مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
لیکن فری جب یہاں آئی تو میری ٹانگ کا انفیکشن اور مرہم پٹی چل رہی تھی ہر دوسرے دن صبح وہ مجھے سی ایم ایچ جانے کے لئے تیار کرتی پھر بہت مشکل سے گاڑی میں بیٹھاتی، گاڑی سے اترنا مشکل، اتر کر ویل چیئر میں بیٹھنا، آپریشن تھیٹر میں جانا اور اونچی آپریشن ٹیبل پر چڑھنا ایک اور مشکل کام تھا مگر سی ایم ایچ کے ڈریسر اور نرس بہت پیار اور توجہ سے سہارا دے کر آپریشن ٹیبل پر لٹاتے جب تک خاتون نرس نہ آتی وہ کام شروع نہ کرتے وہ مجھے بہت اچھے سے سارا ڈھک دیتی پھر یہ لڑکے اپنا کام شروع کرتے زخموں کو صاف کر کے سرکے سے دھو کے آخر میں مرہم پٹی کر کے رخصت کرتے، ایک ڈیڑھ گھنٹے کا یہ وقت کافی کٹھن ہوتا، آپریشن میں تو میں بے ہوش تھی تکلیف کا پتہ نہیں چلا جب کہ یہ سارا کچھ آپریشن سے زیادہ جسمانی ذہنی طور پر اذیت ناک تھا زخم اور انفیکشن کی نوعیت کا آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ تقریباً 10 دن مرہم پٹی ہوتی رہی دس دن کے بعد سرجن نے اس جگہ ٹانکے لگائے۔ سن کرنے کے لیے ٹیکے لگائے گئے مگر انہوں نے پورے طور پر اثر نہیں کیا ٹانکے لگ گئے تو دل میں شکر ادا کیا۔ ٹانکے لگا کے سرجن نے کہا کہ آپ نے 48 گھنٹے تک بالکل چلنا پھرنا نہیں ہے سوائے اشد ضرورت کے۔ 48 گھنٹے تک بستر میں سیدھے لیٹے رہنا بھی ایک آزمائش تھی اور یہ ڈر بھی کہ ٹانکے کھل نہ جائیں۔ خدا خدا کر کے 48 طویل گھنٹے گزر گئے سی ایم ایچ میں ٹانکوں کے لیے مخصوص قسم کی سرجیکل پٹی منگوائی جو کہ پورے نوشہرہ اور مردان میں نہ مل سکی آخر پشاور سے منگوانی پڑی یہ ایک پٹی ہزار 1200 کی آتی تھی جو 15 دن تک ایک دن کے وقفے سے بدلی جاتی رہی، پلاسٹک چڑھی ہوئی یہ مخصوص پٹی اس لیے تھی کہ زخم گیلا نا ہو مگر پلاسٹک چڑھی ہوئی یہ پٹی چلنے میں، لیٹنے میں بہت تنگ کرتی تھی سرجن نے ڈرا دیا تھا کہ عموماً اس جگہ سٹیچز کھل جاتے ہیں۔ لہٰذا بہت احتیاط رکھنی ہے۔ 15 دن کے بعد ہم سٹیچز کھولیں گے ہر دوسرے دن پٹی بدلتی رہی آخر یہ 15 مشکل ترین دن بھی گزر ہی گئے۔ سٹیچز کھلنے کی باری آئی پھر ایک اور تکلیف دہ مرحلہ پیش نظر تھا۔ یعنی
”کچھ امتحان تھے باقی ہر امتحان کے بعد“
سٹیچز آدھے کھولے گئے اور ان کے اوپر مزید مہنگی کریمیں لگانے کے لیے دے دی گئیں۔ چند دن بعد باقی ٹانکے کھولے گئے۔ کھول کر انہوں نے اطمینان کا سانس لیا کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ کے سٹیچز نہیں کھلے ورنہ عموماً ایسی جگہ پر سٹیچز کھل جاتے ہیں اور ہمیں دوبارہ سٹیچز لگانے پڑتے ہیں یہ سن کر اللّہ کا بہت بہت شکر ادا کیا۔ سٹیچز کھل بھی گئے لیکن ابھی درد اور تکلیف باقی تھی دن میں کئی بار فری مرہم لگاتی یہ سارا کچھ جو میں نے لکھا ہے آپ کو لگ رہا ہو گا کہ شاید میں بار بار ایک ہی بات کر رہی ہوں مگر یہ سارا عمل آپریشن سے کہیں زیادہ طویل صبر آزما اور مہنگا ترین تھا۔ لکھنے میں جو بات چند پیراگراف میں آ گئی درد اور تکلیف سہنے میں ایک ماہ گزر گیا سچ ہے کہ انسان بہت ڈھیٹ ہے اس سارے عمل کے دوران بہت تیز اینٹی بائیوٹک استعمال کرنی پڑی جن کی وجہ سے بھوک ختم ہو کر رہ گئی اور فشر کی تکلیف شروع ہو گئی جیسے ہی علاج کا یہ مرحلہ ختم ہوا تو خوش ہوئے کہ چلو مشکل دن بھی گزر ہی گئے۔ اللّہ نے کرم کیا لیکن آہستہ آہستہ فشر کی تکلیف بڑھتی چلی گئی۔ جس کے ڈر سے میں نے کھانا پینا بھی بہت کم کر دیا، اس سلسلے میں مہنگی کریمیں، ڈاکٹر کے علاج کے علاوہ ہومیو پیتھک کی دوائیاں بھی استعمال کیں مگر افاقہ ہونے کی بجائے تکلیف بہت زیادہ بڑھ گئی اب بچے کہیں کہ بہتر ہے اس کا بھی آپریشن کروا لیں۔ یہ سن کر مجھے غصہ آ جاتا کہ ابھی آپریشن اور اس کے بعد کی تکالیف سے گزر رہی ہوں اب ایک اور آپریشن کیسے ہو سکتا ہے۔ اتنے میں رمضان المبارک کا آغاز ہو گیا، سب نے منع کیا کہ آپ روزے نہ رکھیں مگر میرا دل نہ مانا۔ میں روزے رکھتی رہی مگر اس طرح کے فشر کی تکلیف کے باعث نہ تو سحری کھائی جاتی نہ افطاری مرچ مصالحے ہر چیز مجھے تکلیف دیتی۔ فری کے یہ ڈیڑھ دو مہینے ایسے گزرے کہ وہ کہیں بھی نہ جا سکی۔ میرے ساتھ ہی مصروف رہی۔ مجھے حوصلہ دیتی مگر خود اسی وقت مجھے دیکھ کر رو پڑتی۔ دسوَیں روزے پر فری واپس کینیڈا چلی گئی لیکن جانے سے پہلے اس نے اصرار کیا ایک میڈ کی ضرورت ہے کیونکہ افشین سکول جاتی ہے اسد کالج جاتا ہے کوئی ایسا ہو کہ جو آپ کے پاس سارا دن رہے۔ ابو بھی نماز اور تراویح کے لیے جائیں گے۔ میڈ رکھنے کا مسئلہ حل ہوا۔ ایک خاتون مل گئی مگر رمضان تھے اسے چار بجے تک رکنا تھا لیکن روزوں کی وجہ سے میں اکثر اسے دو بجے چھٹی دے دیا کرتی۔ تراویح کے وقت اس کی دوسری بہن آ جاتی۔ دیر تک مجھے مساج کرتی رہتی۔ فروری کی سخت دھوپ، میں میں سارا وقت باہر دھوپ میں پڑی رہتی نہ کھانے کا ہوش نہ منہ ہاتھ دھونے کا۔ فشر کی اس نئی تکلیف نے میرے اوسان خطا کر دیے۔ گھر والے میری یہ حالت دیکھ کے مزید پریشان ہو گئے۔ ایک بار پھر سب کا وہی اصرار کہ آج کل یہ آپریشن بہت آسان ہے۔ مگر میں اس پر راضی نہیں ہوتی تھی۔ ہوتے ہوتے چند دنوں میں تکلیف ایسی ہو گئی کہ بس ہمت اور برداشت جواب دے گئی اور یہ کیفیت ہو گئی کہ وہ جو ہمارے کوہاٹ میں کہتے ہیں کہ جب کسی بلا سے چھٹکارا نہ ہو کہنا پڑتا ہے کہ آ بلائیے جے گلے لاوائیاں مطلب آ بلا تجھے گلے لگا لوں۔ میری تکلیف کے حوالے سے عائشہ نے بہت سے ڈاکٹروں سے مشورہ کیا معلومات لیں۔ مجھے راضی کیا۔ آخر میرے معالج ماہر سرجن ڈاکٹر نعیم تاج نے بھی آپریشن تجویز کیا تو عائشہ نے فوراً دو دن بعد کی تاریخ لے لی، 15 ویں روزے پر ہم پنڈی سدھارے۔ تمام ضروری ٹیسٹ پہلے ہی کروا لیے تھے۔ باقی ماندہ ٹیسٹ وہاں کروائے۔ نعیم تاج کے ہسپتال میں تقریباً تین بجے کے قریب مجھے نیچے آپریشن تھیٹر میں لے کر گئے۔ کمرے سے نکلتے ہوئے ربنا کی دعائیں اور مختلف دعاؤں کے ورد نے دل کو سنبھالے رکھا۔ آپریشن سے پہلے کے مراحل، لباس کی تبدیلی ضروری ٹیکے۔ آخر میرے مہربان معالج خود میرے پاس آئے۔ مجھے آپریشن تھیٹر لے کر گئے۔
اب اس سے پہلے تین آپریشنز میں مجھے مکمل بے ہوشی دی جاتی رہی لیکن اس دفعہ انہوں نے کمر میں ٹیکے لگائے، دو تین جگہوں کے اوپر بار بار ان ٹیکوں نے بہت ذہنی کوفت اور تکلیف سے دوچار کیا۔ ٹانگیں بالکل سن ہو گئیں۔ آپریشن کا مرحلہ ختم ہوا۔ آپریشن تھیٹر سے نکال کے روم میں لائے تو ایسا لرزہ چڑھا ایسی کپکپی طاری ہوئی کہ دانت بجنے لگے۔ اسد اور عائشہ میرے سرہانے کھڑے مجھے تسلی دیتے رہے۔ کافی دیر بعد نعیم تاج آئے تو میں نے کہا کمرے میں جانا چاہتی ہوں انہوں نے ہدایت کی کہ کمرے میں لے جائیں پھر بیڈ سے اٹھا کے سٹریچر پر ڈال کے کمرے میں لائے کمرے میں آ کر شکر ادا کیا ہے کہ یہ مرحلہ بھی طے ہوا نرسیں وقفے وقفے سے پین کلر اور مختلف ادویات دیتی رہیں اتنے میں میرا بھائی تمثیل بھی آ گیا، ماتھا چوم کے کہنے لگا آپی بہت ہمت کی ہے میری دوست شاہینہ اور اس کی بیٹی آمنہ بھی آ گئیں رات دیر تک یہ لوگ بیٹھے رہے
الحمداللّہ کہ رات میں سکون سے سو گئی۔ نسیم سحری تک جاگتے رہے اسد صوفے پہ سو گیا۔


