تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو


اہلِ علم و ادب کے لئے بوگھیو صاحب ایک جانی پہچانی اور معتبر شخصیت ہیں۔ اُن سے میرا تعارف اُن کی شہرۂ آفاق تصنیف ”لسانیت سے سماجی لسانیت تک“ کے ذریعے استوار ہوا۔ کتاب کا موضوع ہرگز سہل نہ تھا، مگر میری جستجو اور مصنف کے دلنشین اسلوبِ بیان نے مطالعہ کو اس قدر دلکش بنا دیا کہ میں بلا تکان پڑھتی چلی گئی۔ اس کتاب نے زبان اور سماج کے مابین تعلق کو نہایت سلیقے سے واضح کیا اور میرے علم و فہم میں وقیع اضافہ کیا۔

حرف سے حرمت کا یہ رشتہ مجھے ”تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو“ تک لے آیا۔

اس کتاب کو پڑھتے ہوئے مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ بوگھیو صاحب کی نثر اتنی رواں اور دلچسپ ہے کہ قاری کو اپنی گرفت میں لینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ جس شخصیت پر بھی اُنہوں نے قلم اٹھایا، پورا انصاف کیا اور اس کی علمی، ادبی اور سماجی جہات کا ایسا احاطہ کیا کہ قاری بھی اُن کے مصاحبوں میں شامل ہو جاتا ہے۔

سچ کہوں تو یہ کتاب پڑھتے پڑھتے میں دو دن کے اندر ہی سندھ دھرتی کی باسی بن چکی تھی۔

”تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو“ چودہ کے قریب خاکوں، تبصروں اور تنقیدی مضامین پر مشتمل ہے۔ ان کے خاکے ہرگز ”خاکہ اڑانے“ کے اصولوں پر نہیں اترتے ؛ بلکہ مصنف نے جو کردار منتخب کیے، وہ سندھ دھرتی کے وہ ہیرو ہیں جنہوں نے صدقِ دل سے علم و ادب کی ترویج کی، لوح و قلم کی پرورش کی، اور اپنی زندگیاں مقصدیت کے نام وقف کیں۔

زندگی جب مقصدیت کا روپ دھارتی ہے تو امر ہو جاتی ہے۔ مقصدیت وہ پُل صراط ہے جو انسان کو سکون سے جینے نہیں دیتی۔ مقصدیت پسند انسان خود بھی اس پر کاربند رہتا ہے اور اپنے عہد کے ہم عصروں کو بھی یہ آفاقی سبق دے جاتا ہے کہ

”پیارے! جینا اسی کا نام ہے“

شاید اسی باعث یہ کتاب میرے دل میں اترتی چلی گئی اور میرے ذہن کو بلندی عطا کر کے مجھے جینے کا قرینہ سکھا گئی۔

میں حیران ہوں کہ اس کتاب میں مجھے ایک جملہ بھی اضافی یا غیر ضروری نہیں ملا۔ یا تو آپ اسے مکمل طور پر پڑھیں یا پھر بالکل نہ پڑھیں۔

کتاب کا عنوان خود احتسابی اور تصوف کی عاجزی سے لبریز ہے، جو سندھ دھرتی کی صوفیانہ روش کے عین مطابق ہے۔

ان مضامین کے پس منظر میں خود مصنف کی شخصیت کے کئی پہلو بھی جھلکتے ہیں۔ اُن کا فہم، تجربہ، باریک بین مشاہدہ، بے باک خیالات، اور زندگی کے کھٹے میٹھے تجربات۔

قاسم بوگھیو کے بارے میں جامی چانڈیو کہتے ہیں :

”گزشتہ چودہ سال سے میں قاسم بوگھیو کو ہر اُس بات، رویے اور عمل کے خلاف لگا تار بولتے دیکھ رہا ہوں، جسے انہوں نے اپنے اصولوں کے اعتبار سے سندھ، سندھی زبان، سماج اور ادب یا ادبی اداروں کے خلاف سمجھا۔“

یہ کتاب سندھ دھرتی کا وہ قرض تھا جو بوگھیو صاحب نے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے اپنے مضبوط کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ جونہی فرصت ملی، انہوں نے اسے کتابی صورت میں محفوظ کر کے ہمارے سامنے رکھ دیا۔

کتاب میں سچ کی تعریف اور اس کی اہمیت کو اس خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے :

”سچ جو کسی کی میراث نہیں ہوتا، سچ جو عہدے اور عمر کا محتاج نہیں ہوتا، سچ جو آک کے پودے کی طرح خود بخود اگتا ہے۔ سچ کا کوئی بیج نہیں ہوتا، سچ کا ارتقاء سچے فلسفیوں اور مفکروں کے خون کے خراج سے ہوتا ہے۔“

علامہ آئی آئی قاضی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ وہ سچ کے علمبردار تھے، جھوٹ، حسد، دغا اور منافقت سے نفرت کرتے تھے۔

ایک جگہ لکھتے ہیں۔

”علامہ صاحب مشکل حالات میں بھی فیصلے اپنے ضمیر اور سمجھ کے مطابق کیا کرتے تھے، نہ کہ سرکاری یا گروہی دباؤ یا سیاست کے اثر میں۔ یونیورسٹیوں میں دیگر تعلیم کے ساتھ مذہبی تعلیم لازمی قرار دینے کے لئے کمیٹی بنا کر حکومت وقت نے اس کا چیئرمین انہیں مقرر کیا اور انہوں نے اس کمیٹی کے فیصلے حکومت وقت کی خواہش کے خلاف کیے کہ یونیورسٹی سطح پر مذہبی تعلیم لازمی قرار دینے سے مذہبی اور دیگر تعلیم دونوں کو بڑا نقصان ہو گا۔“

مرزا قلیچ بیگ کی علمی بصیرت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

”ایک زبان کی معلومات کسی آدمی کو ایک کائنات سے روشناس کراتی ہے۔ اس کائنات میں ثقافت، سماجی رویہ، نفسیاتی کیفیات کے علاوہ کئی سیاسی، سماجی اور اقتصادی معاملات سے شناسائی ہوتی ہے۔ اس طرح جتنی زیادہ زبانیں سمجھی جائیں گی، اتنے ہی زیادہ انسانی سماج کے دروازے کھلتے جائیں گے۔

”مرزا صاحب دنیا کے ان چند خوش نصیب لوگوں میں سے تھے جن کے آگے کئی سماجوں کے علمی، ادبی اور نفسیاتی ادراک کے دروازے خود کھلتے تھے۔“

پیر حسام الدین کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

”میرا کارنامہ یہ ہے کہ مجرموں، سیاہ کاروں، باغیوں اور قاتلوں کو ننگا کر دیا ہے۔ اور انہوں نے سندھ اور اہل سندھ پر جو مظالم ڈھائے اُنہیں اپنی تصنیفات میں آشکار کیا۔“

جاگیرداری اور پیری مریدی کی خرابیوں پربھی اُن کا تجزیہ نہایت جرات مندانہ ہے

”میں ان دونوں اداروں کو انسان دشمن اور مردود سمجھتا ہوں۔ سندھ کی ساری ذلت اس سماجی نظام کی پیدا کردہ ہے۔“

شیخ ایاز کی حمایت میں بھی وہ رقم طراز ہیں کہ:

”مجھے ایاز کی شخصیت میں کوئی بھی عیب نظر نہیں آتا۔ میں نہ صرف ان کی شاعری کا مداح ہوں بلکہ ان کی شخصیت کے سحر میں بھی ہوں۔ میرا ایاز سے رشتہ چکور اور چاند کا رہا ہے۔“

ڈاکٹر بلوچ کے ساتھ نوجوانی میں کی گئی نعرے بازی پر اپنی ندامت کا اظہار بھی مصنف کی سچائی اور وسعتِ ظرف کی دلیل ہے۔

سراج الحق میمن کے مضمون میں لکھتے ہیں :

”آج کے دور میں اجتماعی مفادات کے لیے کام کرنے والے کو نہ صرف سماج بلکہ ادیب اور دانشور بھی ستائش کے قابل نہیں سمجھتے۔ اس لیے ایسے لوگ خود اپنے بارے میں لکھیں تاکہ آنے والی نسلیں اُن کے کارناموں سے واقف ہو سکیں۔“

غَزَل کی دو اقسام پر مصنف کی رائے نہایت دل چسپ اور منفرد ہے :

”طَرَحی غزل فرمائشی عشق کی طرح ہوتی ہے، جب کہ طَبع زاد غزل تخلیقی اور فطری ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ مجھے غزل کی صِنف میں کی گئی شاعری کبھی حقیقی، فطری اور تخلیقی نہیں لگتی۔“

آخر میں بوگھیو صاحب ہی کی ایک دعا کے بعد اجازت چاہوں گی جو انہوں نے الطاف شیخ کو لکھتے ہوئے کی ہے۔ فرماتے ہیں

الطاف شیخ نے ملائشیا میں کچھ سال رہنے کے بعد ملائشیا کی سیاست، معیشت، تاریخ اور ثقافت کے متعلق تحقیق کر کے جو معلومات دیں ہیں وہ کئی سالوں سے سندھ میں رہنے والے کئی عالموں اور تاریخ دانوں کو بھی حاصل نہیں۔ اب دل کہتا ہے کہ الطاف ملائیشیاسے نکل کر سندھ آ جائے اور وہی تحقیق اسی جذبے سے سندھ کے مسائل، تاریخ اور آثار قدیمہ کے متعلق کریں۔

میری بھی دعا ہے کہ بوگھیو صاحب بھی سندھ سے نکل کر کھلی فضا میں آئیں اور اسی طرح کی کتاب کا ایک اور وفاقی گلدستہ سجائیں۔

Facebook Comments HS