7مئی: یومِ دفاعِ پاکستان۔ ایک نئی تاریخ کا آغاز

ہر قوم کی تاریخ میں کچھ دن ایسے آتے ہیں جو ناقابلِ فراموش ہوتے ہیں۔ جیسے 6 ستمبر 1965 کو قوم نے اپنی سرزمین کا دفاع کیا، ویسے ہی اب 9 مئی کو ”یومِ دفاعِ پاکستان“ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
یہ وہ دن تھا جب بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں، چپکے سے، چوروں کی طرح میزائل فائر کیے۔ خیال تھا کہ پاکستان سو رہا ہو گا، مگر دشمن یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ قوم راتوں کو جاگتی ہے، چاہے وہ موبائل پر ہو، کھابوں پر ہو یا مورچوں پر۔ لیکن اس دن میزائلوں کو آنے دیا گیا کہ علامہ نے اپنے شاہینوں کو جھپٹنا، پلٹنا، جھپٹ کر پلٹنا سکھایا ہے، روکنا نہیں۔
سپہ سالار نے فرنٹ فٹ پر آ کر دشمن کو للکارا:
”او بزدل دشمن! تو جانتا نہیں کہ تُو کس قوم کو للکار بیٹھا ہے!“
ایک لمحے کو تو دشمن کے جنرلز کے ہاتھوں سے چائے کی پیالی چھوٹ گئی، حالانکہ ٹی واز فنٹاسٹک۔ جنرل جے ڈی بخشی کے نرخرے سے ڈکرانے کی آواز بھی برآمد ہوئی۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف کچھ کہنا چاہتے تھے، مائیک ایڈجسٹ کرتے کرتے رہ گئے۔ میزائلوں کے حملوں میں بس اتنا کہہ سکے : ”میں بس یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ جو سپہ سالار نے کہہ دیا وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے“
سکائی ٹی وی کے وزیر اطلاعات ”مسٹر آٹا ٹریڑ“ کی طرح ہمیں معلوم بلکہ یقین تھا کہ پاکستانی افواج ہندوستان کو منہ توڑ جواب دیں گی کیونکہ سوشل میڈیائی جنگی ماہر ہندوستان کو بتا چکے تھے کہ ”ہماری فوج تو ہمیں کچھ نہیں سمجھتی، تمہیں کیا سمجھے گی، اور یہ تو ہمیں نہیں چھوڑتی تمہیں کیسے چھوڑدے گی۔“
جنگ میں بلیک آؤٹ کے دوران عوام کو بتی بجھا کر لیٹنے کی ہدایت کی گئی لیکن ساتھ یہ تنبیہ بھی کی جاتی رہی کہ صرف لیٹنا ہے ہماری آبادی پہلے ہی کنٹرول سے باہر ہے۔ اب فروری 2026 میں معلوم ہو گا کہ حکومت کی تنبیہ کو کتنا سیریس لیا گیا ہے ۔
پاکستانیوں نے اس دوران محیرالعقول بلکہ چند فاتر العقول کارنامے بھی سرانجام دیے جیسے کہ ایک پیراگلائیڈر سے کودتے شخص کو انڈین پائلٹ سمجھ کر درگت بناتے رہے، دشمن کے ڈرون کو کندھے پر لاد لاد کر لے جاتے رہے، شنید ہے کہ ان گرے پڑے ڈرونز کی پہلے ”جوتوں سے مرمت“ کرتے رہے، مرمت نہ ہو سکی تو کاندھے پر لاد لاد کر لے جاتے رہے، ان کی موٹریں نکال نکال کر خرادیے سے چارہ کاٹنے والی مشینیں بنواتے رہے، جو ٹکرے بچ گئے انہیں او ایل ایکس پر فروخت کرتے پائے گئے۔ بلکہ کچھ نے تو گھر میں پڑے پرانے لوہے کو بھی ڈرون کے ٹکڑے کہہ کر بیچ دیا۔ ہے تو جینئس اور بزنس مائنڈڈ قوم۔
ادھربھارتی پترکاروں نے اپنے راج نیتاؤں سے سوال کیا کہ ہمارے کتنے طیارے گرے ہیں جواب ملا ”دشمن کی سینا ہمارا تو ایک بھی طیارہ نہیں گرا سکا جو گرا ہے فرانس کا گرا ہے۔“ ادھر فرانس میں سوال ہوا کہ پہلی مرتبہ کسی ملک نے رفائیل گرا دیا ہے انہوں نے جواب دیا ”ہمارے طیارے میں تو کوئی کمی نہیں تھی کم بختوں نے ٹریننگ اکشے کمار کی فلم دیکھ کر لے رکھی تھی۔“
جنگ سے کچھ اہم راز بھی افشا ہوئے۔ پاکستان کی فوج نے ”لاہور کی بندرگاہ“ کو دشمن تو کیا اپنے عوام سے بھی چھپایا گیا تھا۔ لیکن ہندوستان نے اس کا سراغ لگا کر لاہوڑیوں کو بتا دیا ہے اب وہ روز ٹائر ٹیوب اور تربوز لے کر لاہور کے سمندر پر پہنچ جاتے ہیں جس سے آبدوزوں کو چھپنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ یہاں بھارت کا ایک احسان ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہمارا X کھلوانے کے لئے اس نے اپنے طیارے قربان کر دیے۔
جنگ کا اختتام ایسا ہوا جیسے کوئی پرانی اردو فلم۔ اچانک ہی امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ درمیان میں کود پڑے، ہاتھ میں سفید جھنڈا اور دوسری میں اپنا مشہور لال ٹائی۔ ٹرمپ نے کہا نہ آئی پی ایل کے چھکے نہ پی ایس ایل کی باولنگ، میری تو شامیں بور گزر رہی ہیں سو میں صلح کرواتا ہوں۔ ٹرمپ کی بات اور مودی کے رویے کی وجہ سے ہمیں تو یقین نہیں آیا کہ جنگ بندی ہو گی۔ لیکن ایک دوست نے کراچی سے ایک واقعہ رپورٹ کیا تو یقین آیا کہ واقعی جنگ بندی ہو چکی ہے اور حالات معمول پر آ گئے ہیں۔ رپورٹ تھی کہ ”آج بڑے دنوں کے بعد کراچی میں موبائل فون چھین لیا گیا ہے۔“
البتہ، جنگ بندی کی اصل وجہ آج تک متنازع ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ:
• نواز شریف کی معنی خیز خاموشی نے دشمن کے دل پر لرزہ طاری کیا،
• کچھ کا ماننا ہے الطاف بھائی کی ”ارنا اا اب“ نے دشمن کی نفسیات ہلا دی۔
• اور کچھ تو قیدی 804 کی جیل میں کی گئی نیم شب دعاؤں کا اثر سمجھتے ہیں۔
یہ دن اب ہر سال اس عزم کے ساتھ منایا جائے گا کہ اگر بزدل دشمن پھر سے رات کے اندھیرے میں کچھ کرنے کی جرات کرے، تو اسے دن کے اجالے میں اپنی حیثیت کا اندازہ ہو جائے۔ 7 مئی، اب صرف ایک تاریخ نہیں، ایک پیغام ہے :
”ہم جاگ رہے ہیں، تم سوتے رہو!“ اور قوم اپنے شاہینوں پر بھروسا کرتے ہوئے پھر سو چکی ہے۔

