جرمنی میں مقامی باشندے اور مہاجرین


انسان جب اپنے پیدائشی ملک سے دوسرے ملکوں میں ہجرت کرتا ہے تو اس کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسان اچھا ہوتا ہے یا برا ہوتا ہے۔ اس کا تعین کرنے کا معیار بھی ریلیٹو ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق، ہر انسان میں، ڈی۔ این۔ اے یعنی ڈی آکسی رائبو نیو کلک ایسڈ نامی وراثتی مادہ، جو انسانی وراثتی خصوصیات کو نسل در نسل منتقل کرتا ہے موجود ہے۔ یہ مادہ انسانی جسمانی خلیوں کی ساخت کے لئے نہایت اہم اور ناگزیر ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر جنگ میں شکست اور مردوں کی کمی کے باعث جرمنی میں افرادی قوت کا فقدان تھا اس لئے جرمنی نے 1955 میں یونان، ترکیہ، اسپین، پرتگال، یوگوسلاویہ اور اٹلی کے ممالک کے ساتھ جرمنی میں مہمان ورکرز بھجوانے کے لئے معاہدے کیے تھے۔ یہ سلسلہ 1973 میں تیل کے عالمی بحران کی وجہ سے رک گیا تھا۔

اس دوران تقریباً 14 ملین غیر ملکی جرمنی آئے اور تقریباً 11 ملین اپنے اپنے ممالک واپس بھی جا چکے ہیں۔ جرمنی میں رہنے والے غیر ملکی، شروعات میں صرف مہمان ورکرز تھے۔ لیکن جرمنی کی غیر واضح حکومتی پالیسی، مہمان ورکرز کو مستقبل بنیادوں پر جرمنی میں رکھنا ہے یا ایک خاص مدت تک رہائشی اجازت نامہ دینا ہے، کی وجہ سے، آج غیر ملکیوں کی تیسری اور چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے۔ ان میں بہتوں نے جرمن قومیت بھی حاصل کی ہوئی ہے۔ اس غیر واضح حکومتی پالیسی کی وجہ جرمن صنعت اور ان کے معاشی مفادات تھے۔ بعد میں مہمان ورکرز، اپنے بیوی بچوں کو بھی جرمنی بلا سکتے تھے۔

محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے اختتام پر جرمنی میں 14 ء 06 ملین غیرملکی، جو کل آبادی کا 16 ء 8 فیصد ہے، سکونت پذیر ہیں۔

میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق، جرمن باشندوں کی، غیر ملکیوں سے تعلقات یا ان کو جرمنی میں خوش آمدید کہنے کی مناسبت سے تین اقسام ہیں۔

پہلی قسم ان جرمنوں کی ہے جو صرف جرمن، یورپین یا سفید نسل کے لوگوں کو جرمنی میں رہنے کا حق دینا چاہتے ہیں۔ جیسے جرمنی کی ایک اے۔ ایف ڈی نامی سیاسی جماعت کے اراکین اور ووٹرز ہیں۔ یہ جماعت، وفاقی پارلیمان میں گزشتہ تین دورانیوں میں منتخب ہوتی آ رہی ہے۔ وفاقی پارلیمان میں منتخب دوسری سیاسی جماعتوں نے اس جماعت کے ساتھ قطع تعلق کیا ہوا ہے اور عوامی یا حکومتی سطح پر حزب مخالف اور حزب اقتدار کا اس جماعت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ حال ہی میں، اس جماعت کے امید وار جرمنی کے چھوٹے شہروں میں بطور میئر منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق جرمنی کے 24 سے 20 فی صد لوگ اس جماعت کے حامی ہیں۔

دوسری قسم ان جرمنوں کی ہے جو غیر ملکیوں کو جرمن طرزِ زندگی اپنانے پر ہی قبول کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا اس طرح مربوط ہونا کہ وہ بھی جرمنوں کی طرح رقص و سرور کی محفلوں میں حصہ لیں جہاں ان کی خواتین بھی دوسرے مردوں کے ساتھ رقص کریں اور اس کو برا نہ سمجھا جائے۔

غیر ملکیوں کے ساتھ دوستانہ جذبات اور تعلقات رکھنے والے جرمن باشندے تیسری قسم میں آتے ہیں۔ وہ ان کو جرمن قوانین کی پاسداری کی شرطوں پر اپنے تئیں اور اپنی ثقافت، تہذیب اور مذہب کے ساتھ یہاں رکھنے اور مستقل بنیادوں پر رہنے کے حق میں ہیں۔ 2015 میں ایک مشہور مثال، سابقہ چانسلر مسز انجیلا میرکل نے لاکھوں پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہہ کر قائم کی تھی۔ آخر میں ایک اضافی معلومات قابلِ تحریر ہے کہ جرمنی میں دو مختلف نظریات پر بحث ہوتی ہے کہ کیا اسلام کا تعلق جرمنی سے ہے یا نہیں۔ اس وقت جرمنی میں تقریباً ساڑھے پانچ ملین مسلمان بستے ہیں۔

Facebook Comments HS