہ سب ایک حسین فلم کی کہانی کے مناظر معلوم ہوتے تھے۔ زندگی میں پہلی بار وہ مرکزِ نگاہ بنی تھی۔
پیار تو اس کے تایا اور تائی نے بھی بہت دیا تھا اور اُسے اپنی اولاد کی طرح پالا تھا، حتیٰ کہ ان کے بچوں کو بھی علم نہیں تھا کہ وہ ان کی سگی بہن نہیں ہے، مگر وہ اپنے بچپن کے اُن عفریتوں کا کیا کرتی جنہوں نے اُس کے ذہن کو اپنی آماج گاہ بنالیا تھا۔ اس کی ماں نے ایک بار اسے اُس کے باپ کے متعلق بتایا تھا کہ جب اُن کی شادی ہوئی تھی تو اُس کا شمار کیمپس کے ذہین ترین طلبا میں ہوتا تھا، مگر پھر اُسے منشیات کی عادت پڑ گئی اور اُس نے افیون اور سکون آور گولیاں استعمال کرنا شروع کر دیں۔ مریم کی عمر سات سال تھی جب اُس کا باپ گھر چھوڑ کر جا چکا تھا اور اُس کی ماں کی کینسر سے موت ہو گئی تھی۔ جب ماں کی میت چرچ میں رکھی تھی تو وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے لوگوں کو دیکھ رہی تھی اور اُس پر جو خوف طاری تھا اُس کی یاد ہمیشہ کے لیے اُس کی روح میں سرایت کر گئی تھی۔
اُس نے سر کو جھٹک کر آنکھیں کھولیں اور اُن یادوں کو دماغ سے نکالنے کی کوشش کی۔ اُس نے سوچا کہ خوشیوں پر اُس کا اُتنا ہی حق ہے جتنا سب کا ہے، تو کیوں خواہ مخواہ اپنے ذہن کو اُن منفی یادوں سے آلودہ کرے۔ چناں چہ اُس نے اپنی سیٹ کی پشت سے سر ٹِکایا اور دوبارہ آنکھیں موند لیں، مگر اُس کے خوف اور خدشات اُس کا تعاقب کرتے رہے۔ اُسے یاد آیا کہ پارٹی کے دوران اُسے مستقل یہ فکر لاحق رہی تھی کہ کہیں عارف کے دوستوں کے سامنے اُس سے کوئی ایسی حرکت نہ ہو جائے جو عارف کے لیے شرمندگی کا باعث بنے۔ اسے امیروں کے طور طریقوں اور آدابِ مجلس کا کچھ پتا نہیں تھا۔ وہ لڑکے لڑکیاں مستقل انگریزی میں گفتگو کر رہے تھے اور اگرچہ وہ انگریزی لکھتی تھی، پڑھتی تھی مگر روانی سے بول نہیں سکتی تھی۔ اُن سے گفتگو کے دوران اُسے بُری طرح احساسِ کم تری ہو رہا تھا۔
اچانک اس کے تایا، تائی اور اُن کے بچوں کے چہرے اُس کے سامنے آ گئے۔ اُن کی زندگی میں غُربت تھی مگر سادگی بھی تھی۔ اس کے برخلاف امیروں کے اپنے مسائل تھے اور زندگی میں پیچیدگیاں تھیں۔ کیا وہ شادی کے بعد خود کو تبدیل کرسکے گی؟ کیا وہ خود کو ایسی بہو بنا سکے گی جس پر عادل اور گلوریا فخر کرسکیں؟ کیا وہ خوش رہ سکے گی اور دوسروں کو خوشیاں دے سکے گی؟ کیا اُس نے عارف کی پیشکش کو قبول کر کے صحیح فیصلہ کیا تھا؟ اس کے ذہن میں سوالوں کی قطار تھی، مگر جواب ندارد تھے۔ ایسے میں ذہن کے کسی کونے سے دانی ایل کا چہرہ اُبھر کر اس کے سامنے آ گیا، اور ایک بار پھر اُس نے اپنے سر کو جھٹک کر آنکھیں کھول دیں۔

