وہ سرزمین جہاں ہوا بھی سوچتی ہے


پون دیس جہاں خوابوں کی چھاؤں میں اُگے جزیرے ہوا کی تال پر ناچتے ہیں۔ آسمان نے اپنی ٹمٹماتی آنکھیں بند کر رکھی ہیں، گویا اس کے سینے میں کوئی راز دفن ہے جو وقت کی سوئیوں کو شبنم کے قطرے بنا دیتا ہے۔ یہاں کی فصیلیں بادلوں کے ریشم سے بنی ہیں، جنہیں ہوا کی انگلیاں چھُو کر گیت گاتی ہیں۔ دیواروں میں نمی نہیں، بلکہ صبح کے آنسوؤں کی لوریاں بسی ہیں جو شام کو چاند کے کان میں سرگوشیاں کرتی ہیں۔ دروازے ہوا کے جالے ہیں۔ کھلتے ہی ماضی کی خوشبوئیں بکھیرتے ہیں، بند ہوتے ہی انجانے خوف ہونٹوں پر لکھ دیتے ہیں۔

فوفو، ہوا میں تیرتے پھولوں کا فروش، اپنی اُڑتی دکان میں بیٹھا ایک دن گاہک سے الجھ رہا تھا:

”یہ پھول مرجھا گئے ہیں! کیا یہ کبھی کھِلے بھی تھے؟“ فوفو نے ہوا کو اپنی مٹھی میں سمیٹتے ہوئے جواب دیا:

”یہ ہوا میں اُگتے ہیں، پانی نہیں پیاتے! اپنی سانسوں سے پالو، ورنہ یہ خیال بن کر اُڑ جائیں گے!“
فوفو کا دوست گگل، جس کے خیال ہمیشہ ہنسی کی لپیٹ میں ہوتے، ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کر بولا:
”دکان کا نام بدل دو۔ ’خشک سالی کا باغ‘ ! لوگ سمجھیں گے یہ خلائی فیشن ہے!“

پون دیس کے کنارے للیتا رہتی تھیں، جو بادلوں کو اپنے ہاتھوں سے گوندھتی تھیں۔ ان کے بادل فرمائش پر برستے : کبھی بوندا باندی، کبھی موسلادھار، کبھی اولوں کی بوچھاڑ۔ ایک دن گاہک شکایت لے کر آیا: ”للیتا جی، آم کے باغ ڈبو دیے آپ کے بادل نے!“

للیتا نے اپنی چائے کی پیالی میں مسکراہٹ ملا کر کہا: ”گارنٹی کارڈ پر لکھا ہے۔ شکایت بادل کے ساتھ اُڑ جائے گی!“

فوفو نے تجسس سے پوچھا:
”بادل تال سے کیسے برستے ہیں؟“
للیتا نے چائے کی چسکی لی اور بولی:
”یہ میری چائے کا کمال ہے! چائے جتنی کڑک، بادل کی اُتنی ہی گرج!“

پون دیس میں ہر ماہ ”وزن کی مجلس“ لگتی۔ جو بھاری ہوتا، اسے ہوا کے جِم بھیج دیا جاتا، جہاں فضا اسے پنکھوں کے نیچے باندھ کر چلاتی:

”تصور کرو تم پف پاستا ہو! ہلکے ہو، فلسا!“
گگل جب پہلی بار جم میں داخل ہوا تو چیخ اُٹھا:
”یہ کیسی جگہ ہے؟ جسم سلاخ بن گیا ہے!“
فضا نے زیر لب مسکرا کر اس کی پیشانی پر ہوا کا ٹکڑا رکھا:
”تمہیں نہ زمین راس آتی، نہ ہوا۔ حقیقت جھیلنی ہے یا خیالوں میں تحلیل ہونا؟“

سالانہ تہوار ”چمکیلی رات“ پر جب چاند کی کشش کم ہوتی، بچے اس پر کُودتے تھے۔ مگر شرارتی بندر، چمپو نے چاند کے چپل چرا لیے، اور وہ مشتری کے قریب جا گرا۔ بزرگوں نے فیصلہ سنایا:

”چمپو کو سورج بھٹی میں بٹھاؤ!“
وہ ہنسا:
”میں چاند کو نیلا کرنا چاہتا تھا۔ پر وہ پہلے ہی نیلا تھا؟“
ہوا میں لٹکا ریستوران ”رس چس“ خوشبوؤں سے پکا کھانا پیش کرتا۔ مینو میں لکھا تھا:
جنوبی ہوا کا رسِ گلاب، مغرب کے جھونکے کی چٹنی، شام کی خنکی بطور میٹھا۔
فوفو نے شیف سے پوچھا:
”یہ کھانا کیا ہے؟“
شیف نے ہوا میں ایک لکیر کھینچی:
”یہ پیٹ کے لیے نہیں، یہ دل کی بھوک مٹاتا ہے!“

ایک دن پون دیس میں ہوا تھم گئی۔ ہنسی، جو ہوا میں گھلتی تھی، خاموش ہوئی۔ بادل گرے، پتنگوں کی ڈوریں ٹوٹیں۔ لطیفے سنائے گئے مگر قہقہے نہ اُٹھے۔ تب پون دیس والوں نے پہلی بار محسوس کیا:

”ہوا میں جینا آسان ہے، مگر زمین پر ٹھہرنا ہنر ہے۔“
انہوں نے خواب زمین میں بوئے، ہنسی کو سچائی کی مٹھاس دی، اور دکھ بانٹنے کی ہمت سیکھی بغیر ہنسے۔
اب پون دیس میں ہوا لوٹ آئی ہے، مگر لوگ جان گئے ہیں :

”اُڑنے کے لیے ہوا کافی نہیں۔ کچھ وزن چاہیے جو ہمیں یاد دِلائے۔ ہم انسان ہیں، خیالوں کی پُتلیاں نہیں۔“

Facebook Comments HS