کچھ ہم عصر جنگی دُکھڑے


 

جنگیں سب سے پہلے اندر کے دشمن بے نقاب کرتی ہیں۔ کشیدگی بخیر، ہر دھڑے کے موجودہ حالات میں اپنے اپنے دکھڑے دیکھے جا سکتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں۔

بلوچستانی دکھڑے : مدت سے پنجابی ہمارا حق کھاتے آ رہے ہیں۔ اس جنگی صورت حال نے اب مزید واضح کر دیا ہے کہ پنجاب ہمارے حصے کے میزائل اور ڈرون تک کھا رہا ہے۔

پختون دکھڑے : صدیوں سے ہمارے بزرگ جب بھی اس خطے میں آئے تو کبھی بھی تہی دامن واپس نہیں لوٹے۔ لیکن اب پنجاب ہمارا وراثتی حق دبا رہا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اب کوئی پختون پنجاب کی اس جنگ میں شامل نہیں ہو۔

2۔ اگر رافیل طیارے پاکستان نے گرائے ہیں توان کا ملبہ پاکستان میں کیوں نہیں گرا؟ جس رفتار سے پاکستان بھارتی طیارے گرا رہا ہے، لگتا ہے گنتی فارم 47 کے مطابق ہو رہی ہے۔ اور یہ بھی پوچھنا تھا کہ یہ ڈرون کے ملبے پاکستان میں کیوں گر رہے ہیں؟

3۔ یہ جنگ کا سارا ڈراما نواز اور مودی کا رچایا ہوا ہے جس کا و احد مقصد خان کو کسی ڈرون یا میزائل حملے میں مارنا ہے۔ مودی اور نواز شریف کے برادرانہ تعلقات ہیں جس کو نواز شریف نہیں بگاڑنا چاہتا۔ اسی لیے بھارت کے خلاف کوئی بیان نہیں دے رہا۔

4۔ پاکستانی میڈیا سچائی نہیں دکھا رہا۔ انڈین میڈیا اور ہمارے یوٹیوبرزایک پییج پر سچائی پیش کر رہے ہیں۔ لہٰذا سوائے شریرک شوشن کی خبر کے، انڈین میڈیا پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

5۔ جو بھی ہے مودی بذات خود ایماندار آدمی ہے۔ اس کی ملک سے باہر کوئی پراپرٹی نہیں اور اس نے ہمیشہ آزاد خارجہ پالیسی اپنائی ہے۔ ( بانی تحریک)

لبرلز کے دکھڑے : 1۔ اس بار میدان جنگ میں بزرگ بہت خراب فیلڈنگ کر رہے ہیں۔ ابھی تک کسی بابے کی ڈرون، بم یا میزائل کیچ کرنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی ہے۔

2۔ بہت سے مسلمان مجاہدین آپے سے باہر ہیں کہ جلد دہلی پر پاکستان کا جھنڈا لہرایا جائے اور ان کو بالی ووڈ کی ہیروئنوں کو بطور لونڈی اپنانے کا موقع دیا جائے مگر ان کی راہ میں حکومت پاکستان رکاوٹ بن رہی ہے۔ انڈیا کا موقف درست ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ پاکستان ایسا کر کے دونوں ممالک کے معصوم عوام کا خون کرواتا ہے، پاکستان کو فوراَ ایسے لوگوں کو ملک سے نکال دینا چاہیے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔

پٹواری دُکھڑے : 1۔ فارم 45 قوم کے لیے نہایت مضر ہے کیونکہ پاکستان میں عوام صرف ایک بے سُرا ہجوم ہے، جس میں دس سکالرز کے مقابل گیارہ نشئی ہوں تو جیت جاتے ہیں۔ اقبال نے اسی لیے کہا تھا، کہ ”از مغزِ دو صد خر فکرِ انسانی نمی آید“ ۔ امریکہ میں فارم 45 کی بنیاد پر ایک پاگل برسراقتدار آیا ہے جس نے امریکہ سمیت پوری دنیا کو خوار کر رکھا ہے۔ ادھر بھارت بھی فارم 45 کے نتائج بھگت رہا ہے۔ صد شکر کہ پاکستان فارم 45 کی نحوست سے بچ گیا۔ بادشاہی اللہ کی مرضی سے ملتی ہے، لوگوں کے دینے سے نہیں۔ بھلا اللہ کی مرضی کے بغیر کون اقتدار لے سکتا ہے۔

2۔ ہمیں وزیر اعظم سے شکوہ ہے کہ وہ کم ازکم اسمبلی میں اپوزیشن کو اتنا تو کہہ دے، ”اب میں آپ کے کہنے پر بھارت پر حملہ کر دوں“ ۔

بھارتی دُکھڑے : 1۔ دنیا بھر کے مذہبی آتنگ وادیوں کو پاکستانی سینا سپورٹ کرتی ہے۔ اس آشیرباد سے وہ بھارتی ناگرکوں کو ہلاک کرتے ہیں۔

2۔ بھارتی سینا نے لاہور، کراچی اور فیصل آباد پر قبضہ کر لیا ہے اور سمندری جزیرے اور اس کی بندرگاہ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔

3۔ پاکستانی سینا کے پیچھے عوام نہیں ہے۔ بلوچستان، پختون بیلٹ اور خان کی جماعت مکمل طور پر ہمارا ساتھ دے رہی ہے۔ کیونکہ ان کا اصل لیڈر جیل میں ہے۔ جس نے اپنے دورمیں چائنا اور سعودی عرب کو ٹھینگے دکھائے تھے۔ ایسا دلیر آدمی کہ ہزاروں طالبان کو واپس پاکستان لایا۔ وہ اکیلا پاکستانی تھا جس کی جماعت نے فوج پر حملہ کیا۔ باقی جماعتوں کی لیڈرشپ بھی جیلوں میں رہی مگر کسی میں فوج پر حملے کی ہمت نہیں تھی۔ سارے بزدل تھے۔

ریاستی دُکھڑے : 1۔ 7 مئی اور 9 مئی کو ریاست پر حملہ کرنے والوں کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ ملک کے لیے 9 مئی والوں کی ایک تقریر 7 مئی والوں کے ڈرون سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ حوصلہ پست کرنے والے، مذاق اڑانے والے، نقصان کی کیلکولیشن کرنے والوں کی شکلیں یاد رکھی جائیں گی انشا اللہ پاکستان زندہ باد۔

Facebook Comments HS