ایف سولہ سے روسی طیاروں کی تباہی اور جے ٹین سے رافال کی تباہی تک


ہم سب پر ایک تحریر پڑھی جس میں پاکستان کے جہاز جے ٹین سی کا نام ٹین جے ایف (یا جے ایف ٹین) پڑھا تو ہنسی آئی۔ درحقیقت پاکستانی فضائیہ کی موجودہ شان ”جے ٹین سی“ جس کے ذریعے فرانس کی شان ”رافال“ طیارے گرائے گئے ہیں (عام طور پر لوگ اسے صدر ضیاء الحق کے ساتھ سی 130 میں مارے جانے والے امریکی سفیر آرنلڈ رافیل کے نام کی طرز پر رافیل طیارہ پکار رہے ہیں ) ۔

کچھ لوگ یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ پاکستانی جہاز کسی کم حیثیت کا کوئی چینی ایکسپورٹ ورژن ہے۔ یہ بھی غلط ہے۔ سادہ طیارے کا نام ”جے ٹین“ ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے اس میں تبدیلیاں آتی گئیں اس کے نام کے ساتھ ”اے بی سی“ لگتا گیا اور اب جدید رڈار اور کمپیوٹرز کے ساتھ ”جے ٹین سی“ ہمارے پاس ہے۔

جے ایف 17 میں جے ایف کا مطلب جوائنٹ فائٹر ہے یعنی ایسا فائٹر جہاز جو پاکستان اور چین نے مل کر بنایا۔ ویسے کم لوگوں کو علم ہے کہ چین کے برعکس امریکی طیاروں میں ایف کا مطلب فائٹر جہاز ہوتا ہے جیسے : F 86، F 104، F 16، F 18 and F 35

اسی طرح بمبار امریکی جہازوں کے نام ”بی“ سے شروع ہوتے ہیں جیسے بی 57 یا بی 52۔
دوسری طرف امریکی کارگو جہازوں کے نام ”سی“ سے شروع ہوتے ہیں جیسے سی 130 یا سی 5 یا سی 117۔
تربیتی یا ٹرینر امریکی جہازوں کے نام ”ٹی“ سے شروع ہوتے ہیں جیسے ٹی 33 یا ٹی 37۔

ایک اور قسم کے تیل کی ری فیولنگ میں استعمال ہونے والے آئل ٹینکر (کارگو) جہازوں کے نام ”کے سی“ سے شروع ہوتے ہیں۔ اس میں ”کے“ ٹینکر کے لئے استعمال ہوتا ہے اور ”سی“ کارگو جہاز کے لئے۔ کیوں کہ ہر ٹینکر یا ری فیولر بہت بڑا کارگو جہاز بھی ہوتا ہے۔

ایک اور نام ”آر“ (ریکون ایسنس) یعنی جاسوسی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر بمبار بھی ہوتے ہیں اس لئے ان کے نام ”آر بی 57“ یا آر بی 52 جیسے ہوتے ہیں۔

امریکی اصطلاحوں سے ہٹ کر روسی جہازوں کے نام عموماً ان کی کمپنی یا بنانے والوں کے نام پر ہوتے ہیں۔ سخوئی 30 یا ”ایس ٰیو 30“ میں سخوئی کمپنی کا نام ہے۔ اسی طرح پاکستان اور انڈیا کے پاس جو روسی ساختہ ری فیولر (آئل ٹینکر) ہیں ان کا نام ”آئی ایل 77“ یا ”آئی ایل 78“ ہیں۔ جب کہ آئی ایل (اِل یوشن) کا مخفف ہے جو ماضی کے سویت یونین مگر ”اب“ یوکرین کی کمپنی ہے۔ ان میں سب سے دل چسپ نام ”مِگ“ ہے جو دو انجینئرز کے نام کا مخفف ہے۔ ”ایم۔ میکویان“ اور ”جی۔ گورے وچ“ جب کے ان کے درمیان ”آئی“ روسی زبان میں ”اور“ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے یعنی مگ کا مطلب ہے ”میکویان اور گورے وچ“ ۔

چین اس وقت تین انتہائی جدید طیارے استعمال کر رہا ہے۔ جے ٹین سے بھی زیادہ طاقتور جے 20 اور جے 35 ہیں۔ ان ناموں میں انڈین ممکن ہے ”جے“ سے مراد ”وجے اور ویرو“ کی جوڑی سے لے لیں۔ لیکن درحقیقت چینی جہازوں میں جے سے مراد چینی لفظ ”جیان“ ہے (یعنی فائٹر یا جنگ جو) ۔

پاکستان نے جے ایف 17 بلاک تھری، جے ٹین کے حصول کے سال بھر کے اندر ہی مکمل کر لیا تھا۔ موجودہ حالت میں یہ جہاز اتنا شان دار ہے کہ حال ہی میں آذربائیجان نے ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد رقم دے کر پاک فضائیہ کے لئے تیار ”جے ایف 17 بلاک تھری“ خریدے، جن کی رقم پاکستان کے خزانے کے لئے نعمت سے کم نہیں تھی۔ موجودہ جنگ دیکھ کر یقیناً آذربائیجان کے فوجی بھی خوش ہوں گے اور مزید ممالک بھی جے ایف 17 خریدنے کی کوشش کریں گے، یقیناً پاک فضائیہ کے شاہینوں کے ساتھ ٹریننگ بھی، جس کے لئے متعدد یورپی ممالک پہلے ہی پاک فضائیہ سے درخواست کرچکے ہیں۔

انڈیا کے کئی جل ککڑے تجزیہ نگار اسی لئے ترکی اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فی الوقت حالیہ فضائی جنگ میں لڑائی کے حوالے سے دیکھیں تو رافال، جے ٹین اور جے ایف 17 بلاک تھری میں انیس بیس کا ہی فرق ہے۔ رافال البتہ لمبی جنگ کے لئے زیادہ تیل اور اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور اس کا رڈار سب سے شاندار ہے جب کہ اس کا فضاء سے فضاء کا میٹیور میزائل بھی زیادہ دور تک مار کر سکتا ہے۔ (آگے جانیں گے ) ۔ باقی جے ٹین کی سادہ قیمت 40 ملین ڈالر، جے ایف 17 بلاک تھری ( 25 ملین ڈالر) اور سادہ رافال ( 125 ملین ڈالر) ہے۔ کم قیمت کے علاوہ پاکستان کے استعمال میں دونوں جہاز جے 10 سی اور جے ایف 17 میں اب ایسے پرزے اور اسلحہ استعمال ہو رہے ہیں جنہیں خریدنے کے لئے دنیا کے کسی ملک کی خصوصی اجازت کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ جس میں انجن، رڈار، میزائل، الیکٹرانکس، بم اور راکٹ شامل ہیں۔

بہر حال حالیہ جنگ سے پہلے تک رافال کی مارکیٹنگ بہت تگڑی تھی۔ یہ مختلف جنگوں میں استعمال بھی ہو چکا تھا اور اب تک اس کی کسی جنگی مشن میں گرنے کی شرح بھی صفر تھی اسی لئے اس کا ایک بھرم قائم تھا، جو ٹوٹ چکا ہے۔ اسی لئے رافال کے مقابلے پر انڈیا، جے ایف 17 بلاک تھری اور جے ٹین کو غیر معروف اور انتہائی ہلکا لے گیا۔

آج کے جدید فائٹر جہاز صرف برانڈ نیم ہی نہیں (جیسے رافال ہے ) بلکہ تین انتہائی اہم چیزوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ان میں موجود رڈار، فضا سے فضا والے میزائل کی موجودگی اور ان کا اندرونی کمپیوٹر کا نظام۔

پائلٹ کی صلاحیت کا ظاہر ہے جہاز سے تعلق ہے بھی اور نہیں بھی۔ 1965 کا ایم ایم عالم 60 سال بعد اگر اپنا وہی ایف 86 سیبر جہاز لے کر آج کے کسی تھکے سے فائٹر جے ایف 17 بلاک ون یا مگ 21 کے سامنے آ جائیں تو شاید چند منٹ بھی نہیں گزار سکیں۔ دو پائلٹوں کا موازنہ اسی وقت ہی ہو سکتا ہے جب ان کے پاس موجود جہاز کارکردگی میں کم از کم انیس بیس ہوں۔

آج کے فائٹر جہاز کو خریدتے وقت دیکھنا پڑتا ہے کہ اس کا رڈار کتنا جدید ہے اور جہاز میں اس رڈار کے ساتھ کون کون سے میزائل، بم یا راکٹ نصب ہوسکتے ہیں۔ ماضی کے فائٹر جہازوں میں مشین گن یا شیل / گولوں کا استعمال ہوتا تھا جن کا استعمال اب لگ بھگ ختم ہو چکا ہے۔ ماضی میں ایک بمبار جہاز پر کئی کئی ہزار کلوگرام کے بم نصب ہو جاتے تھے جنہیں ہدف پر لے جا کر گرایا جاتا تھا اور اس زمانے میں یہ بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا تھا کہ گرنے والے بم ہدف پر گریں گے یا نہیں۔ آج کے جدید دور میں کئی بموں کی جگہ ایک یا دو بم ہی نصب ہوتے ہیں جن کے ساتھ لگے موٹر، ریڈار اور کٹ (یا لیزر گائیڈڈ سسٹم) کی وجہ سے ماضی کے یہ بم ”اسمارٹ بم“ بن چکے ہیں۔ اور ان بموں کو ہدف سے کئی سو کلومیٹر پہلے ہی فضاء میں چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں تک پہنچنے کے لئے یہ بم اپنا راستہ خود طے کرتے ہیں۔ اور پائلٹ کو ہدف تباہ کرنے کے لئے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنی پڑتی۔

آج کی فضائی جنگ میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے ”بی وی آر“ ۔ BVR Beyond Visual Range

ایک عام انسان جب زمین پر ہو یا فضا میں، 20 ناٹیکل میل سے زیادہ دور نہیں دیکھ سکتا۔ اسے وژول رینج یعنی بصری صلاحیت کا فاصلہ کہہ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ فاصلہ انسانی آنکھ کے لئے ”بی وی آر“ کہلاتا ہے۔ یاد رہے ایک زمینی میل میں 1.6 کلومیٹر ہوتے ہیں جب کہ فضائی یا بحری میل جسے ناٹیکل میل کہا جاتا ہے یہ لگ بھگ 1.8 زمینی کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے۔ ویسے 20 فضائی ناٹیکل میل 36 نہیں بلکہ 37 کلومیٹر مانا جاتا ہے۔ ماضی میں پائلٹ حضرات کی آنکھیں 6 / 6 اسی لئے مانگی جاتی تھیں تاکہ وہ فضا میں پہنچ کر زیادہ سے زیادہ دور تک دیکھ سکیں۔ اکثر انہیں اوپر نیچے دائیں بائیں اپنا دشمن اور ہدف خود ڈھونڈنا پڑ جاتا تھا۔ جس کے بعد فائٹر پائلٹ دشمن کو دیکھنے کے بعد خود اس کے تعاقب میں چل پڑتا تھا یا اس سے دور بھاگتا تھا۔

