خود سے ایک نامہ

دن کی روشنی دفتر کے شیشوں سے چھن کر علی کے چہرے پر پڑ رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں اجالا کہیں کھو چکا تھا۔ چائے کا کپ اس کے ہاتھوں میں تھرتھرا رہا تھا، جیسے کسی طوفانی رات میں درخت آخری بار لرز رہا ہو۔ کلائیوں میں ایک ایسی کسک تھی جو نہ زخم دکھاتی تھی، نہ دوا مانگتی، بس ہر رات خوابوں کی دہلیز پر بیٹھ کر اس کی نیند کو زہر کرتی رہتی۔ دفتر کے خاموش،

Read more

فینکس پروٹوکول

کرنل نادیہ حارث کی شخصیت میں گہرا سکوت رچا بسا تھا، جیسے اتھاہ سمندر اپنی تہہ میں آتش فشاں چھپائے بیٹھا ہو۔ اس کے چہرے کی سنگلاخ چٹانوں کے پیچھے آنکھوں کے آئینے میں ماضی کے زخم جھلملا رہے تھے۔ وہ فرمایا کرتی تھیں : ”جنگیں تلواروں سے نہیں، ضمیر کی سرزمین پر لڑی جاتی ہیں۔“ نادیہ کے بچپن پر جنگ نے اپنے سیاہ پر پھیلائے تھے۔ اس کے والد، لیفٹیننٹ ہارون، دشمن کی بارود کا نذرانہ بنے۔ وہ ایک

Read more

شک کا دھواں

شہر کے آسمان پر ہر شام سرخی کے ساتھ ایک اجنبی بادل آتا تھا۔ نہ وہ بارش برساتا، نہ چھاؤں دیتا، بس فضا کو یوں دھندلا دیتا جیسے کوئی پرانا زخم، جو ہر رات یاد دلاتا ہے کہ وہ ابھی بھرا نہیں۔ وقت کے ساتھ اس بادل کا رنگ گہرا ہوتا گیا، یہاں تک کہ وہ سورج کی روشنی پر بھی سوالیہ نشان بننے لگا۔ یہ شہر کئی صدیوں سے سانس لے رہا تھا۔ کبھی سرکشی کی صدائیں، کبھی بیعت

Read more

مسٹر یو ٹرن

دنیا، بارہویں گھنٹے کی دہلیز پر کھڑی تھی۔ وقت، جیسے سانس روکے منتظر تھا۔ خبریں خاموشی کے پس منظر میں چیخ رہی تھیں۔ میز پر سرخ بتیوں کے نیچے گھنٹیاں بج رہی تھیں۔ کیمرے جھکے ہوئے تھے، اور ایک بلند اسٹیج کے وسط میں وہ کھڑا تھا۔ اپنی مخصوص خندہ جبینی اور غیر مرئی طاقت کے ہالے میں لپٹا ہوا مسٹر یو ٹرن۔ نہ کوئی شجرہ، نہ کوئی جائے پیدائش۔ ایک ایسا کردار جو کبھی ریسلنگ کا شو مین تھا،

Read more

دو دنیائیں

یوری پاولوف کا کمرہ کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ دیوار پر پرانی تصویریں لٹک رہی تھیں۔ ایک تصویر میں گورکی اپنے کتے کے ساتھ بیٹھا مسکرا رہا تھا، دوسری تصویر چیخوف کی تھی جس میں اس کی آنکھوں میں تھکن اور زندگی دونوں جھلک رہے تھے۔ یوری کی میز پر دھندلے شیشوں کی عینک پڑی رہتی جسے وہ تب پہنتا جب لفظ دھندلانے لگتے۔ زندگی ایک عرصے سے ایک ہی دائرے میں چل رہی تھی۔ صبح چائے، دوپہر کچھ نوٹ

Read more

قہقہے کے پیچھے آئینہ

کہتے ہیں ایک بستی تھی جو الفاظ سے بنی تھی۔ یہاں خیالات درختوں پر پھلتے، اور سوالات کی جڑیں زمین میں اترتی تھیں۔ اسی بستی میں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کی آنکھوں میں کائنات کی حیرانی بسی ہوئی تھی۔ ان ابھری ہوئی آنکھوں نے اس کا نام رکھا جاحظ۔ چہرہ ایسا جیسے عقل مذاق کر رہی ہو، اور مزاح کسی فلسفے کی صورت اختیار کر گیا ہو۔ جب دوسرے بچے گیند سے کھیلتے، وہ نقطوں اور ویرگول سے کھیلتا۔

Read more

زبانیں جو دریا بن گئیں

  شام کے سات بج رہے تھے، لیکن کراچی کا آسمان اب بھی سورج کے کچھ ذرے تھامے ہوئے تھا۔ باہر سڑک پر چائے والے کی کیتلی سے بھاپ اٹھ رہی تھی، اور اندر سارہ ندیم کے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر دنیا سمٹ آئی تھی۔ نیویارک، برلن اور کراچی ایک ساتھ سانس لے رہے تھے۔ زوم میٹنگ میں تین چوکٹھے تھے، تین وقت، تین زبانیں، لیکن ایک ہی دھڑکن۔ ایک ہی سوال سب کے ذہن میں گونج رہا تھا:

Read more

وصل کی راحت کے سوا

رات کے سناٹے میں برگد کے پتے سرسرا رہے تھے جیسے ہوا نے کسی پرانی شاعری کو چھو لیا ہو۔ شکستہ خامشی کے اندر کوئی آواز سنائی دی تھی، شاید اپنی ہی۔ درخت کی جڑیں نیچے زمین میں گہری تھیں، مگر کچھ جڑیں اب بھی ہوا میں لٹکی ہوئی تھیں۔ ان کا جھولنا کچھ ایسا تھا جیسے کسی نے بات شروع کی ہو مگر پوری نہ کی ہو۔ وہ ان جڑوں کو دیکھتی رہی۔ ہر جڑ جیسے کسی ادھورے لمحے

Read more

لائف انشورنس

کراچی کی سڑکیں دھیرے دھیرے شام کے رنگ میں ڈھل رہی تھیں۔ شہر کے ہر گوشے میں انسان اپنی اپنی کہانیوں کے پیچ و خم میں گم تھے۔ ہر چہرہ اپنی ایک داستان سناتا، ایک ایسی کہانی جو خوف اور امید کے دو دھاری تلوار کی مانند دل پر لٹکی تھی۔ عمران اپنی دکان کی شیشے سے باہر جھانک رہا تھا۔ ٹریفک کی ہلچل اور راہگیروں کے بے ترتیب سائے دھند میں ملتے جا رہے تھے، جیسے ہر کوئی اپنی

Read more

روبوٹ رابعہ

ناصر کی شادی رابعہ سے ہوئی۔ خاندان کی تاریخ میں ایک نئی مثال، ایک ایسا باب جو خوش رنگی اور تکلف کی تمام جہتوں کو چھو آیا۔ شہر کے مایہ ناز شادی ہال میں جب وہ تقریب منعقد ہوئی، تو یوں لگا جیسے کئی صدیوں پر محیط تہذیب ایک شام کے لیے یکجا ہو گئی ہو۔ فانوسوں کی مدھم روشنی، طاؤس جیسے پیٹرن والے قالین، مہندی کے رنگ میں رچے ہوئے ہاتھ، اور تصویریں۔ جو بعد میں فوٹوگرافر نے البم

Read more

کائنات کا پہلا گیت

بھنبور یونیورسٹی کے قدیم مخزنِ کتب میں وہ دراز الماری آہستہ سے کھولی گئی جسے برسوں سے کسی نے ہاتھ نہ لگایا تھا۔ اس لیے نہیں کہ وہ ٹوٹ چکی تھی، بلکہ وہ خود وقت کی ایک بند کھڑکی بن چکی تھی۔ یہ یونیورسٹی جو کبھی دیبل کے تاریخی شہر کی جان ہوا کرتی تھی ہنوز سمندر کنارے ایک خاموش گواہ کی صورت باقی تھی۔ یہیں سے میر بحر پرانے جہاز رانی کے ماہر بابل میسوپوٹیمیا یونان اور روم تک

