ٹرمپ ریٹرنز: میمز کا بادشاہ


Faysal Pakistani

 

اگر سیاست آپ کو بور کرتی ہے تو لگتا ہے آپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا سیاسی تھیٹر نہیں دیکھا۔ وہ ایک ایسے صدر تھے۔ اور اب پھر ہیں۔ جنہوں نے امریکہ کو نان اسٹاپ کامیڈی شو میں بدل دیا۔ ان کا ہر ٹویٹ ایک ایسا دھماکہ خیز اور چلبلا ہوتا ہے کہ دیکھنے اور پڑھنے والا بے اختیار ہنس پڑتا ہے، ان کی ہر پریس کانفرنس ایک ایسی محفل بن جاتی ہے جہاں ہر کوئی اپنی رائے دے رہا ہوتا ہے، اور ان کا ہر مخالف ایک نئے سیزن کا دلچسپ کردار لگتا ہے۔

ٹرمپ کا ٹویٹر اکاؤنٹ ایک ڈیجیٹل جادو کے چراغ کی مانند ہے۔ اس میں کوئی بھی سنجیدہ بات ڈالیں، فوراً ٹرمپ کے انداز میں ایک مزاحیہ تبصرے میں بدل جاتی ہے، جیسے کسی نے پوچھا، صدر محترم، معیشت کیوں گر رہی ہے؟ تو جواب ملا، یہ سب فیک نیوز ہے، میں نے تو گولڈ میڈل جیتا ہوا ہے۔ گویا کہنے والے نے پوچھا ہو، امّاں، ہنڈیا کیوں نہیں پک رہی؟ اور اماں نے جواب دیا، بیٹا، میں تو ماسٹر شیف ہوں۔ اسے کہتے ہیں، سوال گندم، جواب چنا۔

ان کا مشہور جملہ ’میں تاریخ کا سب سے بہترین صدر ہوں‘ سن کر ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بچہ اپنے آرٹ ورک پر خود ہی بڑا سا نمبر ون کا بورڈ لگا دے۔ اور جب وہ کہتے ہیں، کیپیٹل ہل پر حملے سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ تو یہ ویسا ہی معصومانہ بہانہ لگتا ہے جیسے کوئی طالب علم کہے، سر میری ہوم ورک کی کاپی تو بکری کھا گئی۔

جب کووڈ آیا تو ٹرمپ صاحب نے خود کو طبیبِ خاص ڈکلیئر کر دیا اور اپنی دانشمندانہ آرا کا ایسا دریا بہایا کہ سائنسدان بھی دنگ رہ گئے۔ بلیچ انجیکشن کا مشورہ ایسا تھا کہ اگر اس پر عمل ہوتا تو شاید پاکستانی مائیں بچوں کو پیناڈول کی جگہ ڈیٹول پلا رہی ہوتیں۔ اور جب انہوں نے کہا، سورج کی روشنی گھر کے اندر لائیں اور کووڈ بھگائیں۔ تو سائنسدانوں نے سر ہی کھجانے پر اکتفا کیا۔ شاید ان کا مطلب تھا دروازے کھڑکیاں کھول دو، وائرس خود ہی بھاگ جائے گا۔

ایک صحافی نے جب پوچھا، آپ ماسک کیوں نہیں پہنتے؟ تو ٹرمپ بولے، میں تو سپر ہیومن ہوں، مجھے کچھ نہیں ہوتا۔ میکسیکو کی دیوار کو ٹرمپ نے ایسے پیش کیا جیسے ایپل نیا آئی فون لانچ کر رہا ہو۔ تقریروں میں وہ کہتے، یہ دیوار اتنی مضبوط ہوگی کہ کوئی چوہا بھی پار نہ کر سکے گا۔ لیکن حقیقت میں یہ دیوار ان کی ناکام پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش تھی۔ جیسے کوئی کہے، میں نے گھر کی چھت نہیں ڈلوائی، لیکن دیواروں پر پینٹ کر دیا ہے، بارش کی کیا مجال جو اندر آ سکے۔ اور جب میڈیا نے پوچھا، دیوار کا خرچ کون دے گا؟ تو ٹرمپ بولے، میکسیکو والے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کوئی بچہ دکان میں کھڑی کسی عورت سے کہے امی نے کہا تھا میری آئس کریم کے پیسے آپ دیں گی۔

ٹرمپ اپنے آئی کیو کا ذکر ایسے کرتے ہیں جیسے آئن سٹائن نے اپنی تھیوری آف ریلیٹیوٹی کا اعلان ان کے ہی فیس بک پیج پر کیا ہو۔ ان کا مشہور دعویٰ، میں سب سے زیادہ جانتا ہوں سن کر عام لوگ بھی سوچتے ہوں گے اتنا جانتے ہیں تو پھر سب کچھ غلط کیوں ہوتا ہے؟ جیسے کوئی ڈرائیور کہے، میں دنیا کا بہترین ڈرائیور ہوں اور اگلے لمحے گاڑی ڈیوائیڈر سے ٹکرا جائے۔