ماضی میں اگر دشمن کے جہاز میں میزائل یا گن نہ ہو (جیسے کارگو یا ٹرینر جہاز) تو آپ انتہائی قریب جاکر مشین گن سے بھی اس پر حملہ کر سکتے تھے (یا اگر آپ کسی طرح مخالف کے پیچھے پہنچ جائیں ) ۔ لیکن بہرحال اس کے لئے دشمن جہاز کا نظر آنا بھی ضروری تھا۔ اگر دشمن نظر آ گیا لیکن اس کے پاس بھی گن یا میزائل ہو تو آپ اپنے جہاز کو دشمن کے اتنے پاس ہی لے جاتے جو دشمن کے میزائل یا گن کی حد کے مطابق ہو۔ اگر آپ کے جہاز میں میزائل ہو اور آپ اپنی آنکھوں سے دشمن کو دیکھ بھی لیں تو میزائل کا رخ اس جہاز کی طرف کر کے اسے لاک کرتے اور ایک معقول فاصلے پر پہنچ کر فائر کر دیتے۔ پرانے زمانے میں ان میزائلوں کے آگے ایک سینسر ہوتا تھا جو دشمن کے جہاز سے پیدا ہونے والی شعاعوں یا انجن کے برنر سے پیدا ہونے والی حرارت کو ٹریس کر کے اس کے پیچھے لگ جاتا۔ ماضی میں ایک میزائل ”کے 8“ یا ”آر 8“ بڑا مشہور ہوا تھا۔ جو 23 کلومیٹر تک دشمن کا پیچھا کر سکتا تھا۔ یعنی آپ کو دشمن کے 23 کلومیٹر پاس تک آنا ہوتا تھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ جتنے نزدیک سے میزائل ماریں گے کامیابی کا امکان بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ فضا میں میزائلوں کی جنگ میں یہ کوئی چالیس سال پرانی بات ہے۔

یہاں یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ اگر آپ 20 کلومیٹر دشمن کے قریب آئیں گے تو وہ بھی آپ کو دیکھ لے گا اور یوں آپ دونوں میں جو پہلے میزائل چلا دے اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے کیوں کہ دوسرا پھر اپنی جان بچانے کی فکر میں ہو گا۔ پرانے زمانے میں مشین گن کے لئے ایک کلومیٹر اور بعض اوقات اس سے بھی نزدیک آ کر فائر کرنا پڑتا تھا جس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا تھا کہ جب دشمن کا جہاز پھٹتا تو بعض اوقات مارنے والا بھی اس کے ملبے کی زد میں آ جاتا تھا۔

1965 کی جنگ میں چند پاکستانی جہازوں میں موجود میزائل کسی دہشت سے کم نہیں تھے۔ یاد رہے ان دنوں ہر فائٹر جہاز میں میزائل نہیں ہوتا تھا۔ لیکن دشمن احتیاطاً ان جہازوں سے اتنے ہی فاصلے پر رہتا، کیا پتہ جہاز میں میزائل ہو یا نہ ہو۔

سن 80 کی دہائی میں روس افغان جنگ کے دوران 1982 میں پاکستان کے پاس جدید ایف سولہ آئے تو ان میں نصب جدید ایمرام میزائل گیم چینجر بن گئے۔ ان میزائلوں کا شمار بی وی آر میں ہوتا تھا۔ اور حد 30 ناٹیکل میل یعنی کوئی 50 سے 55 کلو میٹر تک ہوتی تھی۔ یہ فاصلہ بی وی آر کے 37 کلومیٹر سے یقیناً زیادہ تھا۔ انڈیا نے حسب عادت شور تو بہت مچایا مگر امریکہ نے پاکستان کو روس سے لڑوانا تھا۔ یوں ایمرام میزائل سے پاکستانی پائلٹوں نے روسی ساختہ افغان جہازوں کو گرانا شروع کر دیا۔ لیکن یہ یقینی تھا کہ ان جہازوں کی موجودگی میں ہندوستانی طیارے کسی بھی حملے کی جرات نہیں کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں جب ایک موقع پر انڈیا نے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنا چاہا تو اسرائیلی طیاروں کو ان کے پائلٹ سمیت انڈیا آنا پڑا کیوں کہ انڈیا کے جہاز ایف سولہ سے مقابلے کی جرات بھی نہیں کر سکتے تھے۔

آج ہم پاک فضائیہ کے پائلٹ آفریدی، نعمان اور حسن صدیقی کو سراہتے نہیں تھکتے۔ لیکن 65 اور 71 کی جنگ کے بعد روس افغان جنگ کے دوران بھی ایک پائلٹ بہت مشہور ہوا تھا۔ فلائٹ لیفٹننٹ خالد محمود جنہوں نے اپنے ایف سولہ سے کم از کم تین روسی / افغان طیارے گرائے تھے۔ لیکن آج کوئی بھی ان کے نام سے واقف نہیں۔

واضح رہے بی وی آر کا 37 کلومیٹر کا فاصلہ لگ بھگ ایک سے سوا لاکھ فٹ بنتا ہے۔ یعنی زمین سے اتنے اوپر اڑنے والے طیارے کو زمین سے بھی کوئی اپنی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے۔

پاکستان کے 1982 میں ایف سولہ حاصل کرتے ہی انڈین فضائیہ کو غشی کے دورے پڑنے لگے کیوں کہ ان کے پاس بی وی آر میزائل والے طیارے موجود نہیں تھے۔ اور کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں پاک فضائیہ اپنے ایف سولہ سے انڈین جہازوں کو بہ آسانی گرا سکتی تھی۔

انڈیا نے بہرحال ایف سولہ کے ایمرام کا توڑ نکالنے کے لئے جدید جہاز لینے کی کوشش شروع کردی اور 1985 میں ہی فرانسیسی ساختہ میراج 2000 طیارے حاصل کرلئے جن میں ”میکا ساخت“ کے بی وی آر میزائل نصب تھے جو 60 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتے تھے۔ یوں میکا کی موجودگی سے میراج 2000 حاصل کرنے کے بعد ہندوستانی فضائیہ کے ساتھ پاک فضائیہ کا توازن کسی حد تک برابر ہو گیا۔

یاد رہے ایک تصویر جو حالیہ دنوں میں بہت مشہور ہوئی، ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں ایک بلڈوزر پر فرانسیسی طیارے کا ملبہ جا رہا ہے (جو دراصل ایک فیول ٹینک تھا) اصل جہاز کسی اور جگہ گرا تھا، جس کی تصاویر دبا دی گئی تھیں۔ یہ فرانسیسی ساختہ میراج 2000 طیارہ تھا۔ کیوں کہ فیول ٹینک کی تاریخ رافال کی تاریخ سے بہت پہلے کی تھی۔ اور اگر یہ کسی پاکستانی جہاز کا ٹینک ہوتا تو انڈیا دنیا کو دکھا دکھا کر لڈیاں ڈال رہا ہوتا۔

