جنگ سے زیادہ جنگی ماحول خطرناک ہے
جنگ اور جنگی ماحول دو بالکل مختلف اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی کیفیات ہیں۔ جنگ دوطرفہ نقصان اور تباہی کی عملی تعبیر اور تصویر کا نام ہے جب کہ جنگی ماحول میں قبل از جنگ اپنے آپ کو تباہی اور نقصان کے لیے تیار کرنا وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ اگر جزئیات میں جھانکنے کی کوشش کی جائے تو مذکورہ بالا دونوں موضوعات ناقابل برداشت ہی نہیں قابل نفرت بھی ہیں اور اِنہوں نے انسانوں کی مدد سے روئے زمین کے چہرے کو مسخ کر دیا ہے۔ معلوم تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں نے قوموں، مذاہب اور ریاستوں کی آڑ لے کر بالکل اپنے جیسے انسانوں کو اس بیدردی کے ساتھ قتل کیا ہے کہ اگر امن کے لیے اس کے عشر عشیر بھی کوشش کی جاتی تو شاید مذاہب کو آسمانی جنت کے موجودہ تصور میں بہت سی ماورائی ترامیم کرنا پڑتیں۔ کیوں کہ یہ روئے زمین ہی ایک بہترین جنت ہوتی۔ ہم نے اس کو کسی جنت کے مشابہ کوئی چیز تو رہنے نہیں دیا اور بچی کھچی اُمید کو بھی عبرتناک جہنم بنانے کے جتن کر رہے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ جنگی ماحول پیدا کرنا تاریخ میں ایک مقدس کام رہا ہے۔ اس مقدس قرار دیے گئے ”فریضے“ کی تیاری میں خام مال مذاہب، قوم قبیلوں اور ریاستیں قرار دے دیے گئے تصورات نے مہیا کیا اور جب نفرت اور دشمنی کی آگ نے پکوان تیار کر دیا تو کھانے اور کھلانے والوں نے دنیا ہی بدل کر رکھ دی۔ جنگ اور جنگی ماحول کی تیاری کے حوالے سے کیا جدید اور کیا پس ماندہ سب ہی ایک صف میں کھڑے ملتے ہیں۔ اسرائیل نے جو کچھ فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، اس قسم کی مثالوں سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں آج بھی مجبور اور مظلوم اقوام موجود ہیں جنہیں طاقت ور جب چاہتے ہیں بندوق کی نوک پر رکھ لیتے ہیں۔
پون صدی سے دو ہمسایہ ممالک پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہیں اور نہ ختم ہونے والی چھوٹی موٹی جھڑپوں کے درمیان کئی جنگیں بھی لڑ چکے ہیں اور دونوں طرف سے یہی سننے میں آ رہا ہے کہ اب کی بار یہ ”فیصلہ کُن“ جنگ لڑیں گے۔ دونوں ممالک یہ نہیں جانتے کہ ہر جنگ فیصلہ کُن ہوتی ہے صرف جنگ کے بعد فیصلہ ساز بدل جاتے ہیں اور اُن کی جگہ نئے فیصلہ ساز مسلط ہو جاتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سوائے بنگلہ دیش کے باقی تمام جنگوں کی وجہ کشمیر کا موضوع رہا ہے۔ کشمیر کہلائے جانے والی یہ خوبصورت وادی دونوں ممالک کے درمیان منقسم ہے اور ایک اس کو اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے تو دوسرا شہ رگ۔ اگر طرفین کے دعوؤں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قدرتی طور پر کسی ایک کی بھی دستبرداری کی صورت نہیں نکل سکتی کیوں کہ نہ انگ الگ ہونے سے جسم سلامت رہتا ہے اور نہ شہ رگ کاٹ دینے سے زندگی باقی رہتی ہے۔ حیران کُن بات یہ ہے کہ نہ ہی انگ اپنی خوشی سے ساتھ جُڑا ہوا ہے اور نہ ہی شہ رگ نے کبھی کامل وابستگی کا اظہار کیا ہے، دعویدار ہیں کہ ہر وقت آمادہ بہ جنگ ہیں۔ بھارت کو انگ سلامت رکھنے کے لیے بارہ مہینے کرفیو اور چھاپہ ماری کے لیے سات لاکھ افواج تعینات کرنا پڑتی ہیں اور پاکستان ہے کہ اس کو اپنے ساتھ ملحق کشمیر کے خطے کے انتظام کے لیے سب کچھ اسلام آباد سے کرنا پڑتا ہے اور اس کے لیے ہر وقت جنگ پر بھی تیار رہنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ اس کشمکش میں خود کشمیری اور کشمیر درمیان میں سے محو ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کے پاس پرانے حسابات چکانے کا ایک ”خوبصورت“ بہانہ باقی ہے۔
