بنگلہ دیش میں چند دن۔ قسط: 8


dr shershah syed

تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید
ترجمہ اور تلخیص :گوہر تاج

ڈھاکہ شہر بہت متاثر کن ہے۔ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ حکومت نے بنگال کے اس پرانے شہر میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کتنا خرچہ کیا ہے۔ ایک دوست نے مجھے بتایا کہ پارلیمنٹ کی مضبوط عمارت ہماری جمہوریت کی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے۔

ڈھاکہ میں عمارتوں اور اوور ہیڈ اور زیر زمین پلوں کی تعمیر ملک میں دولت کی تفاوت کی نشاندہی کرتی ہے۔ ملک کے چیف جسٹس کے لیے ایک بڑا وائٹ ہاؤس بنگلہ دیش میں کالے قوانین اور انصاف کی کمی کو چھپانے کے قابل نہیں ہے۔

اپنی آزادی کے پچاس سالوں میں بنگلہ دیش کے فریقین کے درمیان سیاسی جنگ اور شہری معاملات میں فوج کی مداخلت کے باوجود ملک بہت سے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عبوری حکومت ایک ایسے منصوبے پر عمل کرے گی جو لوگوں کو اکٹھا کرے اور تمام بنگلہ دیش میں عوام کے فائدے کے لیے بے رحم سرمایہ داری کو کنٹرول کیا جائے۔

ہفتہ 2024 ء
سلہٹ میں ایک دن

ڈھاکہ ائرپورٹ پر ہفتے کی صبح بھیڑ تھی، جہاں ہم صبح چھ بجے پہنچے۔ یو ایس بنگلہ کی فلائٹ وقت پر تھی۔ ہم نے ائر پورٹ پر بہت سے یو ایس بی بنگلہ ائر کرافٹ دیکھے۔ صبح آٹھ بجکر ستائیس منٹ پہ ہم سلہٹ پہنچے۔ موسم بہت خوشگوار تھا۔ ہمیں عثمانی میڈیکل کالج کے پرنسپل سے ملنا تھا جس کا نام پہلے سلہٹ میڈیکل کالج تھا۔ میری والدہ نے 1959 ء میں اس کالج سے گریجویشن کی تھی۔ میں نے سوچا کہ اب جب میں ڈھاکہ میں ہوں تو ایک بار سلہٹ ضرور جانا چاہیے جہاں میں چھ سال کی عمر تک رہا۔

کالج میں پرنسپل پروفیسر ضیاء الرحمن چوہدری میرا انتظار کر رہے تھے۔ جب میں نے سلہٹ جانے کا منصوبہ بنایا تو میرے دوست ڈاکٹر نظام نے انہیں پہلے ہی میرے بارے میں بتا دیا تھا۔ میں نے انہیں اپنی کتاب دی اور اجرک پیش کی اور ساتھ ہی اس پانچ سے سات ہزار سال پرانے اجرک کے ڈیزائن کے بارے میں بتایا جب دریائے سندھ میں تہذیب پروان چڑھ رہی تھی۔

میں نے انہیں اپنے بھائی ڈاکٹر سراج الدولہ کی طرف سے ان کے لیے اور پیتھالوجی کے پروفیسر کا تحفہ بھی دیا۔ سراج الدولہ نے سلہٹ میڈیکل کالج میں بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ سراج نے اس کالج کے لیے ہر سال پیتھالوجی میں بہترین طلباء کے لیے گولڈ میڈل کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ 2010 ء میں میری ملاقات او بی جی وائی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خورشید سے ہوئی جنہیں یہ تمغہ کچھ سال پہلے ملا تھا۔ ہم نے ڈاکٹر خورشید کے دفتر میں چائے پی اور اس کے بعد شعبہ او بی جی وائی چلے گئے۔

جہانگیر پیشہ کے اعتبار سے انجینئر ہے، بہت محنتی نوجوان ہے۔ نظام الملک کے ساتھ کام کرتے ہوئے میرے ساتھ سلہٹ آئے۔ وہ بنگلہ دیش کی سیاست اور ملک کی سماجیات کی معاشی حالت کی بہت اچھی سمجھ رکھتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں وہ زیادہ تر وقت میرے ساتھ رہتے تھے۔ اوبر (Uber) کروانے اور سڑک کے کنارے واقع ڈھابہ کے انتخاب میں ماہر تھے۔

ائرپورٹ سے میڈیکل اسکول تک سڑک کے دونوں طرف چائے کے لہلہاتے باغات تھے۔ ہم سڑکوں پر چلتے ہوئے اور دیواروں پر لکھے نعرے پڑھتے ہوئے میڈیکل کالج پہنچے۔ جن کا ترجمہ میرے لیے جہانگیر نے کیا۔ فلسطینی اور ان کی جدوجہد کے حق میں اور سولہ دسمبر کو بنگلہ دیش کی آزادی کے بارے میں بھی نعرے تھے۔

اصولی صاحب نے ہمیں گرما گرم بہت اچھی سلہٹ چائے پلائی۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS