موقع صرف انہیں ملتا ہے جو اس کے لیے تیار ہوں
دنیا میں ہر انسان ایک جیسے حالات سے نہیں گزرتا، اور نہ ہی ہر موقع ہر کسی کے لیے یکساں نتیجہ دیتا ہے۔ کسی کو ہوا بلند کرتی ہے اور کسی کو زمین سے لگا دیتی ہے۔ یہی ہوا، یہی موسم، یہی حالات کسی کے لیے کامیابی کی نئی راہیں کھولتے ہیں تو کسی کے خوابوں کو بکھیر کر رکھ دیتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ حالات کیسے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ تیار ہیں؟
جس طرح پرندہ ہوا کے رخ سے نہیں بلکہ اپنے پروں کی پوزیشن اور ذہنی تیاری سے پرواز کرتا ہے، ایسے ہی انسان اپنی سمت، ارادے اور حکمت عملی سے کامیابی کی بلندیوں کو چھوتا ہے۔ ہوا کا جھونکا صرف ایک آغاز ہوتا ہے، لیکن وہ آغاز صرف انہی کے لیے کارآمد ہوتا ہے جو پہلے ہی اپنے پروں کو ترتیب دے چکے ہوں۔
معروف سائنسدان لوئس پاسچر نے کہا تھا: Chance favors the prepared mind یعنی موقع صرف انہیں ملتا ہے جو اس کے لیے تیار ہوں۔
یہ اصول زندگی کے ہر شعبے پر لاگو ہوتا ہے، خاص طور پر کاروبار میں۔ کاروبار کوئی فکسڈ چیز نہیں، یہ ہر لمحہ بدلتا رہتا ہے۔ مارکیٹ کے رجحانات، ٹیکنالوجی کی جدت، صارفین کی ترجیحات، معاشی حالات سب کچھ تیزی سے کروٹیں بدلتا ہے۔ ان بدلتے حالات میں وہی کاروبار بچتا ہے جو حالات کے بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔
اس کی ایک خوبصورت اور گہری مثال کسان اور بارش کی ہے۔ اگر کسان جانتا ہو کہ بارش آنے والی ہے، اور اس نے پہلے سے اپنی زمین کو نرم کر رکھا ہو، بیج تیار ہوں، اور پانی کے بہاؤ کا نظام بھی درست ہو، تو وہی بارش اس کے لیے برکت بن جاتی ہے۔ وہ ہر قطرہ اپنے کھیت کی زرخیزی میں تبدیل کر لیتا ہے۔ اس کی فصل اگتی ہے، بڑھتی ہے اور منافع دیتی ہے۔ لیکن اگر وہی بارش اس وقت آ جائے جب زمین تیار نہ ہو، تو وہی زمین دلدل بن جاتی ہے۔ نہ ہل چلایا جا سکتا ہے، نہ بیج بویا جا سکتا ہے، اور نہ کوئی مشینری کام کر سکتی ہے۔ فصل برباد ہو جاتی ہے، وقت ضائع، سرمایہ ضائع، اور خواب خاک ہو جاتے ہیں۔ یہی بارش کسی کے لیے رحمت، تو کسی کے لیے زحمت بن جاتی ہے۔ فرق صرف تیاری کا ہوتا ہے۔
یہی کچھ کاروبار میں بھی ہوتا ہے۔ جو ادارے وقت سے پہلے منصوبہ بندی کرتے ہیں، مارکیٹ کو پڑھتے ہیں، اور جدت کو اپناتے ہیں، وہ Netflix بن جاتے ہیں، جو آنے والے رجحانات کا اندازہ لگا کر اپنی سمت درست کرتے ہیں اور جو Kodak بن کر تبدیلی سے منہ موڑتے ہیں، وہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
یہی قانون زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جو نوجوان امتحان سے پہلے تیاری کرتا ہے، وہ پر اعتماد ہوتا ہے۔ جو ملازمت کے لیے خود کو سیکھنے، تحقیق اور انٹرویو کی تیاری سے آراستہ کرتا ہے، وہی منتخب ہوتا ہے۔ جو صرف قسمت پر تکیہ کرتا ہے، وہ اکثر ناکامی کا شکار ہوتا ہے۔
ایک لکڑہارا اگر دن بھر بغیر آری تیز کیے لکڑیاں کاٹتا رہے، تو جلد ہی اس کی آری کند ہو جائے گی اور اس کی کارکردگی کم ہو جائے گی۔ ایک قصائی اگر چھری تیز نہ کرے تو نہ گوشت صحیح کاٹے گا، نہ وقت بچے گا، نہ صفائی آئے گی۔ مگر جو شخص فارغ وقت میں اپنے اوزار کو تیز کرتا ہے، وہ کام کے وقت میں دوسروں سے آگے نکلتا ہے۔ اسی طرح، کامیاب لوگ فارغ وقت کو ضائع نہیں کرتے، وہ سیکھتے ہیں، سوچتے ہیں، خود کا جائزہ لیتے ہیں، مہارتیں بڑھاتے ہیں، تاکہ جب اصل وقت آئے تو وہ تیار ہوں۔ یہ تیاری، یہ ”آری کی دھار“ ، ہی کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔
ہوا، بارش، وقت، حالات یہ سب ایک جیسے ہیں، لیکن ان کا اثر ہر فرد پر مختلف ہوتا ہے۔ کامیابی نہ حالات سے آتی ہے، نہ قسمت سے، بلکہ تیاری، بصیرت، اور بروقت عمل سے آتی ہے۔ جو انسان، کسان، یا تاجر خود کو بدلتے موسموں کے لیے تیار رکھتا ہے، وہی ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
یاد رکھیں اگر آپ نے اپنے پروں کو سنوار لیا ہو، تو ہوا کا ایک جھونکا ہی آپ کو بلندی پر لے جانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ورنہ وہی ہوا آپ کو اڑا کر زمین پر دے مارتی ہے۔
لہٰذا، چاہے زندگی ہو، کاروبار ہو یا کوئی نیا سفر۔ کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو خود کو پہلے سے تیار رکھتے ہیں۔


