ہولی: رنگوں کا تہوار اور ملتان سے تاریخی رشتہ
ہولی ہندوؤں کا وہ رنگین تہوار ہے جو ہر سال بہار کے موسم میں پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار نہ صرف خوشی اور محبت کا پیغام دیتا ہے بلکہ اس کی جڑیں ہندو مت کی قدیم روایات اور تاریخ میں پیوست ہیں۔ ہولی کی خاص بات اس میں استعمال ہونے والے چمکیلے رنگ ہیں جو زندگی کی رونقوں کی علامت ہیں۔ یہ تہوار شر پر خیر کی فتح، نفرت پر محبت کی جیت اور اندھیرے پر روشنی کی بالادستی کا استعارہ بھی ہے۔
ہولی کی تاریخ اور ارتقا
ہولی کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ قدیم ہندو متون میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ ویدک دور میں یہ ایک زرعی تہوار کے طور پر منایا جاتا تھا جو بہار کی آمد اور نئی فصلوں کی کٹائی کی خوشی میں منعقد ہوتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تہوار مذہبی رنگ اختیار کر گیا اور ہندو دیومالا کی کہانیوں سے جڑ گیا۔
300 قبل مسیح کے قریب رام گڑھ کے کتبے میں ہولی کا ذکر ”ہولیکوٹسو“ کے نام سے ملتا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں راجہ ہرش کے ڈرامے ”رتناولی“ میں ہولی کی تفصیلات درج ہیں۔ مغل دور میں اس تہوار کو شاہی سرپرستی حاصل تھی جہاں اکبر اعظم اور جہانگیر کے درباروں میں اسے دھوم دھام سے منایا جاتا تھا۔ آج یہ تہوار نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں ”کلرز فیسٹول“ کے نام سے مشہور ہو چکا ہے۔
ہولی کا ملتان سے تعلق
ہولی کی تاریخ کا ایک اہم پہلو اس کا ملتان سے گہرا تعلق ہے۔ قدیم ہندو متون کے مطابق ملتان کو ”کاشیاپ پورا“ یا ”مول ستھان“ کہا جاتا تھا۔ جو ہندو مت کا اہم مرکز تھا۔ یہیں پر ہولی تہوار کی بنیادی کہانی یعنی ”پراہلاد“ اور ”ہولیکا“ کی داستان پیش آئی تھی۔ روایات کے مطابق ملتان کے ظالم حکمران ہرنیاکشیپو نے اپنے بیٹے پراہلاد کو وشنو بھگتی کے جرم میں سزا دینے کی کوشش کی تھی۔ اور اپنی بہن ہولیکا کو حکم دیا کے پراہلاد کو جلا دے۔ ہولیکا پراہلاد کو اپنی گود میں لے کر آگ میں بیٹھ گئی کیونکہ اسے یہ وردان حاصل تھا کہ آگ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن بھگوان وشنو کے فضل سے پراہلاد بچ گیا جبکہ ہولیکا جل کر راکھ ہو گئی۔ اسی واقعے کی یاد میں ہولی سے ایک رات پہلے ہولیکا دہن کی رسم ادا کی جاتی ہے۔
ملتان میں پراہلادپوری مندر کا مقام
یہ مندر ملتان قلعہ کے احاطے میں واقع تھا، جو صوفی بزرگ بہاؤ الدین زکریا کے مزار سے ملحق تھا۔ مندر اور مزار کے درمیان ایک مشترکہ دیوار موجود تھی
ملتان قلعہ کے اندر واقع پراہلادپوری مندر ہولی کی تاریخ کا ایک اہم نشان تھا۔ یہ مندر ایک اونچی ٹیلے پر تعمیر کیا گیا تھا جو پورے شہر سے نظر آتا تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق اس مندر کو پراہلاد نے خود تعمیر کروایا تھا۔ مندر سونے کے ستونوں اور چھتوں سے مزین تھا جو اس کی عظمت کی گواہی دیتا تھا۔ بدقسمتی سے وقت کے ساتھ ساتھ یہ مندر تباہ ہو گیا۔ 1992 ء میں بھارت میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملتان میں ہونے والے فسادات میں اس مندر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ آج کل اس جگہ صرف کھنڈرات باقی ہیں جو اس عظیم تاریخی ورثے کی خاموش گواہی دے رہے ہیں۔
ہولی کا تہوار ہندو تہذیب و ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے جس کی جڑیں ملتان کی قدیم تاریخ سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملتان میں ہولی کی روایت ماند پڑ گئی ہے لیکن یہ تہوار آج بھی اپنی تمام رونقوں کے ساتھ دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ ہولی کا پیغام محبت، بھائی چارے اور خوشیوں کا اشتراک ہے جو آج کے دور میں بھی اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ ملتان کا پراہلادپوری مندر اگرچہ اب موجود نہیں لیکن ہولی کی یہ تاریخی کہانی ہمیں اس خطے کی مذہبی رواداری اور ثقافتی تنوع کی یاد دلاتی ہے۔