Read more

آن لائن رشتہ

خرم شہر سے ہٹ کر ایک چھوٹے سے مکان میں مقیم تھے۔ مکان چھوٹا تھا مگر اس کی خاموشی بے حد پُراثر۔ دیواروں پر وقت کی پرچھائیاں، دریچے سے آتی دھوپ کی لکیر، اور نیم کے پیڑ پر بیٹھا ایک تنہا کوا سب اُن کے ساتھی تھے، جیسے زندگی نے اب لفظوں کی بجائے سکوت میں پناہ لی ہو۔ کہنے کو وہ سبکدوش ہو چکے تھے مگر اصل سبکدوشی اُنہیں لوگوں کے جذبات کی ملازمت سے ملی تھی۔ اب ان

Read more

جون ایلیا: روشنی کا مسافر

فنکار وہ ہستی ہے جو اپنی رضا و رغبت سے خود کو اپنی ذات کی آگ میں جھونک دیتا ہے، اس لیے کہ دنیا کو روشنی میسر آ سکے۔ وہ دنیا باہر کی بھی مگر پہلے اپنے اندر کی۔ اسی لیے فنکارانہ سفر سپردگی، تنہائی اور داخلی کرب کی ایک طویل داستان ہوتا ہے۔ وہ اپنے باطن کے دکھ کو جمال میں ڈھال کر دوسروں کے لیے امید کا چراغ روشن کرتا ہے۔ جون ایلیا کی زندگی اس سچ کی

Read more

سامری عہد نامہ

وہ آسمان نہیں تھا، نہ بادل، نہ ستارے۔ بس لامتناہی ڈیجیٹل فضا، جہاں ہر بائٹ ایک وعدہ تھا، ہر بائٹ ایک یادداشت۔ شفاف پلیٹ فارم پر نوح کھڑا تھا، اس کے ہاتھ میں ہولوگرافک طومار، سینے پر بلاک چین کی مہر۔ اس کی آواز نے خاموشی توڑی: ”میں کوڈ کے ذریعے وہ امن لایا ہوں جو تلوار نہ لا سکی۔“ سمعی، نیم شعور سرور، نے جواب دیا: ”تمہاری ڈیجیٹل کشتی کی منزل کیا ہے؟“ نوح نے وضاحت کرتے ہوئے کہا:

Read more

سچ کی مہر

دن ڈھل چکا تھا، مگر لائبریری کی روشنی ابھی مدھم نہ ہوئی تھی۔ شیشوں سے چھن کر آتی شام کی کرنیں کتابوں کے سرخ، نیلے اور سنہری جلدوں پر پڑ کر علم کے ان دیکھے خزانوں کو جگمگا رہی تھیں۔ احمد خاموشی سے باہر نکلا۔ ہاتھ میں وہی رپورٹ تھی۔ جس پر سچ کی مہر ثبت تھی۔ قدم پُرعزم تھے، مگر نگاہوں میں ایک صدیوں پرانا سوال تیر رہا تھا: ”کیا ہم سچ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں؟“

Read more

جوہر کانفرنس کراچی، 2049

نیورو کلچرل سینٹر کا بلوری گنبد رات کے نیلے آسمان تلے روشنی بکھیر رہا تھا۔ یہ وہ کراچی نہیں تھا جسے ہم نے دیکھا تھا۔ شور و غل سے بھری سڑکیں، دھول مٹی، اور ہجوم۔ یہاں سب کچھ بدل چکا تھا۔ فضا میں اڑتے ٹرامز، بایومیٹرک درخت، اور جذبے کو پڑھنے والے سینسرز شہر کی نئی زبان تھے۔ سینٹر کی عمارت، جو خود ایک سائبر خواب تھی، کے گرد روشنی کی نہریں بہہ رہی تھیں۔ ہر دیوار پر الفاظ جگمگا

