انقلاب کی مسافت: چینی انقلاب کیسے واقع ہوا؟
ماؤ زے تنگ 1893 ء کو چین کے ایک غریب کسان گھرانے میں پیدا ہوا۔ جوانی میں ماؤ نے غربت، نا انصافی، اور استحصال کو قریب سے دیکھا، جس نے اس کے اندر انقلابی سوچ پیدا کی۔ 1918 میں اس نے بیجنگ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جہاں اس کا جھکاؤ سوشلسٹ نظریات کی طرف بڑھا۔ وہ مارکسزم اور لینن ازم س ے متاثر ہوا، اور رفتہ رفتہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا میں ایک سرگرم رکن کے طور پر ابھرا۔ ماؤ نے کسانوں کو انقلابی طاقت سمجھا، جبکہ اس وقت دنیا میں انقلاب زیادہ تر مزدوروں کے ذریعے آتے تھے۔ ماؤ کی یہی سوچ بعد میں چینی انقلاب کی بنیاد بنی۔
1911 ء میں چین میں صدیوں پرانی بادشاہت ختم ہوئی، مگر جمہوری نظام قائم نہ ہو سکا۔ ملک میں مختلف علاقوں پر مختلف جاگیردار، جنگی سردار، اور علاقائی حکمران قابض ہو گئے۔ 1920 کی دہائی میں چین میں دو بڑی سیاسی قوتیں تھیں، نیشنل پارٹی جس کی قیادت چیانگ کائی شیک کر رہا تھا۔ یہ پارٹی جاگیرداروں، سرمایہ داروں، اور مغربی قوتوں کی حمایت یافتہ تھی۔ جبکہ دوسری طرف کمیونسٹ پارٹی آف چائنا جو غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور متوسط طبقے کے حق میں انقلابی نظریات رکھتی تھی۔
ابتدائی طور پر دونوں جماعتیں مل کر کام کرتی رہیں، مگر 1927 میں چیانگ کائی شیک نے کمیونسٹوں پر حملہ کر دیا، ہزاروں کمیونسٹ کارکنان مار دیے گئے، اور ملک بھر میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ 1934 تک دونوں جماعتوں کے درمیان مسلسل تصادم جاری رہا۔ چیانگ کائی شیک نے پانچ بڑی فوجی مہمات کے ذریعے کمیونسٹوں کا صفایا کرنے کی کوشش کی۔ پہلی چار مہمات میں کمیونسٹوں نے ”گوریلا جنگ“ کی حکمت عملی سے کامیاب مزاحمت کی۔ پانچویں مہم ( 1933۔ 1934 ) میں نیشنل آرمی نے جرمن ماہرین کی مدد سے قلعہ بندی کی جنگی حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے کمیونسٹ علاقوں کا مکمل محاصرہ کر لیا، رسد، خوراک، اور نقل و حرکت بند کر دی۔ کمیونسٹوں کے پاس اب کوئی راستہ نہ تھا، سوائے اس کے کہ وہ محاصرہ توڑ کر جنوب سے شمال کی طرف نکل جائیں۔ یہی لانگ مارچ کا آغاز تھا۔
یوں 16 اکتوبر 1934 ء کو ماؤ زے تنگ اور دیگر قائدین نے ”لانگ مارچ“ کا آغاز کیا۔ 1 لاکھ سے زائد افراد جن میں 3، 500 خواتین شامل تھیں، صوبہ جیانگ سی سے شمال مغرب کی جانب روانہ ہوئے۔ ان کے پاس نہ مناسب لباس تھا، نہ خوراک، نہ ہتھیار۔ ان کا جذبہ اور عزم ہی ان کا واحد سہارا تھا۔ راستے میں انہیں 24 دریا اور 18 پہاڑی سلسلے عبور کرنے پڑے۔ شدید موسم، بھوک، پیاس، بیماری، اور حکومتی فوج کے حملوں کے باوجود وہ آگے بڑھتے رہے۔ 18 نومبر 1934 کو پہلی بڑی جھڑپ ہوئی، جس میں ماؤ کا بھائی اور دو بیٹے شہید ہوئے، 50,000 سے زائد لوگ مارے گئے۔ مگر قافلہ نہ رکا، نہ جھکا۔ آزادی اور سماجی انصاف کا خواب انہیں آگے لے کر جاتا رہا۔ تقریباً ایک سال کے بعد ، اکتوبر 1935 میں قافلہ 9,700 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد ، جب شانشی پہنچا تو صرف 4,000 افراد زندہ بچے تھے۔ باقی سب راستے میں شہید یا زخمی ہو کر رہ گئے۔ ان لوگوں کے کپڑے پھٹ چکے تھے، جسم ہڈیوں کے ڈھانچے بن چکے تھے، لیکن حوصلے ابھی بھی بلند تھے۔ لانگ مارچ کے اختتام پر ماؤ زے تنگ کو پوری کمیونسٹ پارٹی کا بلا شرکت غیرے قائد تسلیم کر لیا گیا۔ اس نے عوام میں نیا جوش اور امید پیدا کی۔ لاکھوں نئے نوجوان اس انقلابی تحریک سے جڑ گئے۔
1937 میں جاپان نے چین پر مکمل حملہ کر دیا، جاپانی افواج نے چین کے بڑے شہروں پر قبضہ کرنا شروع کیا، خاص طور پر نانجنگ شہر میں بدترین ظلم ڈھایا گیا، جسے ”نانجنگ قتلِ عام“ کہا جاتا ہے، جہاں لاکھوں چینی شہریوں کو قتل اور خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ 1945 میں جب جاپان نے دوسری عالمی جنگ میں شکست کھائی اور چین سے پیچھے ہٹ گیا، تو چینی عوام کو سب سے زیادہ اعتماد ماؤ اور اس کے ساتھیوں پر تھا۔
جاپان کی شکست کے بعد چین میں دوبارہ خانہ جنگی چھڑ گئی اس خانہ جنگی ( 1946۔ 1949 ) میں دونوں جماعتوں نے بھرپور جنگ لڑی کمیونسٹ افواج نے ایک کے بعد ایک بڑے شہر فتح کر لیے۔ آخرکار 1949 میں بیجنگ سمیت پورا مین لینڈ چین کمیونسٹوں کے کنٹرول میں آ گیا۔
شکست سے دوچار ہو کر چیانگ کائی شیک اور اس کے لاکھوں وفادار سپاہی اور اہلکار چین سے بھاگ کر ایک جزیرے تائیوان میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ وہاں اس نے اپنی ایک الگ حکومت قائم کی جسے ”جمہوریہ چین“ کہا گیا۔ جبکہ مین لینڈ چین کو ماؤ زے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین قرار دیا۔ چیانگ کائی شیک نے بقیہ زندگی تائیوان میں جلاوطنی میں گزاری اور وہیں 1975 میں فوت ہوا۔


