جنگ بندی کے بعد کیا؟ جنوبی ایشیا کی سفارتی حکمت عملی کا نیا موڑ
2025 میں پیش آنے والی پاک بھارت کشیدگی نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا کے غیر مستحکم اسٹرٹیجک توازن کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ لائن آف کنٹرول پر ہونے والی جھڑپیں، شہری ہلاکتیں، اور سیاسی و عسکری بیانات کی شدت نے نہ صرف دونوں ملکوں کے در میان تناؤ کو ہوا دی، بلکہ عالمی برادری کو بھی ایک نئے بحران کا خدشہ لاحق ہوا۔
ان حالات میں اگر چہ جنگ بندی کا اعلان دونوں ممالک کی قیادتوں کی سمجھداری کا مظہر ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ بندی ایک سفارتی حکمت عملی کا پیش خیمہ بنے گی، یا محض وقتی خاموشی؟ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاک بھارت تعلقات کی بنیاد ہی کشیدگی، بداعتمادی اور غیر متوازن مذاکرات پر رکھی گئی ہے۔ ہر جنگ بندی ایک وقتی ریلیف ضرور دیتی ہے، مگر دیر پا امن کے لیے جس فکری جرات، سفارتی لچک اور سیاسی دانش کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اکثر دونوں اطراف مفقود رہی ہے۔
مسئلہ کشمیر، پانی، دہشتگردی، میڈیا پراپیگنڈا، اور تجارتی تعطل یہ وہ دائمی تنازعات ہیں جنہیں حل کیے بغیر کوئی بھی جنگ بندی دیر پا امن میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔ 2025 کی کشیدگی نے اس بات کو مزید واضح کر دیا ہے کہ اب ماضی کی پالیسیوں کو دہرانا مزید ممکن نہیں۔ بھارتی حکومت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سخت رویہ، اور پاکستانی قیادت کی شدید جوابی تنبیہ اس امر کی غماز ہے کہ خطہ ایک چنگاری سے دھما کہ خیز بن سکتا ہے۔
دونوں طرف کے میڈیا کا کردار بھی تشویشناک رہا، جس نے اشتعال انگیزی اور قوم پرستی کو ہوا دے کر سفارتی راستوں کو مزید تنگ کیا۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک نہ صرف روایتی سفارتی مکالمے کو بحال کریں بلکہ ایک نئے علاقائی امن ماڈل پر غور کریں۔ اس ماڈل میں نہ صرف دو طرفہ مذاکرات شامل ہوں، بلکہ چین، سعودی عرب، ترکی، اور اقوام متحدہ جیسے قابل اعتماد ثالثین کی شمولیت کے ساتھ ساتھ عوامی سفارت کاری (Public Diplomacy) کو بھی مرکزی حیثیت دی جائے۔
امن کی راہ میں رکاوٹ صرف سیاسی عزم کی کمی نہیں، بلکہ قومی بیانیے کا مسئلہ بھی ہے۔ جب تک عوام کو دشمنی میں ہی حب الوطنی نظر آتی رہے گی، اُس وقت تک قیادت میں سیاسی خطرہ مول لے کر امن کی طرف بڑھنے سے کترائیں گی۔ اس لیے تعلیمی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو کردار دینا ہو گا کہ وہ امن کو حب الوطنی سے متصادم بیانیہ نہ بننے دیں۔ بالآخر، جنوبی ایشیا ایک ایسی کروڑوں کی آبادی پر مشتمل خطہ ہے جو غربت، بیماری، ماحولیاتی تباہی اور سیاسی بے یقینی کا شکار ہے۔
اگر دونوں ایٹمی ریاستیں اپنی توانائی جنگی تیاریوں کی بجائے معاشی و انسانی ترقی پر لگائیں، تو یہ نہ صرف داخلی استحکام کا باعث ہو گا بلکہ عالمی منظر نامے میں جنوبی ایشیا ایک پائیدار طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ 2025 کی جنگ بندی ایک موقع ہے اگر اسے ضائع کیا گیا تو شاید اگلی بار دنیا کو صرف جنگ بندی کی نہیں، بلکہ جنگ کے نتائج کی خبر دینی پڑے گی۔ –


