کامران بشیر کی واپسی اور دہلی کی فتح
یو ٹیوب اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم اتنے عقل مند ہو چکے ہیں کہ آپ کی پسند کے مطابق موضوعات، مضامین اور ویڈیوز خود ہی سامنے لے آتے ہیں۔ جس جے ٹین جہاز کو یورپ گھاس نہیں ڈالتا تھا اور ماضی میں فرانس نے پیرس ائر شو میں جس J 10۔ C کی انٹری 4.5 جنریشن کے جہازوں میں شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اب اسی انتظامیہ نے اگلے پیرس ائر شو میں چنگڈو ایوی ایشن کو دعوت دی ہے کہ آپ کے جہاز کی شرکت پیرس ائر شو میں ہمارے لئے خوشی کا باعث ہو گی۔
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
(میری دوست عاصمہ کی ناراضگی کا ڈر نہ ہوتا تو میں شعر کو بخوشی یوں لکھ دیتا)
بدلتی ہے رنگ عاصمہ کیسے کیسے۔
بہرحال رپورٹ پڑھ ہی رہا تھا کہ یکایک ایک یوٹیوب کے تھمب نیل نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔
چین نے پاک فضائیہ کے پائلٹ ”کامران بشیر“ کا شکریہ ادا کیا ہے!
اس وقت پوری قوم جس اعلان کا انتظار کر رہی ہے وہ صرف یہ ہے کہ پاک فضائیہ کے وہ کون کون سے شہزادے تھے جنہوں نے ہندوستانی فضائیہ کے جہازوں کو زمین بوس کیا۔
آج 2025 میں جس طرح فضائیہ نے یہ کارنامہ انجام دیا وہ ویسے بھی ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں ایک جہاز کو گرانے میں بھی کئی لوگوں کا ہاتھ شامل ہے۔ یہ ایم ایم عالم والا زمانہ نہیں کہ ”میں اکیلا ہی کافی ہوں“ ۔
”فائٹر پائلٹ گروپ کیپٹن کامران بشیر مسیح المعروف اسکوڈرن لیڈر کامران مسیح بھٹی“ کی کہانی سے چھ سال پہلے کی ایک اور کہانی پڑھ لیں۔
ابھینندن والے واقعے میں بھی یہی ہوا تھا کہ قوم کا مورال اس صبح کافی ڈاؤن تھا۔ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ نام نہاد بالا کوٹ پر حملہ جس طرح ہوا یعنی آپ کی سرحدوں میں کسی غیر معروف یا غیر اہم علاقے سے کوئی چور آپ کے شہر یا ملک میں گھس گیا تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہوتی جس کو اتنا دل پر لیا جائے۔ اور جہاز سے گرائے جانے والے کسی میزائل یا اسمارٹ بم کو روکنا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے۔
مئی 6 کو ہی دیکھ لیں۔ دشمن ہمارے سامنے ہی فضا میں تھے۔ وہ اپنے علاقے میں ہم اپنے علاقے میں ایسی پیچیدہ حالت میں آپ ایک دوسرے پر فائر نہیں کرتے کیوں کہ اس وقت تک دونوں ممالک کے درمیان ماحول ضرور گرم تھا لیکن جنگ شروع نہیں ہوئی تھی اور نہ کوئی سرحدی خلاف ورزی ہوئی تھی۔ پھر وہی ہوا کہ بزدل دشمن نے رات 1230 پر اپنے پہلے سے سیٹ کیے گئے اہداف کے لئے بم فضا میں چھوڑ دیے۔ اس رات پہلا بم 12 بج کر 34 منٹ پر گرا۔
آپ کچھ نہیں کر سکتے کیوں کہ کچھ پتہ نہیں اس پر کس کی موت لکھی ہے اور یہ کہاں جا کر لوگوں کو مارے گا۔ آپ بس یہی کر سکتے تھے کہ جن جہازوں نے بم پھینکے ان کو نشانہ بنائیں۔ اور ہمارے شاہینوں نے یہی کیا۔ چھ فائٹر طیاروں اور ایک جدید جنگی ڈرون کو نشانہ بنایا گیا۔ (پاک فضائیہ نے اس وقت پانچ کا دعویٰ کیا کیوں کہ چھٹے کا پکا علم نہیں تھا کہ میزائل لگا یا نہیں ) ۔