پاکستان کو ایف سولہ 1982 میں اور انڈیا کو میراج 2000 سن 1985 ملے تو دونوں ملک ٹھنڈے ہو گئے البتہ پاکستان کے چند درجن ایف سولہ کے مقابلے میں اب انڈیا کے پاس 150 سے 200 تک میراج 2000 تھے۔

سن 1998 میں دونوں ممالک نے ایٹمی دھماکے کیے تو پابندیوں کی زد میں آ گئے۔ مگر اگلے سال دونوں ملک ایک بار پھر کارگل کی جنگ لڑ رہے تھے۔ 27 مئی 1999 کو کارگل کی جنگ کے دوران ایک روسی ساختہ مگ 29 کو آرمی کے جوانوں نے گرا لیا۔ فلائٹ لیفٹننٹ ”کم بم پتی نچیکیتا“ ان دنوں سوشل میڈیا کی غیر موجودگی اور محدود ٹی وی چینلوں کی وجہ سے چائے پینے کے معاملے میں اتنا بدنام نہ ہوئے جتنا ان کا جونیئر ابھینندن 2019 میں ہوا۔ یاد رہے نچیکیتا اور ابھینندن ابھی بھی ہندوستانی فضائیہ کا حصہ ہیں اور دونوں ہی گروپ کیپٹن ہیں۔

کارگل کے دوران نچیکیتا کے جھٹکے اور ہزیمت کے بعد ایک بار پھر انڈین فضائیہ کو بہانے بنانے پر مجبور کر دیا۔ انڈیا نے جلدی جلدی روسی فائٹر بنانے والی کمپنی سخوئی سے معاہدہ کیا اور سن 1985 کے 15 سال بعد سن 2000 میں ”ایس یو 30“ فائٹر بنانے والی کمپنی سے معاہدہ کر لیا جو 2002 میں انڈیا کو ملنا شروع ہو گئے۔ (یہ کارگل کے بعد کی بات ہے ) سخوئی 30 میں لگے ”آسٹرا“ میزائل کی حد بہ آسانی 100 کلومیٹر تک چلی جاتی تھی یعنی پاکستان کے پاس موجود ایف سولہ سے دوگنا زیادہ اور اس کا سیدھا سیدھا مطلب پاکستانی ایف سولہ کے پائلٹوں کے لئے یہ تھا کہ ”اگر سخوئی 30 فضا میں ہو تو اگر جان عزیز ہو تو اس سے سو کلو میٹر دور رہنا“ ۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس کے بعد فضائی جھڑپ کے امکانات اور کم ہو گئے۔ لیکن سخوئی 30 کے حصول کے بعد طاقت کا توازن بری طرح انڈین فضائیہ کے حق میں چلا گیا۔ اس وقت یعنی 2002 کے بعد سے ایف سیون اور میراج طیاروں کے لئے تو سخوئی 30 سے مقابلہ محض ایک خواب جیسی بات تھی۔

یہاں ایک سوال ذہن میں ضرور اٹھنا چاہیے کہ جب پائلٹ کو 100 کلومیٹر دور دشمن کا جہاز نظر ہی نہیں آ رہا تو وہ میزائل فائر کیسے کرے گا؟

یہ وقت تھا جب 911 کے بعد ہندوستان دہشت گردی کی عالمی جنگ میں افغانستان کے خلاف ناٹو کا حصہ بننے کے لئے پاگل ہو رہا تھا۔ پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر دباؤ تھا (جسے لوگ مشرف کے ایک فون پر ڈھیر ہونے سے تعبیر کرتے ہیں ) حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت ہماری فضائیہ انتہائی کمزور حالت میں تھی۔ کیوں کہ انڈیا ہماری سرحدوں پر اپنے جدید طیاروں اور رڈار کی مدد سے مسلسل جنگ کی دھمکیاں دے رہا تھا۔

٭

پاکستان کو اب چاہئیں تھے جدید اور بہتر فائٹر جن کے بی وی آر سخوئی 30 سے زیادہ نہ ہوں تو کم بھی نہ ہوں۔ ساتھ ایسے فضائی نگرانی کے اواکس جہاز جو کئی سو کلومیٹر دور تک دیکھ کر پہلے سے ہی بتا دیں کہ سخوئی یا کون سا جہاز فضا میں کہاں پر ہے۔ بدقسمتی سے یہ وہ وقت تھا جب پاکستان پر ایٹمی دھماکے کے بعد پابندیاں عائد تھیں۔ اوپر سے یورپ اور امریکہ جن کے جہاز اور رڈار پاکستان کے پاس تھے وہ ان آلات حرب کے پرزوں اور مرمت کے لئے پاکستان سے مزے لے رہے تھے۔ اس وقت تو پہلے سے موجود میراج اور ایف سولہ جہازوں کے پرزے بھی امریکہ اور یورپ نہیں دے رہا تھا۔ امریکی رڈار کے پرزوں کا بھی اس وقت یہی حال تھا۔ پاکستان کے پاس زرمبادلہ ہی نہیں تھا تو ان حالات میں نئے طیارے کہاں سے ملتے۔

٭
ایسے میں دو باتیں ہوئیں۔

پاکستان چین کے مزید نزدیک آ گیا اور دونوں ممالک کا مشترکہ فائٹر طیارہ بنانے کا کام آگے بڑھنے لگا۔ اس سے پہلے چین اپنے کمیونسٹ دوست ملک روس کے جہازوں کو کاپی کر کے اپنی فیکٹریوں میں جہاز بنا رہا تھا۔ اس کا ہر جہاز کسی نہ کسی روسی مگ طیارے کی کاپی ہوتا تھا۔ 1965 کی جنگ کے بعد امریکی پابندیوں کے نتیجے میں پاکستان نے چین سے ایف 6 فائٹر لئے تھے جو روسی مگ 19 کا چربہ تھا۔ روس افغان جنگ کے بعد پاکستان نے چین سے ایف 7 فائٹر لئے جو روسی مگ 21 (ابھینندن والا) کی کاپی تھا۔

