جنہوں نے جنگ نہیں دیکھی


پہلگام کے واقعے پر دس روز گزر گئے۔ حسب توقع پاکستان اور بھارت میں کسی بڑی محاذ آرائی کا خطرہ کم ہو رہا ہے۔ اسی تناسب سے اخبار اور ٹیلی ویژن سکرین پر ممکنہ جنگ کے پیش نظر شعلہ بیانی کی ذخیرہ اندوزی میں بھی مندی کے آثار ہیں۔ جنگ کے آڑھتی تصوراتی جنگ میں دھواں دھار گولہ باری، بستیوں کی بربادی اور شکست و فتح کی منظر کشی میں جذبات کی سرمایہ کاری کر چکے تھے۔ سرحد پار کے پترکاروں کی تند بیانی تو خیر اب ایک روایت بن چکی۔ ان کے ہاں ماضی میں کسی متوازن رائے کی روایت اب ہندوتوا کے ریلے کی نذر ہو چکی۔ جنگ کے شعلے بھڑکانے کے لیے تو قوم پرستی کا جنون ہی کافی ہوتا ہے۔ اگر اس نسخے میں دھارمک تعصب بھی شامل ہو جائے تو گویا مہابھارت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ ہندوستان میں ہندو آبادی 80 فیصد ہے۔ 1.42 ارب کی کل آبادی میں 28 کروڑ اقلیتوں کا مذہبی تشخص نظر انداز کر کے جمہوری معاشرہ کیسے تعمیر ہو سکتا ہے؟ پاکستان میں ہندو شہریوں کی تعداد 50 لاکھ سے متجاوز ہے۔ اب ایک پرجوش نوجوان جو 1977 میں پرائمری سکول کا طالب علم تھا، مجھے ہندو مت اور اسلام میں فرق سمجھانا چاہتا ہے۔ میں اسے کیسے بتاؤں کہ قومی ریاست میں شہریت مذہبی شناخت سے ماورا ہوتی ہے۔ ہمارے دستور میں لکھا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری میرا مساوی ہم وطن ہے۔ حالیہ کشیدگی میں ہماری صحافت نے قدرے احتیاط برتی ہے تاہم یہ حقیقت بہرصورت نظر انداز ہوئی ہے کہ نیوکلیائی صلاحیت کی موجودگی میں جنگ انفرادی بہادری یا حیران کن چالوں سے مرتب نہیں ہوتی۔ جنگ ایک انسانی المیہ ہے جسے صرف اپنے ملک کے دفاع کی ناگزیر ضرورت میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔

Charles montague

صحافیوں پر تنقید کرنا مجھے مرغوب نہیں۔ وجہ یہ کہ پورے ملک میں کوئی درجن بھر صحافی مجھے پسند ہیں۔ باقی کا غول بیابانی میرے لیے اجنبی ہے۔ میں کان پر قلم رکھ کے گلی کوچوں میں ’ارزاں کلامی‘ کی جنس بیچنے والوں کو صحافت کی بنیادی اخلاقیات سے بیگانہ پاتا ہوں۔ کوئی چھ دہائیاں گزریں، ایک صحافی کو اعزازی کرنل قرار دے کر فوج کا ترجمان بنا دیا گیا۔ ’کرنل‘ موصوف نے صحافیوں سے پہلی ملاقات ہی میں اس مضحکہ خیز جملے سے اپنی بھد اڑوائی کہ ’آپ سویلین لوگ ہم فوجیوں کی حساسیت نہیں سمجھتے‘ ۔ درویش جن دنوں صحافت پڑھاتا تھا تو طلبا کو صدیق سالک کی کتاب ’Witness to Surrender‘ اور بریگیڈیئر اے آر صدیقی کی کتاب ’Endgame: An Onlooker’s Journal ’تجویز کیا کرتا تھا تاکہ وہ جنگی حقائق اور پراپیگنڈے میں تناسب کی اہمیت سمجھ سکیں۔ آئیے آپ کو گزشتہ صدی کے چار بہترین جنگی وقائع نگاروں سے متعارف کراتے ہیں۔

یکم جنوری 1867ء کو لندن میں پیدا ہونے والا Charles Montague جنگ مخالف خیالات رکھتا تھا۔ 1914ء میں عالمی جنگ شروع ہوئی تو Montague فوجی بھرتی کی عمر سے متجاوز تھا۔ تاہم اس نے سوچا کہ جنگ سر پر آن پڑی ہے تو اس میں حصہ لے کر اسے مختصر کیا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے سفید بالوں کو خضاب لگا کر بھرتی ہوا، بہادری سے لڑا اور جنگ کے بعد پھر سے امن پسند ہو گیا۔ اس کی کتاب Disenchantment کا یہ جملہ جنگجو صحافیوں کی ذہنیت پر دال ہے۔ ”۔War hath no fury like a non-combatant“ ۔ اخبار کے دفتر میں بیٹھ کر پرجوش مضامین لکھنے والوں کو کیا معلوم کہ سنسناتی ہوئی گولی ایک نوجوان اور اس کے گھرانے پر کیا قیامت ڈھاتی ہے۔

