پاک بھارت جنگ اور امن کا پیغام
گزشتہ ادوار میں ایسی خوفناک جنگیں لڑی گئی ہیں جنہیں یاد کرنے سے بھی انسان دہشت زدہ ہوتا ہے۔ جو صدیاں گزرنے کے باوجود لوگوں کے اذہان میں نقش ہوئے ہیں اور یہ کسی صورت محو نہیں ہونے پاتیں۔ ان کی ہیبت ناکی اور تباہی سے دنیا کے بہت سے ممالک آج تک نہیں نکل سکے ہیں جن میں 20 ویں صدی میں لڑی جانے والی جنگیں قابل ذکر ہیں۔ ان میں حکمرانوں کے ذاتی مفادات، عددی برتری، طاقت کا گھمنڈ اور سب سے بڑھ کر اپنی بڑائی کی مثال قائم کرنے کے لیے کمزور اقوام پر جنگیں مسلط کی گئیں نتیجے میں آباد شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو کر شمشان کا منظر پیش کرنے لگے۔ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ بے گناہ افراد مارے گئے، عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوئے۔ عصمت و عفتوں کو تار تار کیا گیا۔ انسانی لہو کو پانی کی طرح بہایا گیا۔ مدتوں میں ہونے والے مادی لحاظ سے مضبوط اور ترقی کرتے سماج کو واپس پتھر کے دور میں دھکیل دیا گیا۔
آپ پہلی جنگ عظیم کو دیکھ لیجیے یہ معرکہ چار سال چلا ان چار سالوں میں ساڑھے چار کروڑ لوگ مارے گئے۔ اسی طرح مسلسل چھ برس ہونے والی دوسری جنگ عظیم میں یورپ امریکہ اور جاپان کے چھ کروڑ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ یہ جنگ ہر ماں کی گود اجاڑ گئی۔ اس جنگ کی ابتدا میں جرمنی نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ پولینڈ پر ہلا بولا۔ انگنت لاشیں بچھا دی گئیں اور یوں پولینڈ ایک مہینے میں راکھ کا ڈھیر بن گیا بالآخر امریکہ نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم جیسا جوہری ہتھیار استعمال کر کے دنیا کو ایک نئی مصیبت میں مبتلا کر دیا جس کے اثرات آج تک پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ غرض جنگی محاذ پر انسان حیوانوں کو مات دیتا دکھائی دیتا ہے۔ ذاتی انا کی تسکین کے لیے معصوم جانوں کو موت کی وادی میں پہنچانے والے اس عمل کو شیطان کا کھیل کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔
پچھلے کافی عرصے سے پاک بھارت کے حالات بدستور تناؤ کا شکار ہیں مگر 22 اپریل کو بھارت کے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے حملے میں 28 سیاح ہلاک ہوئے اس جارحانہ حملے کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے فضائی حملے کیے اور مزید ایک دوسرے کے مذہبی و ثقافتی مقامات کو نشانہ بنانے کے دھمکی آمیز بیانات آرہے ہیں۔ دہشت گردوں نے جنگی آگ کو بھڑکا کر پاک بھارت سمیت پوری دنیا کو ایک خطرناک جنگی دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک میں جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ آگ اور بارود کا طوفان ایک بار پھر سر اٹھاتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر بروقت حالات پر قابو نہیں پایا گیا تو یقیناً ایک نئی اور تیسرے عالمی جنگ کے آثار واضح نظر آرہے ہیں۔
محترم قارئین! لفظ جنگ اپنے اندر قیامت سمیٹے ہوئے ہے۔ روز اول سے لڑی جانے والی جنگیں انسان کو تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ دے سکیں۔ ان لوگوں سے پوچھا جائے جنہوں نے جنگ کی صعوبتوں کو جھیلا ہے۔ آپ پولینڈ، جرمنی، فرانس، برطانیہ، روس، جاپان، امریکہ، ایران، افغانستان، عراق، لبنان، شام، فلسطین، کشمیر اور دیگر جنگ زدہ علاقوں کے لوگوں سے پوچھیں یا ان کی جنگی داستانیں پڑھیں، یہ آپ کو بتائیں گے کہ جنگیں ہوتی کیا ہیں اور انسان کے لیے امن کتنا ضروری ہے؟ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ جنگ میں فتح جس کسی کی بھی ہو تذلیل انسانیت کی ہوتی ہے۔ جنگ کوئی نہیں جیتتا ہے۔ لہٰذا حالات کا تقاضا یہ ہے کہ خطے کو اندوہناک تباہی سے بچانے اور جنگ کو آگے بڑھنے اور پھیلنے سے روکا جائے وگرنہ طاقت کا زور دکھایا گیا تو اس کے نتائج صدیوں تک محیط ہوں گے۔ امن کی متمنی اقوام اپنے ہر مسئلے کو باہمی گفت و شنید سے حل کرتیں ہیں۔ لہٰذا اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی تنظیمیں اس بھڑکتی آگ کو کم کرنے کے لیے جلد از جلد مثبت اقدامات کریں۔ دانش مند افراد جو جنگ کی ہولناکیوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن کے پیغام کو عام کرنے اور لوگوں کے دلوں میں امن سے محبت، جنگ سے بیزاری اور نفرت پیدا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اپنی تحریروں میں جنگ سے پیدا ہونے والی صورت حال اور تباہ کاریوں کا ذکر کریں اور جنگوں کو روکنے کے لیے باہمی مذاکرات پر زور دیں تاکہ تیسری عالمی جنگ کے منڈلاتے خطرات ہمیشہ کے لیے ٹل سکیں۔ جنگ کی ہولناکیوں اور امن کی رواداری کو مشہور شاعر ساحر لدھیانوی نے اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے۔
ٹینک آگے بڑھے کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں


