نقاب اُترتے چہرے


Hassan Umar Sahafi

جب نظریات شکست کھانے لگیں اور قلم منافقت کی زبان بولنے لگے، تب سچ کو بچانے کے لیے ایک نئی جنگ لڑنا پڑتی ہے۔ بھارت کی سر زمین پر جن شخصیات کو ہم علم، عقل اور آزادی اظہار کے سفیر سمجھتے تھے، جب وہی نفرت، تعصب اور منافقت کے علمبردار بن کر سامنے آتے ہیں، تو یقین کی دیواریں لرزنے لگتی ہیں۔ یہ صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک تہذیبی زوال ہے جس میں انسانیت دم توڑ رہی ہے، اور سچائی کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ آج بھارت کا روشن خیال طبقہ، صحافی برادری اور نام نہاد دانشور جب پاکستان پر نفرت کے تیر برساتے ہیں تو دل یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ انسانیت، مساوات، اور آزاد فکر کے نعرے صرف کتابوں کی زینت تھے، اصل دنیا میں اُن کا وجود بے معنی ہے۔ بھارتی میڈیا، جسے کبھی آزادیِ صحافت کا علم بردار سمجھا جاتا تھا، آج زعفرانی جنون کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے اور جو دانشور خود کو عالمی ضمیر کی آواز کہلواتے ہیں، وہ جب پاکستان کے خلاف زہر اُگلتے ہیں تو اُن کے چہروں سے انسانیت کا نقاب اُتر جاتا ہے۔

آج بھارت میں جو فضا قائم ہو چکی ہے، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک طویل نظریاتی جدوجہد کا نتیجہ ہے جس کا نام ہندوتوا ہے۔ یہ نظریہ بھارت کو صرف ہندوؤں کا وطن بنانے پر بضد ہے۔ اس کا مرکز و محور آر ایس ایس ہے، ایک ایسی تنظیم جو 1925 میں کیشوا بلی رام ہیڑگیوار نے قائم کی اور جس کی بنیاد مسلمانوں اور عیسائیوں سے نفرت پر رکھی گئی۔ آر ایس ایس کا خواب ہے کہ بھارت میں صرف وہی زندہ رہے جو ہندو دھرم کو مانتا ہو۔ گاندھی، جنہیں پوری دنیا امن کا علم بردار مانتی ہے، آر ایس ایس کی نظر میں ایک کمزور انسان تھے کیونکہ وہ مسلمانوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ یہی سوچ ناتھورام گوڈسے کے ہاتھوں اُن کے قتل پر منتج ہوئی اور آج گوڈسے کو بھارت میں دیوتا کا درجہ دیا جا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کی حالت اُس سپاہی کی سی ہو چکی ہے جو سچائی کا نہیں، صرف طاقتور کا ساتھ دیتا ہے۔ زی نیوز، ریپبلک ٹی وی، انڈیا ٹی وی، اور دیگر چینلز دن رات مسلمانوں، پاکستان، اور کشمیریوں کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں۔ سچ یہ ہے کہ بھارتی میڈیا اب خبر نہیں، صرف نفرت بیچتا ہے۔ ایک طرف وہ گائے کے مرنے پر چیخ اُٹھتا ہے، دوسری طرف کشمیر میں بے گناہ نوجوانوں کے قتل پر چپ سادھ لیتا ہے۔ پہلگام کے واقعے کو ہی لیجیے۔ ایک عام دکاندار کو دہشت گرد کہہ کر قتل کیا گیا، اُس کی لاش تک لواحقین کو نہ دی گئی۔ لیکن بھارتی میڈیا نے اس پر سوال اٹھانے کے بجائے پاکستان پر الزامات کی بارش کر دی۔

یہ وہی میڈیا ہے جو اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتلِ عام کو نظرانداز کرتا ہے، لیکن جیسے ہی کوئی پاکستانی یا کشمیری مظلومیت کی بات کرے، اُسے دہشت گرد کہہ کر مسترد کر دیتا ہے۔ بھارتی میڈیا آج صرف ایک کام کر رہا ہے : اکثریتی برادری کو یہ یقین دلانا کہ اقلیتیں، خاص طور پر مسلمان، ملک کے لیے خطرہ ہیں اور اُنہیں یا تو ’راستے پر لایا جائے‘ یا ختم کر دیا جائے۔

یہ پروپیگنڈا صرف ٹی وی اسکرین تک محدود نہیں رہا۔ اب بھارت کے تعلیمی نصاب میں بھی پاکستان کو دشمن، مسلمانوں کو ’غیر ملکی‘ ، اور ہندو مذہب کو واحد حق پرست مذہب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ نئی نسل کو اس زہر سے پلایا جا رہا ہے کہ پاکستان کے وجود کا مطلب بھارت کی تقسیم ہے، اور اُس کا خاتمہ بھارت کی تکمیل۔ یہی سوچ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز یوٹیوب چینلز، فیس بک پوسٹس، اور ٹویٹر ٹرینڈز کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہے۔ ہر وہ شخص جو مسلمانوں کے حق میں بولتا ہے، ’دیش دروہی‘ قرار پاتا ہے۔