یوں جے ایف 17 کی کہانی نے رفتار پکڑ لی۔

جب کارگل کی جنگ ختم ہوئی اور 911 کے بعد انڈیا پاکستان کی سرحدوں پر بیٹھا تھا اس وقت پاکستان کا فضائی دفاع انتہائی خستہ حالت میں تھا۔ مشرف نے دہشت گردی کی جنگ میں ناٹو ممالک کا ساتھ دے کر عارضی طور پر یہ معاملہ کامیابی سے ٹال دیا۔ مگر مشرف نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے، امریکی ساختہ رڈار سے جان چھڑاتے ہوئے چین سے سستے زمینی رڈار حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ساتھ چین میں بنے سستے اواکس طیاروں اور دفاعی نظام کو خریدنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت تک چین کے رڈار اور جاسوسی کے طیاروں کو چین کے علاوہ کوئی استعمال نہیں کر رہا تھا۔

اس مشکل وقت میں چین نے اپنے رڈار، جاسوسی کے طیارے اور کچھ دفاعی نظام لگ بھگ اپنے خرچ پر پاکستان کے حوالے کر دیے، کیوں کہ 911 ہو چکا تھا اور انڈیا سخوئی 30 کے غرور میں مبتلا اور میراج 2000 طیاروں کے ساتھ پاکستان سے ایک نئی جنگ چھیڑنے کے لئے سرحدوں پر موجود تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس انتہائی مشکل وقت میں انمول چینی رڈار اور دفاعی نظام نے پاکستان کو بہت سنبھالا دیا۔

پرویز مشرف نے پاکستان کی سفارتی تنہائی کو توڑنے کے لئے جب القاعدہ کے خلاف امریکہ کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا تو پاکستان پر لگی پابندیاں بھی ختم ہو گئیں اور ڈالر یعنی زرمبادلہ کے مسائل بھی کم ہو گئے۔

ایسے میں پاکستان نے ماضی میں امریکہ سے ملنے والے پرانے ایف سولہ کے بدلے القاعدہ سے لڑنے کے لئے 160 کلومیٹر کی حد رکھنے والے ایمرام 120 میزائل والے جدید ایف سولہ بلاک 52 جہاز بھی مانگ لئے۔

انڈیا نے حسب عادت اسی لئے اس فروخت پر بھی شور مچایا۔ کیوں کہ اس جہاز میں لگے ایمرام 120 قسم کے میزائل کے بعد پاکستانی فضائیہ اور سخوئی 30 کا توازن برابر ہو جاتا۔

اب تک نخرے کرنے والے یورپی ممالک کو جونہی علم ہوا کہ پاکستان کو چین اپنے اواکس طیارے دے رہا ہے۔ سویڈن کی کمپنی ساب نے اپنے اواکس پاکستان کو بیچنے پر رضامندی ظاہر کردی۔ عام طور پر یہ دوسروں کا کھیل گندا کرنے جیسی حرکت ہوتی ہے۔ مشرف اور پاک فضائیہ نے بہرحال ایسی شرائط رکھیں کہ سویڈن نے چینی اواکس کی آمد سے پہلے ہی اپنے طیارے پاکستان پہنچا دیے۔ یہ اتنے شاندار طیارے تھے کہ پاکستان کو چینی اواکس کی ضرورت ہی نہیں تھی لیکن مشرف نے پاک فضائیہ کو سمجھایا کہ دو ایک سے بھلے ہوتے ہیں اور ہمیں چین سے کیے گئے وعدوں سے نہیں پھرنا چاہیے۔ یوں اب پاک فضائیہ دو طرح کے اواکس استعمال کر رہا تھا۔

دوسری طرف بدقسمتی سے جب تک جدید ایف سولہ طیارے پاکستان پہنچتے، مشرف جا چکا تھا اور نئے آنے والوں کو امریکہ نے نت نئے بہانے بنا کر یہ جہاز دینے سے انکار کر دیا۔ اس دوران بمبئی کا واقعہ بھی ہو چکا تھا اور پاکستان میں موجود سیاسی حکومت، ”جو کچھ مشرف نے نہیں کیا“ وہ بھی خوشی خوشی امریکہ کے لئے کر رہی تھی۔ نقصان میں صرف پاک فضائیہ تھی۔ کیوں کہ اس کے پائلٹوں کے لئے سخوئی 30 اب بھی ایک بھیانک خواب سے کم نہیں تھا۔

لیکن اس دوران ایک اور اچھی بات ہو چکی تھی چین اور پاکستان مشترکہ طور پر ایک فائٹر طیارے کو کاغذوں سے لے کر فضا تک پہنچا چکے تھے۔ صدر مشرف کے سامنے 23 مارچ 2007 کو پہلا جے ایف 17 تھنڈر، پاکستانیوں کے سامنے اڑا جو دیکھنے میں ایف سولہ جیسا ہی لگتا تھا۔ انڈیا والے موجودہ جنگ سے پہلے حسد سے اس جہاز کو ”جے ایف بندر“ پکارتے تھے۔ یہ سادہ طیارہ پاک فضائیہ میں موجود ایف 7 اور میراج طیاروں کے متبادل کے طور پر تیار ہوا تھا اور ظاہر ہے اس کا بنیادی مقصد پاکستان کو جہاز بنانا سیکھنا تھا نا کہ محض پرزے جوڑ کر اسمبل کرنا۔

اس پہلے جے ایف 17 میں پی ایل 5 قسم کا سادہ سا میزائل لگا تھا۔ جس کے استعمال کے لئے پائلٹ کے پاس 6 / 6 نظر ہونا ضروری تھی کیوں کہ اس میزائل کی حد 15 سے 18 کلومیٹر سے زیادہ نہیں تھی۔ یعنی سادہ جے ایف 17 نہ تو میراج 2000 اور نہ سخوئی 30 سے لڑ سکتا تھا۔ کیوں کہ دونوں بی وی آر استعمال کر سکتے تھے۔

اس پہلے جے ایف 17 کا ان طیاروں سے مقابلہ ایسے ہی تھا جیسے مگ 21 کسی ایف سولہ کو گرانے کی بات کرے۔ ایسا نہیں کہ یہ ممکن نہیں مگر ایسا ہونے کی صورت میں اس میں مارے جانے والے پائلٹ کی حماقت اور مارنے والے کی قسمت کا زیادہ دخل ہو گا۔

