سندھ طاس معاہدے کی معطلی : بھارت کا سفارتی پاگل پن اور پاکستان کا ردعمل


بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے /انڈس واٹر ٹریٹی (IWT) کو معطل کرنے کا فیصلہ صرف ایک سفارتی چال نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا جغرافیائی سیاسی قدم ہے، جس کے خطے کے امن، استحکام اور پانی کے سرحد پار انتظام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کا سخت اور متنوع ردعمل محض رسمی احتجاج نہیں، بلکہ ایک گہری حکمتِ عملی کا عکاس ہے، جسے محض خبروں کی سرخیوں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔

اسلام آباد کا موقف کہ یہ معاہدہ اہم ہے اور اس کے تحفظ کے لیے عالمی عدالتوں اور متعلقہ عالمی اداروں سے رجوع کیا جائے گا، پاکستان کے تاریخی تجربات اور اس کی پانی پر انحصار کرتی معیشت کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ محض پانی بانٹنے کا معاہدہ نہیں، بلکہ ایک ایسا ضابطہ ہے جس پر اس کی زرعی معیشت اور معاشرتی استحکام قائم ہے۔ اگر بھارت کے اس اقدام کو صرف ایک سیاسی دباؤ سمجھا جائے تو یہ پاکستان کے اندر پیدا ہونے والے خدشات کو کم تر سمجھنے کے مترادف ہو گا۔

حقیقت پسندانہ زاویے سے دیکھا جائے تو بھارت کا یہ قدم دریا کے بالائی حصے (اپر رپیرین) ہونے پر اپنا کنٹرول استعمال کر کے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ پانی جیسے قیمتی وسیلے کو سکیورٹی سے جوڑ کر بھارت گویا اسے ایک ہتھیار کی صورت دے رہا ہے۔ لیکن یہ حکمتِ عملی خود بھارت کے لیے بھی بڑے خطرات کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ اس سے IWT جیسا نازک توازن بگڑ سکتا ہے اور بین الاقوامی برادری، جو اس معاہدے کو سرحد پار پانی کے انتظام کی کامیاب مثال سمجھتی ہے، ناراض ہو سکتی ہے۔

پاکستان کا جواب صرف دفاعی نہیں بلکہ ایک فعال حکمتِ عملی بھی ہے۔ پاکستان نے معاہدے کی قانونی حیثیت کو اجاگر کیا ہے اور مستقل ثالثی عدالت (PCA) جیسے عالمی فورمز سے رجوع کا عندیہ دیا ہے تاکہ بھارت کے یک طرفہ فیصلے کو غیر قانونی ثابت کیا جا سکے۔ پاکستان کی یہ حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ بھارت پر سفارتی دباؤ بڑھانے کا راستہ بھی۔

پاکستان کا سخت لب و لہجہ صرف بیرونی پیغام نہیں بلکہ اندرونی طور پر بھی عوام کو یہ یقین دلانے کا ذریعہ ہے کہ حکومت قومی مفادات کا بھرپور دفاع کر رہی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں پانی کا مسئلہ ایک حساس اور جذباتی موضوع ہے، اور اس پر مضبوط موقف عوامی تائید حاصل کرتا ہے۔ تاہم اس جذباتی تائید کو ایک ایٹمی ہمسائے کے ساتھ ممکنہ کشیدگی کے خطرے سے توازن میں رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ یہ بات ہندستان کی قیادت بھی سمجھ لے۔

خاص طور پر یہ بات یاد رکھنا ناگزیر ہے کہ اگر یہ کشیدگی خدا نخواستہ کسی فوجی تصادم یا جنگ کی طرف بڑھی، تو اس کے تباہ کن اثرات دونوں ممالک کے کروڑوں عوام کو بھگتنا پڑیں گے۔ ایسی صورتِ حال میں انسانی جانوں کا ضیاع، ماحولیاتی تباہی، اور علاقائی عدم استحکام اپنی انتہائی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس لیے امن، گفت و شنید اور قانونی و سفارتی راستے اختیار کرنا ہی دونوں ملکوں اور خطے کے لیے بہتر راستہ ہے۔

اگر پاکستان کے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو عسکری جواب نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ بلکہ تباہ کن بھی ہو گا۔ اس کے برعکس، پاکستان کی حکمتِ عملی طویل المدتی سفارتی اور قانونی کوششوں پر مبنی ہوگی، جن میں شامل ہیں :

• عالمی سفارتکاری کا فروغ: امریکہ، چین اور یورپی ممالک سے بھرپور رابطے تاکہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں اور اس کے اقدام کے منفی اثرات سے آگاہ رہیں۔

• قانونی چارہ جوئی: عالمی بینک کی نگرانی میں قانونی کارروائی کا آغاز، چاہے بھارت رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کرے۔

• متحدہ قومی بیانیہ: ملک کے اندر اور باہر یہ موقف پیش کرنا کہ بھارت کا اقدام پاکستان کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے، لیکن پاکستان پرامن حل کے لیے تیار ہے۔

تاہم پاکستان کی اس حکمتِ عملی کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بھارت کا عالمی اثر و رسوخ، اور اس کا دہشت گردی سے جوڑنے والا بیانیہ بعض حلقوں میں پذیرائی پا سکتا ہے۔ ثالثی کا عمل طویل اور غیر یقینی ہو سکتا ہے، اس لیے پاکستان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ وہ عالمی دباؤ کو کس قدر موثر طریقے سے بروئے کار لاتا ہے اور قانونی جدوجہد کو کس حد تک جاری رکھ سکتا ہے۔

بھارت کے IWT کو معطل کرنے کے اقدام پر پاکستان کا ردعمل وقتی نہیں بلکہ سوچا سمجھا، اصولی اور تزویراتی موقف ہے۔ سخت الفاظ کے پیچھے ایک سنجیدہ حکمتِ عملی کارفرما ہے جو قانون، سفارتکاری اور امن پر مبنی ہے۔ یہ بحران جنوبی ایشیا میں پانی، سیاست اور عالمی قانون کے گہرے باہم تعلق کو نمایاں کرتا ہے، اور پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس چیلنج کا سامنا عالمی سطح پر حکمت اور تدبر سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Facebook Comments HS