جنگ، ٹیکنالوجی اور اقتدار کا کھیل: نیا منظر نامہ


Writing and Outlining

 

 

پاک۔ بھارت حالیہ جنگ نہ صرف خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ ہے بلکہ یہ پہلی مرتبہ ایک ایسے ٹیکنالوجیکل میدانِ جنگ میں بدل گئی ہے جس میں ڈرون، سائبر حملے، مصنوعی ذہانت اور جدید ہتھیاروں نے روایتی افواج سے زیادہ فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اس نئی جنگی شکل نے ایک اور حقیقت کو بے نقاب کیا: دنیا میں جنگی ٹیکنالوجی کی اصل دوڑ اب چین اور مغرب کے درمیان ہے، نہ کہ صرف مشرق اور مغرب کے بیچ۔

اس جنگ کا سب سے بڑا فائدہ اگر کسی کو ہوا تو وہ چین ہے۔ چین نے نہ صرف اپنی عسکری ٹیکنالوجی کی برتری کو ثابت کیا بلکہ اس کی جنگی صنعت کے شیئرز میں بے تحاشا اضافہ بھی ہوا۔ یہ محض کاروباری فائدہ نہیں، بلکہ سیاسی برتری اور عسکری نفوذ کا اظہار ہے۔ ایک سامراجی دنیا میں یہ کہنا مشکل نہیں کہ جنگ صرف فوجیوں کی نہیں بلکہ اسٹاک ایکسچینج کی بھی ہوتی ہے۔ اور اس بار جیت چینی سرمایہ داری کی ہوئی۔

مگر بات صرف ٹیکنالوجی یا عالمی سرمائے کی نہیں۔ اس جنگ نے بھارت میں نریندر مودی کے اقتدار کو بھی چیلنج کیا ہے۔ 2019 میں پلوامہ اور بالاکوٹ کے بعد مودی نے قوم پرستی کی لہر پر سوار ہو کر انتخابات جیتے، لیکن اس بار منظر بدلا ہے۔ اس بار جنگی مہم جوئی سے بھارتی عوام متاثر ہونے کے بجائے، سوال کرنے لگے ہیں۔ لگتا ہے کہ مودی کی سیاست نے اس بار کوئی فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ الٹا بھارت کو اندرونی و بیرونی سطح پر تنہائی کی طرف دھکیل دیا۔

پاکستان کے لیے یہ ایک بڑی سفارتی فتح بھی بنی۔ ترکی، چین، بنگلہ دیش، آذربائیجان اور دیگر ممالک نے پاکستان کی حمایت میں آواز بلند کی، جو کہ خارجہ محاذ پر پاکستانی دفترِ خارجہ کی ایک اہم کامیابی ہے۔ برسوں بعد یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر ایک منصفانہ موقف کے ساتھ ابھرا، اور عالمی برادری کے کچھ اہم رکن اس کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔

تاہم، اس تمام تر کامیابی کی قیمت بھی ہے، جو اندرون ملک عوام کو چکانی پڑی۔ ایک طرف معصوم شہریوں کی جانیں گئیں، دوسری طرف ریاست پر فوج کی گرفت آنے والے وقت میں مزید بڑھنے کے آثار واضح ہو چکے ہیں۔ ایسی فضا میں ریاستی بیانیہ مزید مستحکم ہو گا، اور جمہوری آوازیں مزید پچھلی قطار میں دھکیل دی جائیں گی۔

حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ نے صرف دو ممالک کو متاثر نہیں کیا، بلکہ 1.7 ارب انسانوں کو قوم پرستی، جنگی جنون اور نفرت کی سیاست کے بیانیے میں جکڑ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ٹیکنالوجی سے لیس جنگیں لڑی جائیں گی، جب قوم پرستی کو نفع بخش کاروبار بنایا جائے گا، تو کیا عوام کا کوئی مستقبل بچے گا؟  کیا جمہوریت، امن اور انصاف محض کتابوں کی کہانی بن جائیں گے؟

ایک بائیں بازو کے کارکن کی حیثیت سے ہمیں یہ سوالات اٹھانے ہوں گے۔ ہمیں جنگ کے خلاف آواز بلند کرنی ہو گی، چاہے وہ ہماری اپنی ریاست کی جانب سے ہو یا کسی اور کی۔ کیونکہ ہر جنگ میں، سب سے بڑا نقصان ہمیشہ محنت کشوں، کسانوں، بچوں اور عورتوں کو ہی ہوتا ہے اور سب سے بڑی جیت ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ، ہتھیار بنانے والی کمپنیوں، اور عالمی طاقتوں کی ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS