بنگلہ دیش میں چند دن – قسط :7


تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید
ترجمہ اور تخلیص :گوہر تاج

بنگلہ دیش کا تاریک پہلو

بنگلہ دیش میں جمہوریت نہیں ہے۔ چونکہ فوج سے آزادی حاصل کرنے والی سیاسی جماعتیں جمہوریت کی قدر کرنے میں ناکام رہی ہیں اور بنگلہ دیش کے لوگوں کو حقوق دینے کے لیے تیار نہیں۔ مجیب اور ضیاء الرحمن کی جماعتیں عوام کے تمام حقوق پامال کر کے ملک پر حکومت کرنے کی قائل تھیں۔ بنگلہ دیش بدترین قسم کی بے رحم سرمایہ داری والا ملک ہے۔

مقامی اشرافیہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ مل کر عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ وہ ہر ممکن طریقے سے غریب لوگوں کے استحصال کے لیے قانون بنانے میں کامیاب ہیں۔

بنگلہ دیش حکومت خواتین کے لیبر قوانین کے بارے میں بے توجہی برت رہی ہے۔ چار ملین خواتین انتہائی مخدوش حالت میں کام کر رہی ہیں اور انہیں قواعد و ضوابط کے مطابق تنخواہ نہیں دی جاتی۔

گو پاکستان کے مقابلے بنگلہ دیش میں خواندگی کی شرح بہت زیادہ ہے لیکن تعلیمی نظام عوام میں تنقیدی سوچ پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

بنگلہ دیش صحت کی دیکھ بھال کا ایسا نظام تیار کرنے میں ناکام رہا ہے جو ملک کے غریب ترین لوگوں کو بنیادی اور ہنگامی صحت کی دیکھ بھال فراہم کر سکے۔

طبقاتی نظام تعلیم اشرافیہ کی پیداوار کا ذمہ دار ہے جو ریاستی کارندوں کے ساتھ مل کر ملک پر حکومت کرتے ہیں۔

تاہم بنگلہ دیش پاکستان سے اس لحاظ سے بہتر ہے کہ اس کے عوام اپنے حقوق سے آگاہ ہیں اور حکومت کے پاس ریلیف دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔

ملک میں ترقی پسند اور بائیں بازو کے گروہوں کے مابین نا اتفاقی کے باعث ان میں خواتین اور بچیوں کے حقوق اور ملک کے غریب عوام کو بنیادی سہولیات کے نظام کے لیے لڑنا ترجیح نہیں ہے۔

بنگلہ دیش میں بدعنوانی غیر معمولی سطح پہ ہے۔ ذمہ دار عہدوں پر فائز لوگوں کے پاس حقائق اور اعداد و شمار ہوتے ہیں مگر وہ خوف کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ شیخ حسینہ کے دو دن بعد ملک چھوڑنے والے چیف جسٹس پارٹی کے کارکن تھے۔ تمام بدعنوانیوں کو نظام نے تحفظ فراہم کیا تھا۔

ہر سڑک، بائی پاس پل، ہر ٹھیکہ اور حکومت کی طرف سے ہر خریداری کسی نہ کسی کرپشن سے جڑی ہوئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا کرپشن کے خاتمے کے سلسلے میں جدوجہد کا نہ کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی دلچسپی۔

اس بدعنوانی نے ملک سے محبت رکھنے والے لوگوں کا ایک نیا طبقہ پیدا کر دیا ہے۔ وہ عام آدمی کی قیمت پر پیسہ کمانے کے لیے ہیں۔

دیہی بنگلہ دیش ڈھاکہ کو ترقی یافتہ اور جدید بنانے کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ دیہی بنگلہ دیش کے لوگوں کو بہت کم سہولیات میسر ہیں اور ان دیہی علاقوں سے آنے والے تارکین وطن مزدور ترقی یافتہ ڈھاکہ میں محرومی کے زندگی گزار رہے ہیں۔

مدرسہ اور تبلیغی جماعت تعلیم کا حصہ ہیں۔ مدرسہ میں تعلیم غیر سائنسی ہے۔ یہ بچے جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں کہ وہ جلد ہی تنگ ذہنوں کے ساتھ مذہبی رہنماؤں کی قوت اور مسجد کے امام بن جائیں گے۔ وہ خواتین کے ان حقوق کے خلاف ہیں جو ان کے لباس پر اعتراض کرتے ہیں اور بچوں کی شادی کے رجحان کی مخالفت نہیں کرتے۔

ایک مضبوط قوم کے لیے معاشرے کو خواتین اور بچیوں کے احترام کے لیے سائنسی تعلیم کی ضرورت ہے۔ وہاں اس کی کمی ضرور ہے لیکن ہر صورت میں وہ پاکستان سے بہتر ہیں۔

ملک کو جس استحکام کی ضرورت ہے وہ موجودہ عارضی حکومت سے حاصل نہیں ہو سکتی۔

بھارت اور فوج کی مداخلت کے بغیر نئے اور منصفانہ انتخابات کی ضرورت ہے۔ بھارت اور فوج کا سرمایہ داروں کے اور اشرافیہ کے کلب سے پرانا تعلق ہے جو ملک کے تمام وسائل چوس رہے ہیں اور انصاف، احتساب اور انسانی حقوق پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کو تیار نہیں۔
(جاری ہے۔ )

Facebook Comments HS