ایک پریس کانفرنس میں جب رپورٹر نے پوچھا، ”آپ کے پاس ایٹمی کوڈز ہیں، کیا آپ ان کو استعمال کریں گے؟ تو ٹرمپ بولے، میں ایٹم بم کو ہاتھ سے روک سکتا ہوں! جیسے وہ سپرمین ہوں جو بم کو پھٹنے سے پہلے ہی ہوا میں پکڑ لے۔

الیکشن ہارنے کے بعد ٹرمپ کا رویہ ویسا تھا جیسے کوئی کھلاڑی آخری اوور میں میچ ہار کر کہے، یہ امپائر کی غلطی تھی۔ ان کا نعرہ ووٹوں کی چوری روکو ایسے لگا جیسے کوئی طالب علم کہے، میں تو ٹاپ کرنے والا تھا، بس پیپر ہی آؤٹ آف سلیبس آ گیا۔

عدالتوں میں انہوں نے ایسے دعوے کیے جیسے کوئی بچہ ٹیچر سے کہے، میرے جواب تو سارے ہی درست تھے، آپ نے مجھے پورے نمبر کیوں نہیں دیے؟ عوام نے سوچا، شاید یہ کوئی نیا ریئلٹی شو ہے ٹرمپ بمقابلہ ڈیمو کریسی۔

اور اب، جب ٹرمپ دوبارہ الیکشن جیت چکے ہیں، تو ان کا انداز ایسا ہے جیسے کسی نے لاٹری جیت لی ہو اور ہر طرف مٹھائیاں بانٹ رہا ہو۔ ان کی تقریروں میں اب ڈبل اینٹری والا مزاح شامل ہو گیا ہے۔ جیسے وہ کہتے ہیں، پہلے میں نے امریکہ کو عظیم بنایا، اب میں اسے سپر عظیم بنا دوں گا! گویا یہ کوئی برگر کا اسٹال ہے جہاں فرنچ فرائیز مفت مل رہے ہوں۔

ٹرمپ اور میڈیا کا رشتہ کچھ ایسا ہے جیسے کوئی بچہ اپنے کھلونے توڑتا پھرے اور کہے، میں تو انہیں بہتر بنا رہا ہوں۔ اگر نیویارک ٹائمز تنقید کرے، تو وہ فوراً کہتے ہیں، ’فیک نیوز‘

اب سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کا یہ سیاسی سیریل کہاں تک جائے گا؟ کیا وہ اپنے مخالفین کو مزاحیہ ویڈیوز میں بدل دیں گے؟ یا پھر ایک نیا ریکارڈ قائم کریں گے۔ امریکہ کا پہلا صدر جو تین بار الیکشن جیتا؟

ایک بات طے ہے جب تک ٹرمپ سیاست میں ہیں، میڈیا کو انٹرٹینمنٹ کی کبھی کمی نہیں ہو گی۔ ہر روز ایک نیا ٹویٹ، ایک نیا جملہ، ایک نیا تنازع۔ جیسے دی کپل شرما شو کا ہر ایپیسوڈ نیا ڈراما لے کر آتا ہے۔ ٹرمپ کی سیاست ایک ایسی فلم کی طرح ہے جس میں ہر سین ایک نیا موڑ لاتا ہے، اور ہر موڑ پر ایک نیا لطیفہ پھوٹتا ہے۔ ان کی ہر حرکت پر آپ ہنسے بغیر نہیں رہ سکتے۔ خواہ وہ ٹویٹر پر کی بورڈ وارئیر بنیں یا پریس کانفرنس میں اسٹینڈ اپ کامیڈین۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر صورت میں ہمیں ہنسانے میں کامیاب رہتے ہیں۔

تنگ آ کر امریکی عوام نے چینل تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ یہ سیاسی سیزن ساس بہو ڈرامے سے بھی زیادہ لمبا ہو چکا تھا۔ لیکن صرف چار سال میں ہی وہ ٹرمپ کو مس کرنے لگے اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے دوبارہ وائیٹ ہاؤس لے آئے۔

دوسری بار الیکشن جیت کر ٹرمپ کا انداز ایسا ہے جیسے میراثی کا بیٹا پاس ہو کر اپنی ہی گلی میں ڈی جے لگوا دے۔ اب امریکیوں کے پاس وہی گھسی پٹی فلم دوبارہ دیکھنے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ اس بار یہ سیزن ٹرمپ آن سٹیرائیڈز لگ رہا ہے۔

Facebook Comments HS

فیصل پاکستانی

فیصل پاکستانی بزنس مینجمنٹ کی تعلیم اور ڈیڑھ دہائی پر محیط انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ ایک معروف ادارے میں کلیدی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ایک سرگرم سوشل ایکٹوسٹ بھی ہیں۔ ’ہم سب‘ جیسے معتبر فورمز پر کرنٹ افیئرز، کھیل، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، آن لائن فراڈ اور سماجی موضوعات پر مستقل لکھتے ہیں۔

faysal-pakistani has 26 posts and counting.See all posts by faysal-pakistani