بہر حال 2010 میں امریکہ کے نخرے اٹھاتے اٹھاتے بالآخر پاکستان کو جدید ایف سولہ بلاک 52 طیارے مل گئے لیکن ان کے ساتھ ایک پخ بھی تھی کہ یہ القاعدہ سے لڑنے کے لئے ہیں اور پاکستان ان کو انڈیا کے خلاف جارحانہ استعمال نہیں کرے گا (البتہ بچاؤ کے لئے ان کا استعمال ممکن تھا) ۔

بلاک 52 طرز کے چند درجن ایف سولہ ملنے کے بعد سخوئی 30 کے غرور بھی ٹھنڈے پڑ گئے یاد رہے بلاک 52 کے 160 کلومیٹر والے میزائل اس جدید ایف سولہ کے علاوہ پاکستان کے پاس موجود کسی پرانے ایف سولہ پر نہیں لگ سکتے تھے۔ لیکن بہرحال اس کے بعد دونوں ائر فورس میں طاقت کا توازن لگ بھگ پھر برابر ہو گیا۔ اسی لئے انڈیا نے ایف سولہ کی فروخت پر ہمیشہ شور مچایا ہے۔

لیکن یہ ابھی بھی پڑھنے والے کے لئے راز ہے کہ بی وی آر کام کیسے کرے گا۔ یہ سائنس بہر حال آگے آئے گی۔

یاد رہے فروری 2019 میں بالاکوٹ پر بم پھینکنے کے لئے انڈیا نے میراج 2000 استعمال کیے اور سخوئی 30 طیارے ان میراج 2000 کی حفاظت کے لئے بھیجے تھے۔ سخوئی 30 جہاز کسی بھی طرح پاکستان کے پاس موجود جدید ایف سولہ سے کم نہیں تھے۔

اگلے دن جب پاکستان نے جوابی کارروائی کی تو ہندوستانی حدود میں بم پھینکنے والے پاکستانی میراج اور جے ایف 17 طیاروں کی حفاظت کے لئے جدید پاکستانی ایف سولہ موجود تھے۔ حیرت کی بات ہے کے ایف سولہ بلاک 52 کی اتنی دہشت تھی کہ فضاء میں پہلے سے موجود سخوئی 30 اور میراج 2000 طیارے کے پائلٹوں نے (تیل کی کمی کی وجہ سے ) فضاء میں آنے سے انکار کر دیا اور ایسے میں ایک ایسا طیارہ مگ 21 فضا میں اڑ رہا تھا جس کی حیثیت کسی بھی ایف سولہ کے سامنے کارگو جہاز جیسی ہی تھی۔ جس کو چھرے والی بندوق سے بھی گرایا جاسکتا تھا۔

یہ نہیں کہ مگ 21 میں میزائل نہیں ہوتے بلکہ اس جہاز میں دیکھ کر مارنے والے ”آر 73“ میزائل تھے جو بہت ہوا تو 25 سے 30 کلومیٹر دور سے ہی مار سکتے تھے۔ جب کہ پاکستانی ایف سولہ نے اس دن اس سے کہیں زیادہ دور سے مگ 21 کو میزائل مارا تھا۔ اور دل چسپ بات یہ بھی تھی کہ ہر ایف سولہ کو اگر مگ 21 کے آر 73 قسم کا کوئی بھی میزائل لاک کرے تو اس کے کاک پٹ میں ویسے ہی الارم بجنے لگتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف بی وی آر اگر آپ کے جہاز کی طرف آئے بھی تو اس سے بچنا قسمت کا کھیل ہی کہلائے گا۔ ہر جاء کہ اس سے بعض اوقات بچنا ممکن بھی ہوتا ہے لیکن اس کے امکانات 20 سے 30 فی صد ہی ہوتے ہیں۔

٭

دوسری طرف پاکستانی انجینئرز جو 2007 سے ”جے ایف 17“ پر ہاتھ صاف کر رہے تھے اور اس میں آنے والے نت نئے مسائل سے بھی نبرد آزما تھے۔ اس سے پہلے پاک فضائیہ کے انجینئرز پچاس سال پرانے میراج 3 اور 5 قسم کے فائٹر طیاروں میں اتنی تبدیلیاں کرچکے تھے کہ مزید تبدیلیاں برداشت کرنا اب ان جہازوں کے بس کی بات نہیں تھی۔ جے ایف 17 اور میراج جہازوں میں ”بی وی آر“ لگانا ممکن نہیں تھا۔ جس کی دو وجوہات تھیں۔ بی وی آر کے لئے آپ کے جہاز میں اس کا اپنا ایک جدید رڈار ہونا چاہیے دوسرا جہاز میں ایک جدید فضائی کمپیوٹر موجود ہو جو پلک جھپکتے میں ان میزائل اور ریڈار کی مدد سے پائلٹ کو فیصلہ کرنے میں مدد کرسکے۔

فرانسیسی میراج اور سادہ جے ایف 17 دونوں میں یہ کام ناممکن تھا۔

جے ایف 17 جہاز کے کمپیوٹر کے کوڈ اور پروگرامنگ خفیہ بھی تھی اور وہ بھی چینی زبان میں۔ اسی طرح ایف 16 کے کمپیوٹر کا سورس کوڈ امریکہ سے ملنا ناممکن تھا۔

یاد رہے حالیہ دنوں میں جب رافال کو ”جے ٹین سی“ نے گرایا ہے تو انڈیا شور مچا رہا ہے کہ فرانس نے ہمیں رافال کمپیوٹر کا سورس کوڈ نہیں دیا۔ اگر یہ معاہدے کا حصہ ہے تو حیرت ہے انہیں 5 سال بعد ہوش آیا۔

بہرحال اس دوران چند پاکستانی کمپیوٹر انجینئر کامرہ فیکٹری میں کودے اور جے ایف 17 کے لئے اپنا کمپیوٹر بنانے میں کامیاب ہو گئے (یا اس کو ڈی کوڈ کر لیا) ۔ پاکستانی قوم کبھی بھی ان انجینئرز کو شاباش نہ دے سکی۔ مگر یہیں سے جے ایف 17 کے نئے بلاک ٹو ماڈل کی تیاری شروع ہو گئی۔ جس میں پاک فضائیہ نے اپنے کمپیوٹر سے مطابقت رکھتا قدرے جدید رڈار استعمال کر لیا ساتھ ”پی ایل 12“ چینی بی وی آر میزائل جو ایف سولہ بلاک 52 جتنا طاقتور تو نہیں تھا پھر بھی مار پیٹ کر 70 سے 100 کلومیٹر دور تک جا سکتا تھا (یہ تبدیلی دسمبر 2020 میں مکمل ہوئی) ۔ انڈیا کے پاس اب بھی 300 سے زائد سخوئی 30 اور میراج 2000 طیارے موجود تھے۔ جو چند درجن ایف سولہ سے پھر بھی بہتر نہ سہی، کم بھی نہیں تھے۔

فروری 2019 میں ابھینندن کے مگ 21 گرنے کو بہانہ بنا کر مودی حکومت نے سخوئی 30 اور میراج 2000 کے طاقتور بی وی آر میزائلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ناکامی کا سارا ملبہ رافال جہاز نہ ہونے پر ڈال دیا۔ جس کے میٹیور میزائل کی مار کم از کم 100 سے 200 کلومیٹر کے درمیان ممکن تھی۔ اور 60 کلومیٹر تو مانا جاتا ہے کہ سمجھو ”مار دیا“ ۔

پاکستان کے پاس چند درجن ہی ایف سولہ بلاک 52 تھے جو 300 سے زائد میراج 2000 یا سخوئی 30 سے لڑنے کے لئے ناکافی تھے۔ لیکن جولائی 2020 میں رافال کی آمد سے طاقت کا توازن ایک مرتبہ پھر انڈیا کے حق میں بری طرح پلٹ گیا۔ ہرجاء کہ دسمبر 2020 میں پاک فضائیہ کو بھی کامرہ سے جے ایف 17 کے کچھ بہتر بلاک ٹو طیارے مل گئے جو کچھ نہ کچھ بی وی آر استعمال کر سکتے تھے۔ لیکن سخوئی 30 سے لڑنے کے لئے ناکافی تھے۔ اور رافال تو ان کے لئے ناممکن تھا۔

٭

یاد رہے انڈیا رافال 2011 سے خریدنے کے پلان بنا رہا تھا، یہ وہی وقت تھا جب پاکستان نے 2010 میں بلاک 52 قسم کے ایف سولہ حاصل کیے تھے۔ رافال کی 2020 میں آمد اور اس کی مشہوری سے پاک فضائیہ ایک بار پھر مشکل میں تھی۔ جے ایف 17 کا بلاک ٹو ماڈل بھی اڑ رہا تھا مگر اس کے بی وی آر کی حد مار رافال سے بمشکل آدھی تھی۔

رافال کے مقابلے میں جدید امریکی یا یورپی طیارے پاکستان کو ملنا ناممکن تھے، زرمبادلہ کے ذخائر بھی خشک تھے۔ دوسرے ان جہازوں کی قیمت، ٹیکنالوجی اور متعدد دوسرے سیاسی مسائل کی وجہ سے بھی یہ ملنا ناممکن تھے۔ بالخصوص ہندوستان کے دباؤ کی وجہ سے کوئی بھی ملک جدید طیارے پاکستان کو بیچنے پر تیار نہ تھا (کیوں کہ ہر ملک انڈیا کو کچھ نہ کچھ بیچ رہا ہوتا ہے یا اس کے ساتھ کچھ مفاد رکھتا ہے ) ۔

ان دنوں پاکستان اور چین کی مشترکہ کوششوں کو دیکھتے ہوئے ہر ملک ویسے بھی یہی سوچتا تھا کہ پاکستان کو جہاز اور میزائل دینے کا مطلب سیدھا سیدھا چین کو ٹیکنالوجی فروخت کرنا ہے۔

سن 2022 میں ان حالات میں ایک بار پھر چین پاکستان کی مدد کو آیا اور جے ٹین سی طیارہ پاکستان میں اترتا ہے۔ ایک غیر معروف نام جو دنیا میں چین کے علاوہ کوئی بھی استعمال نہیں کر رہا تھا۔ نہ کسی جنگ میں استعمال ہوا تھا۔ چین اس جہاز پر پی ایل 15 طرز کا میزائل استعمال کر رہا تھا جس کی حد مار 200 سے 300 کلومیٹر تک تھی۔ اس میزائل کا قدرے سستا برآمدی ماڈل پی ایل 15 ای (ایکسپورٹ) تھا۔ جس کی حد مار 125 سے 150 کلومیٹر سمجھی جاتی ہے اور یہ فاصلہ رافال کے میٹیور کو چیلنج کرنے کے لئے کافی تھا۔

یاد رہے آج کے یہ بی وی آر میزائل 200 سے 250 کلوگرام وزنی ہوتے ہیں۔ ان کے اندر اپنا فیول، رڈار، بیٹریاں اور الیکٹرانکس ہوتی ہیں اور ایک میزائل کی قیمت بعض اوقات ایک ملین ڈالر سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ جنگ میں ویسے ایک کیا دس ملین ڈالر دے کر بھی اگر دشمن کا ایک جہاز گر جائے تو جو فائدہ ملتا ہے وہ ”بیش قیمت“ ہوتا ہے۔

سن 2022 کے بعد جے ٹین کے تجربوں کے ساتھ پاک فضائیہ کے انجینئرز نے جے ایف 17 کے اپنے کمپیوٹر کو مزید تگڑا بنالیا اور محض ایک سال کے اندر اندر اب اس کا بلاک تھری پاک فضائیہ کے پاس مارچ 2023 سے موجود ہے۔ جس میں قدرے جدید رڈار کے ساتھ وہی میزائل نصب ہو سکتا ہے جو جے ٹین میں ہے یعنی پی ایل 15 (یا اس سے بھی جدید) ۔

حالیہ انڈیا کے ساتھ جنگ سے پہلے یہ بلاک تھری طیارہ ایران میں دہشت گردوں کے زمینی ٹھکانوں پر حملہ کرنے میں بھی استعمال ہو چکا تھا۔

اس کہانی میں اب تک فضا سے زمین پر آنے والے راکٹ یا بموں کی بات نہیں کی گئی ہے۔
٭

فوج میں آپ کے پلان اور ان کی رازداری انتہائی اہم بات ہوتی ہے۔ پاک فضائیہ نے رافال کے بی وی آر سے نبٹنے کا پلان تو بنا لیا تھا مگر ایک اور ممکنہ مصیبت کا توڑ اس کے پاس موجود نہیں تھا۔

یہ روسی ساختہ ایس 400 کا دفاعی نظام تھا۔ جس میں موجود زمین سے فضا میں جانے والے سام میزائل چار سو کلومیٹر دور موجود میزائل یا جہاز کو تباہ کر سکتے تھے۔ یہ تین بی وی آر جتنا فاصلہ تھا۔

سن 2024 میں پاکستان نے چینی ساختہ ”سی ایم 400“ سپر سانک اینٹی شپ میزائل کا سودا کیا جو مقامی جے ایف 17 کے بلاک ٹو اور تھری کسی کے بھی ساتھ استعمال ہوسکتے ہیں۔ پاکستان نے یہی ظاہر کیا جیسے یہ سپر سانک اینٹی شپ میزائل پاکستان نے انڈیا کے بحری جہازوں کو ڈبونے کے لئے خریدے ہیں۔

یاد رہے اس میزائل کی رفتار آواز سے 5 سے ساڑھے پانچ گنا زیادہ تک ہوتی ہے اور اس کا اپنا وزن بھی کم از کم 900 کلوگرام تک ہوتا ہے جس میں ظاہر ہے اتنا بارود ہوتا ہے کہ پورے بحری جہاز کو تباہ کرسکے۔ اسے ہدف سے 100 سے دو سو کلومیٹر پاس چھوڑ دیا جاتا ہے جس کے بعد اس کا اپنا رڈار اور جے ایف 17 جہاز کے پائلٹ کے کنٹرول سے یہ اپنے ہدف پر قہر بن کر نازل ہوتا ہے۔

مئی 10 کو لیکن پاک فضائیہ نے دنیا کو ایک نیا کھیل دکھایا۔ سی ایم 400 کو بحری جہاز ڈبونے کی بجائے پاک فضائیہ نے سرحد سے 100 کلومیٹر دور جالندھر کے پاس آدم پور ائر بیس پر موجود روسی ایس 400 کے دفاعی نظام کو کامیابی سے نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا۔ اس دن وہاں تین بیٹریاں نصب تھیں جن میں سے دو صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ اور دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ ان کو تباہ کرنے کے لئے نہ تو جے ٹین استعمال ہوا نا جے ایف 17 بلاک تھری یا ایف سولہ بلکہ ہمارے قدرے پرانے جے ایف سولہ بلاک ٹو نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ آدم پور جانے والا جے ایف 17 جہاز 2 عدد سی ایم 400 لے کر اڑا جس میں سے پہلا بم آدم پور پر پھینکا گیا جب کہ دوسرا بم اس نے بٹھنڈہ میں موجود براہموس میزائل کے ذخیرہ پر گرایا۔ ایس 400 کی تباہی کے بعد ڈپو اور تمام ائر بیس ویسے بھی لاوارث تھے تو اس ڈپو کو کون بچاتا۔

ویسے خود ہی سوچا جاسکتا ہے کہ جس میزائل نے پورے بحری جہاز کو ڈبونا ہوتا ہے جب وہ ایک بڑے ٹرک پر لدے میزائلوں کی بیٹری پر گرا ہو گا تو ان کا کیا حشر ہوا ہو گا۔ ایس 400 کے بچنے کے امکان اس لئے بھی کم ہیں کیوں کہ اس میزائل کی رفتار ایس 400 کے میزائلوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور یہ دشمن میزائلوں کو دھوکہ دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

براہموس کے ذخیرے کی عمارت کا ملبہ بھی ایک گھنٹے بعد ”دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو“ کی عملی تصویر بنا، دنیا بھر کے سیٹلائٹ کا منہ چڑا رہا تھا۔

یہاں ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ پاکستان نے چین کے ساتھ ایک ایسے ملک میں جہاں ایس 400 نصب ہے جنگی مشق کے دوران اس میزائل کے ساتھ ایس 400 کو متعدد مرتبہ کامیابی سے تباہ کرنے کی پریکٹس کر رکھی تھی۔

اسی طرح پاک فضائیہ نے مسلم دوست ممالک کے پاس موجود رافال طیاروں کے ساتھ متعدد جنگی مشقوں میں حصہ لیا اور ان تجربات سے رافال کی کمزوریوں اور اس کے خلاف اپنی منصوبہ بندی کو بہتر بنایا۔ یوں 10 مئی کو پاک فضائیہ نے محض رافال ہی نہیں روسی دفاعی نظام کو بھی نقصان پہنچا کر جدید فضائی جنگوں میں ایک نئی تاریخ رقم کردی جس کا فائدہ پاک فضائیہ کے ساتھ ساتھ چین کو بھی ہوا ہے یہ اور بات کہ وہ اسٹریٹجی اور پلاننگ جو ائر فورس نے استعمال کیں اس جنگ میں حاصل ہونے والا وہ تجربہ ”محض اسلحے“ سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

اور یہاں بھی سلام نہ صرف ان پائلٹوں کو جو یہ جہاز لے کر گئے بلکہ ان گمنام انجینئرز کو بھی جنہوں نے جدید جے ایف 17 کے کمپیوٹر کو پاکستان کے لئے بنایا۔

رڈار کی کہانی اب بھی باقی ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “ایف سولہ سے روسی طیاروں کی تباہی اور جے ٹین سے رافال کی تباہی تک

Comments are closed.