تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (4)
”شات بائی چمپا۔ ہو جاگو رے جاگو۔“
اس نے نیم تاریک راہداری میں قدم رکھا اور اس شیریں آواز کو سنا۔
یہ پاکستان کونسل برائے قومی یکجہتی لاہور کی عمارت تھی جس کے ہال کی طرف وہ اس وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بڑھ رہی تھی۔ یہاں بنگالی بچوں کے ساتھ ایک شام منائی جا رہی تھی۔ ممبر ہونے کی وجہ سے وہ بھی شرکت کے لئے آئی تھی۔
ہال میں داخل ہوئی۔ یہاں تیز جگمگاتی روشنیاں تھیں۔ سٹیج خوبصورتی سے سجا تھا اور خواتین رنگ برنگی ساڑھیوں اور بوجھل جوڑوں میں کافی پُر تمکنت دکھائی دے رہی تھیں۔ سانولے اور نکھرے ستھرے رنگ اچھے لگ رہے تھے۔ بلوغت میں داخل ہوتی اس لڑکی کی آواز بہت دلکش تھی جو سٹیج کے ایک طرف بیٹھی اپنے نازک وجود کو ہلکی ہلکی جنبش دیتی ہوئی گانا گا رہی تھی۔
ان کی آنکھیں بند تھیں، انہوں نے اپنے سروں پر سنہری اور سفید تاج پہن رکھے تھے۔ وہ بہت کم عمر اور معصوم تھے جو ہتھیلیوں کے پھول بنائے اپنے داہنے رخساروں کو ان پر ٹکائے بیٹھے تھے۔ وہ تعداد میں سات تھے اور سٹیج پر ان کی ترتیب نیم دائرے کی صورت میں تھی۔ ان کے درمیان ایک لڑکی سنتھالی طرز کا جوڑا بنائے پھولوں سے لدی پھندی رقص کر رہی تھی۔
سمیعہ علی یہ سب بہت دلچسپی سے دیکھ رہی تھی سمجھ نہ آنے کے باوجود ساری نشستیں پر تھیں۔ وہ ایک طرف کھڑی تھی۔ پر اسے شاید اپنے یوں کھڑے ہونے کا دھیان نہیں تھا۔
”جاگو رے جاگو۔“
خوبصورت رسیلی مترنم آواز مدھم پڑتی جا رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی ان کی بند آنکھیں بھی آہستہ آہستہ کھلتی جا رہی تھیں۔ وہ ایک کے بعد ایک ہوش میں آ کر رقص میں شامل ہو رہے تھے۔
گیت ختم ہوا اور اس کے ساتھ ہی ان کا ناچ بھی ختم ہو گیا۔ بہت سی تالیوں کا شور ہوا۔ وہ کسی سے اس کے متعلق جاننا چاہ رہی تھی۔ تبھی نازک سے جسم والی ایک لڑکی نما عورت نے اپنے دو سالہ بچے کو گود میں بٹھاتے ہوئے اس کے لئے جگہ خالی کردی۔
اس کی اردو ٹوٹی پھوٹی تھی۔ لیکن پھر بھی رقص کا جو پس منظر اس نے اسے سمجھایا، وہ اسے سمجھ گئی تھی۔ کہانی تو روایتی سی ہے۔ وہی سوتیلی ماں جو بچوں کو جادو کے زور سے سلا دیتی ہے اور رحمدل پری انہیں ہوش میں لاتی ہے۔ تاہم معصوم پیشکش کا تمثیلی انداز بلاشبہ اعلیٰ ہے۔ اس نے سوچا اور گہری نظر اپنے ساتھ بیٹھنے والی پر ڈالی۔
وہ چوبیس پچیس کے گھیرے میں نظر آتی تھی۔ اس کے سیاہ بال جن سے ناریل کی ہلکی ہلکی خوشبو اڑتی تھی، سادگی سے ایک لمبی چوٹی کی شکل میں اس کی پشت پر پڑے تھے۔ چہرے پر کافی ملاحت تھی۔
” ایشوآمار گھورے ایشو۔ ایشو۔ ایشو۔“ (آؤ میرے گھر میں آؤ۔ آؤ۔ آؤ) ۔
سٹیج پر ایک ادھیڑ عمر کی خاتون گیت گا رہی تھیں۔ جس کے بارے میں اس کے ساتھ والی نے بتایا تھا کہ ٹیگور کا مشہور گیت ہے۔ جس میں خدا کو اپنے گھر آنے کی دعوت دیتا ہے اور یہ گھر اس کا دل ہے۔
’‘ کیسا رس ہے گلے میں۔ ”اس نے بہت رشک سے گانے والی کو دیکھا جس کی قرمزی ساڑھی کا آنچل مخصوص بنگالی طریقے سے دوسرے شانے تک آیا ہوا تھا۔ کانوں میں بڑے بڑے ٹاپس تھے اور رنگت کافی کھلتی تھی۔
”یہ ڈھاکہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی مشہور فن کارہ ہیں۔ رابندر و شنگیت کی ماہر ہیں۔“ اس کی معلومات میں مزید اضافہ ہوا۔
اب ایک لمبی چوڑی تقریر جاری ہوئی۔ مہمانِ خصوصی ایک خاتون تھیں جو مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کی تجاویز پر روشنی ڈال رہی تھیں۔ ان کی انگریزی تو خاصی رواں تھی پر تلفظ کچھ اتنا اچھا نہ تھا۔
اس کی ساتھی خاتون نے سمیعہ سے اس کی سرگرمیوں کے بارے میں دریافت کیا۔ مختصر لفظوں میں اپنا تعارف بھی کرایا۔ پر یہ جان کر وہ بہت حیران ہوئی کہ وہ دبلی پتلی لڑکی جس کے بدن پر اس وقت مہین کلف والی سوتی ساڑھی تھی تین بچوں کی ماں تھی۔ اس نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا تھا۔ وہ طالب علمی کے زمانہ میں بائیں بازو کی سرگرم جوشیلی لیڈر تھی۔ اسے اپنی شادی اتنی جلدی ہونے کا بہت قلق تھا۔ وہ جنتا کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتی تھی۔
”ستیاناس ہو اس شادی کا بیڑا غرق کر دیا۔“ اس نے دکھ سے کہا۔
سمیعہ بشاشت سے مسکرائی اور بولی۔ ”چلئے آپ نے اپنی منزل پالی۔“
”میری منزل؟“ وہ زیر لب بولی اس نے اپنی لا نبی گردن شانوں کی طرف گھمائی اور کسی قدر نفرت سے اپنے قریب بیٹھی لڑکی کو دیکھا، جس کی گلابی رنگت چمکتی تھی، جس کے شانوں پر سیاہ گھنے بال لہراتے تھے اور جس کے جدید وضع کے خوش رنگ لباس سے غیر ملکی پرفیوم کی بھینی بھینی خوشبو پھوٹتی تھی۔ تب اس نے بہت دھیمے سے خود سے کہا۔
”یہ سب مجھے تمہارے خاندانی پس منظر سے ناواقف ہونے کے باوجود تمہارا اتا پتا بتا رہے ہیں۔ تم جیسی سپر کلاس فیملیز کی لڑکیوں کے لئے یقیناً شادی ہی ان کی منزل ہے پر میں جو بنگال سے ہوں، بنگال جس کا سنہری ریشہ تمہارے لیے فلک بوس عمارتیں اور پر تعیش زندگی کے لوازمات مہیا کرتا ہے، یہ سب نہیں چاہتی تھی۔“
”آپ لوگوں کو مشرقی پاکستان کے مسائل سے ذرا دلچسپی نہیں۔“
سمیعہ چونکی اور حیرت سے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں واضح حیرت محسوس کرتے ہوئے اس نے اپنی بات کو آگے بڑھایا۔
”میں کچھ غلط نہیں کہہ رہی ہوں۔ اب ان محترمہ کو کون سمجھائے کہ مادام آپ جو اپنی ساری انرجی یہ بتانے میں صرف کر رہی ہیں کہ دونوں حصوں کے درمیان بہت اخلاص و محبت ہے تو یہ قطعی غلط ہے۔ ہم لوگ بہت مضطرب ہیں۔ بائیسں سالوں نے تو ہمیں دال بھات سے بھی محروم کر دیا ہے۔“
ملک کے سیاسی حالات سے وہ کچھ اتنی بے خبر بھی نہ تھی۔ اس کے گھر کے مردوں کا دل پسند مشغلہ ملکی حالات پر تبصرہ کرنا تھا۔ وہ بھی ان کے پاس بیٹھ کر انہیں سنتی اور کبھی کبھی اپنی عقل اور معلومات کے مطابق لقمے بھی دیا کرتی۔ پر اس سرکاری عمارت تلے فرید پور کی اس نازک سی لڑکی نے اپنی پہلی ہی ملاقات میں جس بے باکی سے باتیں کی تھیں۔ اسے سن کر اسے بہت دکھ ہوا۔ اس کی چمکتی رنگت زرد سی پڑ گئی۔
پروگرام ختم ہونے پر اس نے اچھے انداز میں سمیعہ کو خدا حافظ کہا۔ اپنے گھر کا پتہ بتایا۔ آنے کی دعوت بھی دی اور یہ بھی کہا کہ اگر اس نے کسی بات کو محسوس کیا ہے تو وہ معافی کی خواستگار ہے پر حقیقت وہی ہے جو اس نے بیان کی ہے۔
”دراصل ہم لوگ۔“ اس نے اداسی سے کہا۔
”ملک کے دو حصے ہونے کے باعث اتنے بدقسمت ہیں کہ ایک دوسرے کے مسائل کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے۔“
”واقعی۔“ اس کے چلے جانے کے بعد اس نے دکھ سے سوچا۔
”یہ ہم کیسے ہم وطن ہیں۔“ ایک دوسرے سے بیگانہ ایک دوسرے سے ناواقف اجنبی غیریت لئے ہوئے۔
جاری ہے۔