سب سے زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے جب بھارت کے وہ لوگ جو خود کو آزاد خیال، ترقی پسند، اور عالمی شہری کہتے ہیں، وہی سب سے زیادہ زہر آلود زبان استعمال کرتے ہیں۔ ششی تھرور، جنہیں کئی پاکستانی دانشور آج بھی اپنا پسندیدہ مانتے ہیں اور جاوید اختر، جنہیں یہاں عزت، محبت، اور احترام دیا گیا، انہوں نے اُس محبت کے بدلے میں نفرت اور طعنہ واپس بھیجا۔ ان جیسے لوگ اس تلخ سچائی کو ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت کا ’روشن خیال طبقہ‘ دراصل ایک منافق طبقہ ہے، جو آزادیِ رائے کی بات صرف اُس وقت کرتا ہے جب بات ہندو اکثریت کے مفاد میں ہو۔

بولی وڈ، جو کبھی عالمی سطح پر بھارت کی ثقافت کا سفیر مانا جاتا تھا، اب محض ایک خاموش تماشائی ہے یا شاید ایک ہمنوا۔ شاہ رخ، سلمان اور عامر خان یہ سب آج اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں حکومت کے خلاف بولنے پر اُن کے خلاف مقدمات نہ قائم ہو جائیں، اُن کی فلمیں بند نہ کر دی جائیں، یا اُنہیں ملک دشمن نہ قرار دیا جائے۔ جاوید اختر خود کہہ چکے ہیں کہ بولی وڈ کے ستارے سچ بولنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ حکومت انتقامی کارروائی کرتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں فنکار خوف کے سائے میں جیتے ہوں، وہاں آزادی کیسی اور جمہوریت کہاں؟

اس کے برعکس، پاکستان کا چہرہ آج بھی ان حالات میں اُمید اور وقار کی ایک شمع ہے۔ جہاں بھارت میں صحافت ایک ایجنڈے کا ہتھیار بن چکی ہے، وہیں پاکستان میں اب بھی کئی صحافی اور ادارے حق اور سچائی کے علم بردار ہیں۔ حامد میر، عاصمہ شیرازی، اور نجم سیٹھی جیسے نام ور صحافی ریاستی دباؤ کے باوجود سچ بولنے کی جرات رکھتے ہیں۔ پاکستان میں میڈیا کو مکمل آزادی حاصل نہیں، لیکن یہاں سوال اٹھانے کی روایت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہاں اب بھی عوام کا ایک طبقہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اور اختلافِ رائے کو جمہوریت کا حسن سمجھتا ہے۔

پاکستان میں نوجوان نسل اب باشعور ہو رہی ہے، جو نہ صرف ملکی مسائل پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ عالمی سطح پر انصاف کی حمایت میں بھی آواز بلند کرتی ہے۔ پاکستانی طلبہ، صحافی، اور سوشل ایکٹوسٹس فلسطین، کشمیر، روہنگیا، اور دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے جس طرح آواز بلند کرتے ہیں، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان ابھی بھی انسانیت کے لیے سانس لے رہا ہے۔

ہمارا ملک کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان کا بیانیہ نفرت نہیں، امن اور بقا کا ہے۔ ہماری افواج ہوں یا سفارتکار، ہمارے فنکار ہوں یا کھلاڑی، سب دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو نفرت کے بجائے مکالمے پر یقین رکھتی ہے۔ پاکستان کے آئین میں تمام اقلیتوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے، اور یہ وہ مقام ہے جہاں بھارت کی سب سے بڑی جمہوریت ناکام ہو رہی ہے۔

پاکستان کی تاریخ قربانیوں، جدوجہد، اور اصولی موقف سے بھری ہوئی ہے۔ ہمیں اپنے اس نظریے پر فخر ہے جو برصغیر کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی اور شناخت دلانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ ہمیں اپنی میڈیا، اپنے صحافیوں، اور ان تمام افراد کو سلام پیش کرنا چاہیے جو سچائی کی مشعل تھامے، نفرت کے اندھیروں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی شناخت پر فخر کریں، اپنی تاریخ کو اپنائیں، اور اُن آوازوں کو بلند کریں جو حق اور انصاف کے ساتھ کھڑی ہیں۔ بھارت کا ہندوتوا بیانیہ صرف پاکستان کے لیے نہیں، پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ اگر آج ہم نے اس کا مقابلہ نہ کیا تو کل یہ زہر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

یاد رکھیں، سچائی دیر سے سہی، مگر جیتتی ضرور ہے۔ ہمیں اپنی مشعل خود جلانی ہوگی۔ کیونکہ اگر ہم نے اپنے اندھیرے کو خود روشن نہ کیا، تو کوئی اور آ کر ہمیں اندھیرے میں دھکیل دے گا۔ اب وقت ہے کہ ہم جاگیں، لکھیں، بولیں، اور دنیا کو بتائیں کہ ہم زندہ ہیں، اور ہم جھکنے والے نہیں۔

Facebook Comments HS