Read more

جہاں خاموشی اشکال بنتی ہے

کائلاش۔ وہ مقام جہاں وقت گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہے، اور خیال، خاموشی کی گود میں پلتے ہیں۔ یہاں نہ پتھر بے جان ہیں، نہ ہوا محض چلتی ہے۔ ہر شے سننے اور سنانے کی طاقت رکھتی ہے۔ اور ان دنوں، وہاں چشمہ جاودان کی طرف جانے والے زینے پر چراغوں کی روشنی پھیل رہی تھی۔ وہی چراغ جو صرف سچ کی تلاش میں جلتے ہیں۔ وہاں جہاں پانی روشنی سے زیادہ شفاف ہے، اور ہر قطرہ گرتے ہوئے ایک

Read more

دروازہ اور گپھا

(کہا جاتا ہے، انسان عمر بھر دو دروازوں کے درمیان سفر کرتا ہے۔ ایک دروازہ سماج کا، جو باندھتا ہے ؛ دوسرا فطرت کا، جو چھڑاتا ہے۔ لیکن کچھ مسافر ایسے بھی ہوتے ہیں، جو ان دونوں کے بیچ ایک تیسرا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ یہ افسانہ ایسے ہی ایک مسافر کی داستان ہے جو گپھا میں گیا، مگر دروازہ کھول کر لوٹا) شہر سے دور، ایک پرانا تیرتھ استھان تھا۔ پہاڑوں کی آغوش میں چھپی ایک گپھا، جس کے

Read more

وہ سرزمین جہاں ہوا بھی سوچتی ہے

پون دیس جہاں خوابوں کی چھاؤں میں اُگے جزیرے ہوا کی تال پر ناچتے ہیں۔ آسمان نے اپنی ٹمٹماتی آنکھیں بند کر رکھی ہیں، گویا اس کے سینے میں کوئی راز دفن ہے جو وقت کی سوئیوں کو شبنم کے قطرے بنا دیتا ہے۔ یہاں کی فصیلیں بادلوں کے ریشم سے بنی ہیں، جنہیں ہوا کی انگلیاں چھُو کر گیت گاتی ہیں۔ دیواروں میں نمی نہیں، بلکہ صبح کے آنسوؤں کی لوریاں بسی ہیں جو شام کو چاند کے کان

Read more

جوانی کا بھرم

  پروفیسر رضوان کی انگلیاں خزاں کے پتوں کی لرزتی ٹہنیوں کی مانند کپکپا رہی تھیں۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اُس نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجائی، اور بالوں کی چاندی کو سیاہ خضاب میں چھپا دیا۔ اُس کے ہاتھ میں ایک ڈبہ تھا۔ وہ گولیاں جو وقت کو روکنے کا فریب دیتی تھیں، سانپ کی مکار سرسراہٹ کی طرح اُسے بہکا رہی تھیں۔ تیسری شادی کی تقریب میں جب دوستوں نے اُسے گھیر لیا، اُن کی آوازیں

Read more

خوابوں کا سایہ

دوپہر کا وقت تھا۔ آفتاب اپنے جلالِ کامل میں تھا اور کائنات کی سانسیں گویا تپتے آہنی سانچوں میں گھل رہی تھیں۔ فضا میں سکوت ایسا جیسے وقت نے سجدۂ تعظیم کیا ہو، اور چوک کی زمین پر انسانوں کی ایک مختصر ٹکڑی اپنے وجود کی شہادت لیے کھڑی تھی۔ کچھ ہاتھوں میں بینر تھے، کچھ نگاہوں میں خواب۔ ان سب میں ایک چہرہ ایسا بھی تھا، جو دھوپ سے نہ جُھکا، پسینے سے نہ تھما، یہ راج تھا۔ راج،

