آبی جنگ
پاک سرزمین کی طرف رخ کیے ہزاروں سالوں سے بہنے والے دریائے چناب کی لہروں کے پیچھے چھپا المیہ آج ایک خاموش جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہندوستان نے اپنی سرحدوں سے باہر ایک نئی قسم کی جنگ کا آغاز کر دیا ہے جہاں گولیوں اور توپوں کے علاوہ پانی کے بہاؤ کو تبدیل کرنے والے بندوں کو اسلحہ بنا کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تعمیر ہونے والا بگلیہار ڈیم جو 900 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ غاصب ریاست نے اسی سرزمین پر سلال ڈیم بھی تعمیر کر رکھا ہے جو 690 میگاواٹ فیڈ کرتا ہے، مگر افسوس یہ اب محض بجلی پیدا کرنے کے منصوبے نہیں رہے۔ یہ تو پاکستان کی زرعی معیشت کو مفلوج کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ بن چکے ہیں۔ جموں و کشمیر کے ضلع رامبڑ میں واقع بگلیہار ڈیم پر تقریباً 1,200 ملازمین کام کرتے ہیں۔ جبکہ ریاسی میں تعمیر شدہ سلال ڈیم پر 800 سے زائد ٹیکنیشنز اور انجینئرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ہندوستان کی آبی جارحیت کا یہ سلسلہ کوئی اچانک شروع ہونے والا واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا نتیجہ لگتا ہے۔ دریائے نیلم پر تعمیر کردہ کشن گنگا ڈیم جو 330 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے، اس سے حاصل ہونے والی توانائی جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش کے صنعتی علاقوں کو فراہم کی جاتی ہے۔ موسم بہار میں جب ہمالیہ کی برف پگھلتی ہے تو ہندوستان اپنے ڈیمز کو بھر لیتا ہے، مگر جب پاکستان کے کھیتوں کو پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے تو یکایک پانی کا بہاؤ روک دیا جاتا ہے۔ ان ڈیموں سے پیدا ہونے والی بجلی کا بڑا حصہ دہلی، پنجاب (بھارت) اور ہریانہ کی صنعتوں کو منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ مقامی آبادی کو اس کا نہ ہونے کے برابر فائدہ پہنچتا ہے۔
اس آبی جنگ کے ماحولیاتی اثرات انتہائی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ دریائے چناب میں مچھلیوں کی بہت سی انواع جو کبھی سینکڑوں میں گنی جاتی تھیں اب معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ بگلیہار ڈیم کے تعمیراتی عملے میں شامل 5,000 مزدوروں میں سے زیادہ تر بہار اور اتر پردیش کے غریب علاقوں سے تعلق رکھتے تھے، جنہیں عارضی ملازمت کے بعد گھروں کو لوٹنا پڑا۔ مقبوضہ کشمیر کے غریب مسلمانوں کو اپنے دیس میں مزدوری کرنے کا موقع بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ ڈیموں کی ناروا تعمیر سے دریائی کناروں پر واقع زرخیز زمینیں جو صدیوں سے کسانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ تھیں اب سمٹتی جا رہی ہیں۔ سلال ڈیم سے حاصل ہونے والی بجلی کا 60 فیصد حصہ جموں و کشمیر کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ باقی 40 فیصد قومی گرڈ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان کو اس آبی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے آبی ذخائر کو بڑھانے کے لیے ڈائمنڈ بش ڈیم جیسے منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنا ہو گا۔ ہم ادھر پانی کی کمی کا شکار ہیں جبکہ دوسری طرف ہندوستان اپنے تینوں ڈیمز (بگلیہار، سلال اور کشن گنگا) سے سالانہ 1,920 میگاواٹ بجلی پیدا کر کے اپنی صنعتی ترقی کو تقویت پہنچا رہا ہے، ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اپنی توانائی کی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ بین الاقوامی فورمز پر ہندوستان کی اس جارحیت کو بے نقاب کرنا ہو گا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی تمام شقوں کا مکمل احترام کرے۔ مقبوضہ کشمیر کے ڈیموں ہر کام کرنے والے 3,000 سے زائد ملازمین بھی مقبوضہ کشمیر کی مسلم آبادی کے استحصال کے مظہر ہیں کیونکہ کشمیر کی خصوصی آئینی اور قانونی حیثیت کی منسوخی کے بعد ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے آنے والوں کو وہاں ملازمتیں اور رہائش فراہم کی گئی ہے۔ ہمیں ہندوستان کی جانب سے کی جانے والی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کو عالمی عدالت میں چیلنج کرنا ہو گا۔
پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کی یہ خاموش جنگ دراصل ہماری بقا کی جنگ ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے پانی کے ذخائر محفوظ کرنے ہوں گے۔ اگر ہم نے اب بھی اس طرف توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ یہ جنگ صرف پانی کی جنگ نہیں، بلکہ ہماری قومی خودمختاری اور معاشی بقا کی جنگ ہے جسے ہر قیمت پر جیتنا ضروری ہے۔


