انسان کی آزادی و خود مختاری کی نفسیات
انسان اپنی روزمرہ زندگی میں
کچھ سوچتا ہے
کسی کام کا ارادہ کرتا ہے
اور پھر اس ارادے پر عمل کرتا ہے۔
انسان ارادہ کرتا ہے
مجھے ناشتہ بنانا ہے
مجھے کتاب پڑھنی ہے
مجھے سیر کو جانا ہے
یا
مجھے اپنے دوست کو فون کرنا ہے
اور پھر وہ اس سوچ اس خواہش اس ارادے پر عمل کرتا ہے
عام لوگوں کو یہ عمل ایک سادہ عمل دکھائی دیتا ہے لیکن ماہرین بشریات و نفسیات جانتے ہیں کہ یہ بظاہر سادہ عمل درحقیقت ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں انسانی دماغ، ذہن اور شخصیت کے بہت سے حصے فعال ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسان اپنے ارادے پر عمل نہ کر سکے۔
اس کی مثال نفسیاتی مسائل اور ذہنی بیماریوں کا شکار وہ مریض ہیں جو اپنے ارادے پر عمل نہیں کر سکتے اور ذہنی طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں۔
ایک جسمانی اور ذہنی طور پر صحتمند انسان نہ صرف ایک رائے رکھتا ہے ایک ارادہ رکھتا ہے ایک سوچ رکھتا ہے بلکہ جب چاہے اپنی سوچ اپنی رائے اور اپنے ارادے کو بدل بھی سکتا ہے۔ یہ خصوصیت انسان کو جانور سے متمیز کرتی ہے۔
جانور اپنی جبلتوں کی دنیا میں قید ہیں
انسان اپنی جبلتوں کی دنیا سے باہر بھی نکل سکتے ہیں
اس فرق کی ایک مثال حاضر ہے
گائے گھاس کھاتی ہے
اور
شیر گوشت کھاتا ہے
ہم نے کسی گائے کو گوشت کھاتے اور کسی شیر کو گھاس کھاتے نہیں دیکھا
لیکن انسان با اختیار ہے۔ وہ چاہے تو سبزیاں کھائے اور چاہے تو گوشت کھائے اور جب چاہے سبزیاں کھانی چھوڑ کر گوشت کھانا شروع کر دے اور جب چاہے گوشت کھانا چھوڑ کر سبزیاں کھانی شروع کر دے۔
انسان جب چاہے ویجیٹیرین بن جائے اور جب چاہے کونیوور بن جائے۔
جانور سے انسان بننے کے ارتقائی سفر میں اس نے اپنی رائے اپنا ارادہ اپنی سوچ بدلنے کا ہنر سیکھا ہے اور اپنی رائے بدلنے کا عمل اس کی آزادی اور خود مختاری کا مظہر ہے۔
انسان روزمرہ کی زندگی کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ زندگی کے بڑے فیصلے بھی کرتا ہے وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ
اس نے کس شہر میں رہنا ہے
اس نے کس کو اپنا محبوب بنانا ہے
اس نے کیا پیشہ اختیار کرنا ہے
اس نے کس سے دوستی کرنی ہے
اس نے کس قسم کی کتابیں پڑھنی ہیں
اس نے کس قسم کی موسیقی سننی ہے
اس نے کس فلسفہ حیات کو دل کے قریب رکھنا ہے
جو انسان زندگی میں مثبت، صحتمند اور دانشمندانہ فیصلے کرتا ہے وہ کامیاب زندگی گزارتا ہے اور اپنے فیصلوں کے نتائج سے مطمئن ہوتا ہے لیکن جو انسان زندگی میں منفی، غیر صحتمند اور غیر دانشمندانہ فیصلے کرتا ہے وہ اپنے فیصلوں کے نتائج سے غیر مطمئن ہوتا ہے اور اپنے آپ کو ایک ناکام انسان سمجھتا ہے۔
انسان کی ایک صفت یہ ہے کہ جب اسے احساس ہو جائے کہ اس نے زندگی کا کوئی فیصلہ غلط کیا ہے تو اسے اختیار ہے کہ وہ اپنا فیصلہ بدل لے۔
انسانی ذہن اور شخصیت میں اس کا تصور، اس کا شعور اور اس کی قوت ارادی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انسان اپنی خود آگہی کی وجہ سے یہ سوچ سکتا ہے کہ
اس کے سامنے کئی امکانات ہیں
اس کے سامنے کئی راستے ہیں
وہ جو راستہ چاہے اختیار کر سکتا ہے
اور جب چاہے اپنا راستہ بدل بھی سکتا ہے۔
اپنی زندگی کے راستے بدلنے کی خاصیت کی وجہ سے ہم جانتے ہیں کہ انسان ایک آزاد و خودمختار شخصیت کا مالک ہے۔
چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک صحتمند عاقل اور بالغ انسان نہ صرف اپنی زندگی کے فیصلے کر سکتا ہے بلکہ جب چاہے اپنے فیصلے بدل بھی سکتا ہے۔ اگر اس نے کچھ فیصلے غلط کیے ہیں تو وہ زندگی کے کسی موڑ پر راستہ بدل بھی سکتا ہے وہ انفرادی اور اجتماعی طور ہر ایک بہتر انسان بن سکتا ہے اور دوسرے انسانوں کے ساتھ مل کر ایک پرامن معاشرہ قائم کر سکتا ہے۔
انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنی زندگی کے دانشمندانہ فیصلے کرے یا غیر دانشمندانہ فیصلے کرے۔
انسان کو اختیار ہے کہ وہ ایک پرتشدد زندگی گزارے یا ایک ایک پرامن انسان بن کر رہے۔
انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنا بدترین دشمن بن کر رہے
یا اپنا بہترین دوست بن کر زندگی گزارے۔
انسان کی یہ آزادی و خود مختاری ہی اسے انسان بناتی ہے اور اسے باقی جانوروں سے متمیز کرتی ہے۔
انسان کی آزادی اس کے احساس ذمہ داری کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے۔
فلسفی روسو نے فرمایا تھا
انسان آزاد پیدا ہوتا ہے لیکن وہ ہر طرف زنجیروں میں جکڑا دکھائی دیتا ہے۔
انسان یہ اختیار رکھتا ہے کہ وہ
ظاہر و مخفی
دیکھی اور ان دیکھی
زنجیروں کو جانے پہچانے اور ان زنجیروں کو توڑ کر اپنی آزادی و خود مختاری میں اضافہ کرے
اپنی خفیہ صلاحیتوں کو پہچانے
اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرے
اور ایک مکمل انسان بن کر زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔


