خواب، محبت اور زندگی: ہیرو سے نشئی بننے تک (19)


ہم سب بے حد خوش تھے کہ ابی واپس ہماری زندگی میں آ گئے تھے لیکن ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ایک ڈراؤنا خواب ہمارا منتظر تھا۔ لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ رہتے ہوئے انہیں پیتھیڈین کے انجکشن لگانے کی عادت پڑ گئی تھی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ کوکین کے خواص سے مشابہ ایک ٹیکہ تھا۔ دراصل اس خاتون کے ساتھ رہتے ہوئے ابی جب بھی امی اور ہمارے لئے پریشان ہوتے تھے تو وہ ان کا ذہنی دباؤ دور کرنے اور سکون پہنچانے کے لئے یہ ٹیکہ لگا دیتی تھی اور اب وہ اس کے عادی ہو چکے تھے۔

جلد ہی ان کے بازو اور رانیں سوئیوں کے نشانات سے چھلنی ہوتی گئیں۔ کبھی غلطی سے ٹیکہ خون کی شریان میں چلا جاتا تو کچھ سیکنڈوں کے لئے ان پر دورہ سا پڑ جاتا، وہ تڑپنے لگتے اور سر کے بال نوچنے لگتے اور ہم بچے خوف زدہ ہو کر ان کی یہ حالت دیکھتے رہتے۔ ابی کی مدد کرنے کے خیال سے امی نے خود انجکشن لگانا سیکھ لیا۔ ذرا سوچئے ایک نو عمر گھریلو لڑکی ابی کی محبت میں کن کن مراحل سے گزری، شادی، گھریلو ذمہ داریاں، بچوں کو پالنا، سوتن کا دکھ جھیلنے کے بعد اب وہ ابی کی نرس بھی بن گئی تھیں۔

بقول اقبال ”اس شہر میں جو بات ہو، اڑ جاتی ہے سب میں“ ۔ جلد ہی چیئرمین تک بھی یہ خبر پہنچ گئی کہ ابی اس علت میں مبتلا ہو چکے ہیں اور اس نے فوری طور پر ابی کی ملازمت ختم کر دی۔ ابھی ہم ابی کی دوسری شادی اور نشے کی علت سے ہی نہیں سنبھلے تھے کہ بے روزگاری اور مالی پریشانیوں کا عفریت منہ کھولے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اب ٹیلیفون ایکسچینج میں امی کی جز وقتی ملازمت سے حاصل ہونے والی معمولی آمدنی ہمارے گھرانے کی کفالت کا واحد ذریعہ رہ گئی تھی۔ آج اپنے ماضی کے بارے میں سوچتی ہو تو احساس ہوتا ہے کہ شاید میرے بچے صحیح کہتے ہیں کہ ٹراما سے بھرپور میرا بچپن اتنا خوبصورت بھی نہیں تھا جتنا کہ میں نے سمجھا اور انہیں بتایا۔ لیکن میں آج بھی سمجھتی ہوں اس اندھیرے میں بہت سے جگنوؤں کی روشنی بھی شامل تھی۔

میرا باپ۔ ایک فائٹر

جیسا کہ میں نے اپنی کہانی کے آغاز میں بتایا تھا، ابی ایک رجائی اور زندہ دل شخص تھے۔ انہوں نے مایوس ہونا تو سیکھا ہی نہیں تھا۔ حالات خواہ کیسے بھی ہوں، وہ شاداں اور فرحاں ہی رہتے تھے۔ جس روز انہیں دفتر میں ملازمت سے برخاستگی کا پروانہ ملا تو وہ گھر آنے سے پہلے بازار گئے اور ہمارے لئے لائلپور کا مشہور جہانگیر کا پلاؤ خرید کر گھر آئے اور اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ خبر سنائی۔

ملازمت ختم ہونے کے اگلے روز ہی ابی اسلام آباد اپنے پہلے باس مسرت حسین زبیری سے ملنے چلے گئے جن کے ساتھ پارٹیشن کے وقت وہ پاکستان آئے تھے۔ یعنی مشہور بیوروکریٹ مسرت حسین زبیری جن کا ذکر پہلے باب میں ہو چکا ہے۔ اس زمانے میں حکومت کراچی میں نو دریافت شدہ سوئی گیس کا محکمہ قائم کرنے جا رہی تھی۔ زبیری صاحب نے متعلقہ افسران سے بات کی اور ابی کو ایک رقعہ دے کر کراچی میں جا کے اس پراجیکٹ کے انچارج حیات صاحب سے ملنے کے لئے کہا۔ ابی خوش خوش لائلپور واپس آئے اور اپنا سوٹ کیس پیک کر کے کراچی روانہ ہو گئے۔ ہمارا قیام کالونی میں ہی رہا کیونکہ امی ٹیلیفون ایکسچینج میں ملازمت کر رہی تھیں لیکن ہمیں وہ بنگلہ چھوڑنا پڑا جو ابی کو ملا ہوا تھا اور ہم کلرکوں کے لئے بنے ہوئے ایک کوارٹر میں شفٹ ہو گئے۔ بدقسمتی سے جیسا کہ پاکستان کے سرکاری محکموں میں ہوتا ہے، حیات صاحب وہ ملازمت کسی اور کو دینا چاہتے تھے جس کے لئے زبیری صاحب نے ابی کو ان کے پاس بھیجا تھا۔ بعد میں قاہرہ جانے والی پی آئی کی پہلی پرواز جو حادثے کا شکار ہوئی اور کئی صحافی لقمہ اجل بنے، ان میں وہ حیات صاحب بھی شامل تھے۔ امی کی طرح ابی نے بھی یہی سوچا ہو گا کہ انہیں ابی کا دل دکھانے کی سزا ملی۔

ابی کو اپنی بھاگ دوڑ کے نتیجے میں جلد ہی اے کے سومار صاحب کے دفتر میں ملازمت مل گئی جو ان دنوں ایوب خان سے قربت کی وجہ سے کاروباری اور سیاسی حلقوں میں اہمیت اختیار کرتے جا رہے تھے۔ ملازمت ملنے کے بعد ابی نے امی اور بچوں کو کراچی بلا لیا۔ ابی کا قیام پی ای سی ایچ سوسائٹی میں اپنے چچا کے گھر تھا۔ پارٹیشن کے بعد وہ بھی پاکستان چلے آئے تھے جب کہ ہمارے دادا نے دہلی میں رہنا ہی پسند کیا تھا۔ یہ وہی چچا ہیں جن کی شادی کا قصہ پہلے باب میں بیان ہو چکا ہے۔

اس زمانے میں چیئرمین نے ملز کے مالیاتی اور انتظامی امور درست کرنے کے لئے اپنے ایک رشتہ دار میاں عبدالصمد کو لائلپور بلوا کر سارے اختیارات سونپ دیے تھے۔ وہ ایک ایماندار اور اصول پسند منتظم تھے۔ انہیں امی کی ساری کہانی پتہ چل گئی تھی اور وہ امی کے ساتھ بیٹیوں کا سا سلوک کرتے تھے۔ انہوں نے امی کو مشورہ دیا کہ وہ کراچی جانے کی بجائے لائلپور میں ہی ملازمت کرتی رہیں، رہائش اور بچوں کی تعلیم ویسے ہی مفت تھی۔ مگر امی نے ابی کی بات ماننے کا فیصلہ کیا اور سامان باندھ کر ہم بچوں کے ساتھ ٹرین کے ذریعے لائلپور سے کراچی روانہ ہو گئیں۔

(جاری ہے)

Facebook Comments HS