امن کی سفیر افواجِ پاکستان اور ایک فسادی وزیر اعظم


صبح جاگنے سے آنکھیں مکمل طور پر کھلنے کے درمیانی لمحوں میں ہاتھ ایک اندازے سے موبائل کی سمت بڑھا۔ سیدھے ہاتھ پہ سینے کی سیدھ میں پڑے موبائل کو انگلیوں نے محسوس کیا تو بازو نے انگریزی حرف V کی صورت اختیار کر لی۔ موبائل کی سکرین انگوٹھے کا لمس محسوس کرتے ہی روشن ہو گئی۔ فیس بک پر نئی پوسٹیں اور پھر ریلز سامنے آنا شروع ہوئیں میں اُنھیں دیکھتا چلا گیا۔ ریلز میں کیا تھا وہ آپ سب دیکھ رہے ہیں۔

رات سونے سے پہلے چار سے پانچ مختلف کتابوں کے ورق الٹے۔ بہت کوشش کے باوجود بھی من کو مطالعے کی طرف مائل نہ کر سکا کیونکہ من منتشر جذبات کے انبار سے کبھی تیز تیز دھڑکتا تو کبھی سہم جاتا۔ بوجھل طبیعت کے ساتھ میں نے ایک نیلی مدہم روشنی کے سوا دونوں بلب بجھا دیے۔ مطالعہ گاہ کو خواب گاہ میں بدلہ اور سو گیا۔

بوجھل پنے کے باوجود بھی بے فکری سے سویا۔ میری بے فکری ایک یقین کے ساتھ منسلک تھی کہ کوئی ہے جو ہماری سکون دہ نیند کی خاطر جاگ رہا ہے۔ اُسے نیند آتی ہے مگر وہ پلکیں بھی نہیں جھپکتا۔ وہ تھکتا ہے تو صرف کندھے کا بوجھ بدل لیتا ہے کیونکہ بندوق اُس نے خوشی سے نہیں اُٹھا رکھی۔ وہ تو خوشی سے ان کندھوں پر اپنے بچوں کو بٹھاتا ہے۔ وہ تو شوق سے اُن کے بستے اُٹھاتا ہے جو پچھلے پانچ دنوں سے ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں پڑے ہیں، جب سے اُس نے بندوق اٹھا رکھی ہے۔

اُس نے بندوق سرحد پار معصوم جانوں پہ وار کرنے کے لیے ہرگز نہیں اٹھائی ہوئی۔ وہ سرحد کے اپنی طرف اُن معصوم شہریوں کی یقین دہانی کی خاطر بندوق اُٹھائے کھڑا ہے کہ اب ان کی طرف کوئی بارود نہیں پھینکے گا، جن پر سوتے میں ایک رات آگ برسی اور اُن کی نیند میں خلل پڑا۔ مُحافظ اُس رات شاید ارشادِ نبوی پڑھتے ہوئے آرام کرنے لگا تھا کہ ”اور اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو۔“

اُس نے تو سرحد پار ایک شدت پسند سیاستدان کے ناپاک عزائم کے عوض بندوق اُٹھائی ہوئی ہے ورنہ وہ تو سرحد پار جاتے ہوئے پرندوں کے ہاتھ بھی امن اور محبت کا پیغام بھیجتا ہے۔

صبح ناشتے کے دوران موبائل پہ مسلسل ریلیں دیکھ رہا تھا تو ایک بیرا پاس آ کر قدرے مایوسی کے ساتھ گویا ہوا۔

”سر! اب تو حالات مزید خراب ہوں گے۔“

میں نے اُسے نہایت اطمینان اور اعتماد سے جواب دیا کہ اگر بھارتی شدت پسند، ظالم اور فسادی وزیراعظم آج بھی امن کا ہاتھ بڑھائے تو پاکستان عفو و درگزر کا مظاہرہ ضرور کرے گا۔

آخر پہ ارشد حسین کی ایک نظم ”امن کی آشا“ یاد آ رہی ہے۔
جنگ اچھی کبھی نہیں ہوتی
بے خطا لوگ مارے جاتے ہیں
ایک ادلے کے جانے پھر کتنے
برسوں بدلے اُتارے جاتے ہیں
میں بھی امن و سکون چاہتا ہوں
تو بھی کہتا ہے امن اچھا ہے
آؤ اعلان دوستی کر لیں
بس یہی وقت کا تقاضا ہے
اپنے اپنے دلوں کو صاف کریں
سارے شکوے گلے مٹا ڈالیں
یہ جو دیوار ہے، رہے بے شک
اک کشادہ سا در بنا ڈالیں
دشمنی اپنی موت مر جائے
اک نیا اپنا دوستانہ ہو
بے خطر ایک دوسرے کے یہاں
تیرا میرا بھی آنا جانا ہو
تیری جانب سے گر اجازت ہو
لے کے پھولوں کے ہار آتا ہوں
تو ”اٹاری“ کا در تو کھول ذرا
میں ہی ”واہگہ“ کے پار آتا ہوں

Facebook Comments HS