آج کل جنوبی ایشیا میں جنگ اور جنگی ماحول دونوں کا غلبہ ہے۔ بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان کے اندر حملے کر کے جنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، حملہ آور بھارتی طیاروں کے تعاقب میں پاکستانی ائرفورس نے بھارت کے جدید جنگی طیاروں میں سے چند کو مار گرایا ہے اور ساتھ ساتھ دونوں ممالک کا میڈیا اور سیاستدان جنگی ماحول کو نہ صرف برقرار رکھے ہوئے ہیں بلکہ مزید تباہ کُن بھی بنا رہے ہیں۔ بھارتی یہ توقع کر رہے ہیں کہ وزیراعظم مودی نے جیسا کہا ہے ابھی مزید ٹارگٹس کو ہٹ کیا جائے گا، پاکستانی اس اُمید میں ہیں کہ کب ڈی جی آئی ایس پی آر ہنگامی پریس کانفرنس کریں اور قوم کو یہ نوید سنائیں کہ پاکستان نے بھارت میں فلاں فلاں ٹھکانوں پر کامیاب حملے کیے ہیں۔ دونوں طرف یہ نہیں سوچا جا رہا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔
دونوں ممالک میں نمایاں طور پر عوام کی طرف سے جنگ مخالف مظاہرے نہ ہونے کے برابر ہیں صرف لاہور میں چند ایک افراد نے امن کے لیے مظاہرہ کیا ہے جبکہ بھارت جیسے لوگوں سے لبالب بھرے ملک میں کسی سڑک یا چوراہے میں ایک بھی ایسا شخص نظر نہیں آیا جس کے دل میں امن کی خواہش موجود ہو۔ جنگی ماحول بنانے والوں نے نفرت اور انتقام کی آگ کو اس قدر بھڑکا دیا ہے کہ چنگے بھلے شاعر اور ادیب بھی منہ سے آگ نکال رہے ہیں۔ سرحد کے دونوں طرف فنکار جنگی ترانے گا رہے ہیں اور دشمن کو بھسم کردینے کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جیسے ہمارے سامنے بھارتی حکومت نے خود کو آگ اور خون کی دیوی بنا کر پیش کیا ہے بالکل ایسے ہی بھارتی میڈیا میں پاگل پن اور خون آشام رویہ ٹی وی سکرینوں پر ناچ رہا ہے۔ بھارت میں ایک نیا ٹرینڈ یہ ہے کہ پورا پاکستان تباہ ہو چکا ہے اور اب وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ اس صورت میں بھارتی میڈیا کی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں دماغوں میں کیا باقی بچا ہے؟ پاکستانی میڈیا بنیادی طور پر ”ماہرین“ کا میڈیا ہے جہاں ہر چینل پر ہر قسم کا ماہر ہر وقت دستیاب ہے۔ زیادہ تر پاکستانی ماہرین بھارتی جنگی مشینری کے نقائص بیان کرنے میں مصروف ہیں اور ہر اُس جدید اور پیچیدہ ٹیکنیکل چیز کو وہ اتنی سادگی اور صاف بیانی سے سامنے لاتے ہیں کہ ملال ہوتا ہے کہ ایسے زبردست لوگوں کو تو سیکورٹی اداروں میں ہونا چاہیے۔
جنگ یقینی طور پر تباہ کُن چیز ہے لیکن اس سے بھی کہیں تباہ کُن جنگی ماحول ہوتا ہے کیوں کہ جنگ کیسی بھی ہو اس کے جاری رہنے کی ایک مدت ہوتی ہے جب کہ جنگی ماحول دہائیوں تک لوگوں کے دماغوں اور خون میں رواں رہتا ہے۔ اس کا دوسرا مہلک نقصان یہ ہے کہ یہ وراثت کی طرح اگلی نسلوں کو منتقل ہوتا رہتا ہے اور جذباتی ادیب شاعر اس کو مستند شکل دے دیتے ہیں۔ اس کے بعد مورخین کی باری آتی ہے جو اس کو تاریخ کے صفحات میں جگہ دے کر آنے والی کئی نسلوں کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ اس دوران اگر یہ مذہبی مبلغین کے ہتھے چڑھ جائے تو فوری طور پر ثواب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ لوگ منتیں مانتے ہیں، اس کی پوجا کرتے ہیں اور اطراف میں شہیدوں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں پائے جانے والی اس جنگی صورت حال پر تو بین الاقوامی دنیا شاید اثرانداز ہو اور دونوں ممالک حتمی تباہی سے بچ جائیں لیکن اطراف میں پیدا ہو کر جوان ہوچکے جنگی ماحول کے آگے بند باندھنے کے لیے دونوں ممالک کے صحت مند اذہان کے مالک لوگوں کو آگے آنا پڑے گا۔