Read more

دکھوں بھرا پنڈورا باکس

عورت کی زندگی کا ہر پہلو ایک معمہ ہے، جہاں دکھ اور پیڑا دونوں کی موجودگی ایک غیر متزلزل حقیقت کی طرح جاگتی ہیں۔ نسوانیت کا حقیقی جوہر صرف اس کی جسمانی خصوصیات تک محدود نہیں، بلکہ اس کی ذہنی، نفسانی اور جذباتی طاقت میں بھی چھپا ہوا ہے۔ مگر یہ طاقت ہمیشہ دکھ اور پیڑا کے دریا سے گزرتی ہے، جو عورت کے وجود کا حصہ بنتی ہے۔ یہی پیڑا، جو ایک طرف عورت کی کمزوری لگتا ہے، وہ

Read more

اقتدار: عقل، احساس اور اختیار کے آفاقی زاویے : ایک فکری مکالمہ

اقتدار۔ یہ محض کوئی سیاسی تصور نہیں، نہ ہی صرف ایک کرسی یا حکم چلانے کا نام۔ اقتدار ایک ایسی قوت ہے جو انسان کے باطن سے جڑتی ہے، اس کی ترجیحات کو عیاں کرتی ہے، اور دنیا کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اقتدار کا دائرہ فرد سے لے کر تمدن تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی تفہیم کسی خاص تہذیب یا فکر کی میراث نہیں، بلکہ انسان کی مشترکہ تجرباتی دانش کا حاصل

Read more

کتابِ کتاب: سائنس اور تخیل کے اوراق

  کائنات ایک لامتناہی کتاب ہے جس کے اوراق پر طبیعیات کے قوانین سچائی کے حروف رقم ہوتے ہیں، تو سائنس فکشن کا تخیل انہیں کہانیوں کے تاروں میں پروتا ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ جیسے روشنی اور سائے کا رقص، یا سمندر اور لہروں کا ابدی رشتہ۔ انسانی تاریخ کا ہر کارواں اُس سوال کے پیچھے چلا: ”ہم کون ہیں؟“ جب آئن سٹائن نے روشنی کی رفتار سے سفر کا خواب دیکھا، تو جولز ورن

Read more

تقدیر کے دھاگے تتلی کے پر سے بندھے ہیں

کائنات کی سب سے پہلی تتلی کب جنم لی؟ شاید وہ لمحہ جب کسی قدیم سمندر میں پہلا جاندار اپنے جسم کو ہوا میں اُٹھانے کی خواہش سے لرزا۔ ارتقا کے اس طویل سفر میں، تتلی کے پر صرف رنگین کاغذ نہیں، بلکہ کروڑوں سال کی جدوجہد کے نقش ہیں۔ یہ پرند نہیں، ایک سوال ہے۔ ڈارون کا وہ سوال جو ہمیں اپنے وجود کی گتھی سلجھانے پر مجبور کرتا ہے۔ زید کی کہانی اسی سوال کے سائے میں شروع

Read more

ساغر صدیقی: شہرت کی گمنامی کا المیہ

ساغر صدیقی کی غزل ”چراغ طور جلاؤ کہ بڑا اندھیرا ہے“ ایک ایسی شاعری ہے جس نے پاک و ہند کے ادبی منظرنامے کو روشن کیا، مگر اس کی روشنی میں خود شاعر کا وجود گمنامی کے اندھیروں میں گم ہو گیا۔ یہ غزل نہ صرف فنی مہانتا کی حامل ہے بلکہ ایک المیے کی علامت بن گئی جس میں شاعر اپنی ہی تخلیق کے سائے میں کھو گیا۔ اس مضمون کا مقصد اس تضاد کو سمجھنا ہے کہ کس

Read more

سلطانہ وقاصی: گھر کی چہار دیواری سے دفتر تک

انسانی معاشرہ جتنا قدیم ہے، انسان کی کہانی بھی اُتنی ہی پرانی ہے، اور اس کہانی کے کرداروں کی رنگا رنگی مرد و زن کے گرد گھومتی ہے۔ چاہے وہ اساطیر ہوں یا تاریخ، داستان ہو یا ناول، فلم ہو یا اسٹیج۔ عورت کا کردار ہر صورت میں ایک علامت بن کر ابھرتا ہے۔ وہ کبھی رانی، شہزادی، پری، دیوی، کنیز، جادوگرنی یا نائکہ کے روپ میں جلوہ گر ہوتی ہے، تو کبھی منفی کرداروں میں بھی اپنی ہیبت رکھتی