Vasily grossman

دوسری عالمی جنگ میں روس کے صحافی Vasily Grossman نے براہ راست ماسکو، سٹالن گراڈ، کرسک اور برلن کی لڑائیوں میں فوجیوں کے شانہ بشانہ صحافت کی تھی۔ جنگ کے بعد اس نے اپنے مشاہدات کو ناولوں کی صورت میں بیان کرنے کی کوشش کی لیکن اسے سرکاری اعزاز دینے والی سوویت حکومت نے 1964ء میں اس کی موت تک اس کی کوئی تصنیف شائع نہیں ہونے دی۔ Grossman Vasily کی کتابیں 1988ء میں روسی زبان میں شائع ہو سکیں۔ وجہ یہ تھی کہ روسی بہادری کی داستانیں لکھنے والے گراس مین نے جنگ کی ہیبت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اس پر زمانہ امن اور جنگ کی تباہ کاری کا فرق کھل گیا۔

Ernie Pyle at Okinava

امریکا کے جنگی وقائع نگار Ernie Pyle نے جنگی فتوحات کی بجائے عام سپاہیوں کے احساسات اور تکلیفوں کو آسان زبان میں بیان کیا۔ Ernie Pyle کی تحریروں کو 1944ء میں پلٹزر پرائز سے نوازا گیا۔ ہیری ٹرومین اس کی تحریروں کا مداح تھا۔ وہ واحد سویلین صحافی تھا جسے 6 جون 1944ء کو نارمنڈی حملے میں براہ راست شرکت کی اجازت ملی تھی۔ Ernie Pyle نے ایک فوجی کپتان کی موت پر لکھا تھا۔ ’You feel small in the presence of dead men and ashamed at being alive۔‘ ۔ اپریل 1945ء میں برلن کی فتح سامنے نظر آ رہی تھی لیکن Ernie Pyleجاپان کے خلاف جنگ کی خبریں بھیجنے کے لئے نکل گیا جہاں 18 اپریل 1945ء کو 44 برس کی عمر میں اوکی ناوا کے مقام پر گولی کا نشانہ بن گیا جہاں وہ چند لمحے پہلے تک عام سپاہیوں کے ساتھ بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔
بہادر لیکن امن پسند صحافیوں کی فہرست میں ایک نام Robert Capa کا بھی ہے۔ ہنگری میں پیدا ہونے والے رابرٹ کاپا نے ہٹلر کو اقتدار میں آتے دیکھا۔ اپنے ملک پر قبضہ ہونے کے بعد وہ پیرس چلا آیا۔ رابرٹ کاپا نے چالیس برس کی عمر میں پانچ مختلف جنگوں میں صحافتی فرائض انجام دیے۔ وہ ہسپانوی خانہ جنگی، چین اور جاپان کی لڑائی، یورپ میں جنگ، 1948 ءکی عرب اسرائیل لڑائی اور ویت نام کی لڑائی میں صحافت کرتا رہا۔ رابرٹ کاپا تحریروں کے علاوہ جنگی فوٹوگرافی بھی کرتا تھا۔ اس کی کھینچی ہوئی درجنوں تصاویر کو اساطیری شہرت حاصل ہوئی۔ رابرٹ کاپا 1954 ءمیں ویت نام کی لڑائی میں ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہوا۔ صحافی کا فرض جنگ کے شعلوں کو ہوا دینا نہیں بلکہ اپنی تحریروں او ر دیگر صحافتی سرگرمیوں کے ذریعے جنگ کے المیے کو عام انسانوں تک پہنچانا ہے۔ چارلس مورٹیگ نے ٹھیک کہا تھا کہ امن کو سب سے زیادہ خطرہ ان لوگوں سے ہوتا ہے جنہوں نے کبھی جنگ نہیں دیکھی۔

robert capa_ Death of the last Soldier
Facebook Comments HS

One thought on “جنہوں نے جنگ نہیں دیکھی

  • 03/05/2025 at 8:12 شام
    Permalink

    ایک کلاسیک تحریر۔

    ہم میں سے اکثر لوگوں کے ہردلعزیز "کسوٹی والے عبید اللہ بیگ مرحوم” نے محاذ جنگ سے مجھے ایک واقعہ سنایا۔ بدقسمتی سے طویل گفتگو کے دوران نہ میں سن یاد نہ رکھ سکا اورنہ دشمن کا نام۔
    یہ کوئی جہادی ٹائپ شخصیت تھے میرزا علی وزیر خان المعروف فقیر ایپی ٹائپ کوئی شخصیت جنہوں نے پاک فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے اور ایک اونچی پہاڑی پر قابض تھے۔ بیگ صاحب کو ریڈیو پاکستان کی طرف سے اس مشن کی کوریج کے لئے فوج کے ساتھ محاذ پر تعینات کیا گیا تھا۔

    سچ تو یہ ہے کہ اس وقت ہر شعبے میں اہسے لوگ جو زرپرست نہ ہوں ان کا شدید قحط الرجال ہے۔ کیا ملا کیا ملٹری اور کیا قاضی استاد یا صحافی۔

    اور منجن وہ بیچتے ہیں جو خود منہ میں دانت نہیں رکھتے۔
    گیارہ مہینے عشوہ طرازی دکھانے والی جسم فروش اداکارائیں رمضان میں اسلام پر بھاشن دے رہی ہوتی ہیں۔

Comments are closed.