خود سے ایک نامہ
دن کی روشنی دفتر کے شیشوں سے چھن کر علی کے چہرے پر پڑ رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں اجالا کہیں کھو چکا تھا۔ چائے کا کپ اس کے ہاتھوں میں تھرتھرا رہا تھا، جیسے کسی طوفانی رات میں درخت آخری بار لرز رہا ہو۔ کلائیوں میں ایک ایسی کسک تھی جو نہ زخم دکھاتی تھی، نہ دوا مانگتی، بس ہر رات خوابوں کی دہلیز پر بیٹھ کر اس کی نیند کو زہر کرتی رہتی۔ دفتر کے خاموش،
Read more