Read more

گینجی کی کہانی: اردو ادب میں گراں قدر اضافہ

داستان گوئی کا فن حقیقی کہانی ہر مبنی ہو کہ افسانوی واقعہ پر ، جزو ادب و ثقافت ہے اور ثقافت کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود زندگی۔ کہانی زندگی کا عکس ہے اور یہ عکس جب تاریخ کی در و دیوار کے اندر جھانکنے سے دیکھا جائے گا تو کہانی و زندگی ایک بہتے دریا کے دو کنارے معلوم ہوں گے۔ زندگی کی ہلچل معروضیت کے جس نہج پر ہوگی شعور کی بلندی بھی اسی سطح

Read more

اس سے پہلے کہ دیر جائے

اگرچہ سوویت انہدام سے سرد جنگ کا خاتمہ ہو گیا تھا اور توقع کی جا رہی تھی کہ نیٹو کے وجود بھی ٹوٹ کر ختم ہو جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ اس لیے جو سرد جنگ کا سورج بڑی مشکل سے غروب ہو چکا تھا دوبارہ طلوع ہو گیا ہے روسی یوکرین جنگ جی شکل میں۔ یہ عجیب بات ہے کہ مملکتیں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے بناتی ہیں، سالہا سال سے فلک بوس عمارتیں، شاہراہیں، پلیں، اسپتال اور درسگاہیں

Read more

سرور جاوید: صاحب اسلوب شاعر و نقاد

2001 ء کی بات ہے کورنگی میں واقع سول ہسپتال کے ڈاکٹر حضرات کو سندھی پروفیشنل زبان پڑھانے کا پراجیکٹ ملا تھا پراجیکٹ کے کوارڈینیٹر اس وقت کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر اکادمی ادبیات پاکستان آغا نور محمد پٹھان تھے۔ کلاس شروع ہوئے اب میں روسٹرم پہ آیا اور باری باری سے سب نے اپنا تعارف کرایا۔ طلباء و طالبات میری عمر کے بھی تھے اور سینیئر بھی تھے۔ ایک نام طاہرہ نگہت نیر پی ایچ ڈی ڈاکٹر بھی تھیں۔ انہوں نے

Read more

شگفتہ شفیق کون ہیں؟

ارسطو کا خیال ہے کہ ” شاعر بھی فلسفی کی طرح کائناتی سچائیوں کو ڈھونڈتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شاعر کے پاس کہنے کی اضافی خوبی ہے۔“ کہنے کی صلاحیت ایک پیدائشی خوبی ہے۔ (اختلافی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ) وقت کے ساتھ ساتھ اور فنون لطیفہ کی طرح شعری صلاحیت بھی ارتقا پذیر ہے۔ رجحان البتہ بچپن سے ہی عیاں ہو جاتا ہے۔ جیسے کھیت کے لیے مناسب موسم، زرخیز مٹی، بیج اور فصل پکنے

Read more

نیو لبرل ازم

فلمی تجزیہ کار ہندی فلم ́ہم آپ کے ہیں کون’ میں سرمایہ دارانہ معاشی نظریات کو سینما کا کامیاب تجربہ قرار دیتے ہیں۔ یہ فلم 1994ء میں بنی تھی اس وقت تک سوویت یونین کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔ دنیا بائے پولر سے یونی پولر نظام کے پنجے میں مقید ہو کر رہ گئی۔ پہلے سرمایہ دار اور محنت کش طبقات کے مفادات نہ صرف ایک دوسرے سے متصادم دکھائے جاتے تھے بلکہ دونوں فریق کے مابین کشمکش کا کلائمیکس

Read more