ابھینندن والے واقعے کو دیکھیں تو اس صبح 27 فروری کو جب پاکستانی پائلٹ مشن پر گئے تو ان کے لئے حکم تھا کہ کسی ہندوستانی طیارے کو اس وقت تک نہیں گرانا جب تک وہ آپ کے لئے خطرہ نہ بن جائے یا آپ کو حکم دے دیا جائے۔
اسکواڈرن لیڈر حسن صدیقی نے ہندوستانی سخوئی 30 پر میزائل مارا، ساتھ آر ٹی یعنی ریڈیو ٹرانسمشن پر دوسرے لوگوں کو بھی آگاہ کر دیا کہ میں نے میزائل فائر کر دیا ہے۔ اب پاکستان میں لوگ لاش کا انتظار کر رہے تھے۔
سخوئی 30 ایک جدید جہاز ہے جو اس وقت حسن کے جہاز سے اتنے فاصلے پر تھا کہ شاید ہی ایف سولہ کا ایمرام 120 اس کو تباہ کر پاتا (زیادہ امکان یہی تھا کہ نہیں کر پاتا) ۔ حسن نے بہرحال خطرہ مول کر فائر دے مارا۔ سخوئی کے دفاعی نظام نے اس کے پائلٹ کو آگاہ کر دیا کہ اس کا جہاز لاک ہو چکا ہے۔ سخوئی مزید اپنے علاقے میں جاتا گیا اور ایف سولہ کے میزائل سے بچنے کے پینترے آزماتا رہا۔ یوں اس سخوئی 30 کا فاصلہ حسن (اور بین الاقوامی سرحد سے ) مزید دور ہوتا گیا اور حسن کے جہاز کو ایمرام کا آخری سگنل محض اتنا آیا کہ وہ اپنے ہدف کو چھو گیا ہے۔ لیکن آگے کیا ہوا اس کا علم جہاز کے ملبے یا انڈیا کے اعلان سے ہی ہو سکتا تھا کیوں کہ پہاڑیوں کی دوسری طرف ہمارے اواکس جہازوں کو بھی سخوئی کے سگنل ملنا بند ہو گئے تھے یعنی یا تو جہاز گر گیا یا ہٹ ہونے کے باوجود سخوئی بحفاظت کسی قریبی رن وے پر لینڈ کر گیا۔
اس وقت فضا میں سب سے سینئر پائلٹ اسکواڈرن کے سربراہ ونگ کمانڈر نعمان علی خان تھے۔ جن کی حیثیت وار تھیٹر میں موجود بحری کپتان جیسی تھی جس نے سب سے آخر میں اس وقت واپس آنا تھا جب اس کے تمام ماتحت بحفاظت واپس آ جاتے۔
سخوئی کے پائلٹ نے اپنی ٹرانسمشن پر پہلے ہی دوسروں کو ڈرا دیا تھا کہ وہ لاک ہو چکا ہے اور یوں یکے بعد دیگرے سخوئی اور میراج 2000 کے دوسرے پائلٹ بھی خوف سے یہ کہ کر لینڈ کرچکے تھے کہ ان کے جہاز کا فیول ختم ہو رہا ہے۔ حسن کو واپس گئے پانچ دس منٹ ہو چکے تھے۔
انڈیا نے فروری 2019 میں اپنی سرزمین پر گرنے والے کسی بھی جہاز کے نقصان کا کبھی اعتراف نہیں کیا۔ شروع میں تو ابھینندن کا بھی اعتراف نہیں کیا تھا۔ یہ اعتراف اس وقت ہوا جب دنیا نے ابھینندن کو چائے کی چسکیاں لیتے دیکھا۔ پچھلے چھ سال میں ہندوستانی فضائیہ کے ریکارڈ کے مطابق اس دن یعنی 27 فروری کو صرف دو پائلٹ ہلاک ہوئے تھے۔ ”اسکواڈرن لیڈر نی۔ ند۔ انیل منڈاؤ۔ گنے“ اور ”اسکواڈرن لیڈر سدھارتھ وشیشت“ ۔
یہ دونوں اس ”ایم آئی 17“ ملٹری ہیلی کاپٹر کے پائلٹ تھے جو انڈیا کی فوج نے بڈگام کے علاقے میں گھبراہٹ میں گرا لیا تھا۔ ایک اور پائلٹ ”ونگ کمانڈر اروند سنہا“ کا البتہ بعد میں 26 فروری 2019 کو ہلاک ہونے کا اعلان کیا گیا تھا (واقعے سے ایک دن پہلے ) ۔ انڈیا جس طرح کی حرکتیں کرتا ہے اور جھوٹ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے ممکن ہے کہ یہ سخوئی 30 کا ہی پائلٹ ہو اور ہندوستانی فضائیہ نے ریکارڈ میں پچھلی تاریخ سے انتقال ظاہر کر کے معاملے کو چھپایا ہو۔ (کچھ عرصے پہلے میں نے اپنے تئیں ”آنجہانی اروند سنہا“ کے کورس میٹ ”ائر کموڈور مادھو رنگا چاری“ سے وجہ انتقال جاننے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔
بہر حال سخوئی کے لاک ہونے اور کچھ دیر بعد یہ اطلاع جہازوں کی ریڈیو ٹرانسمشن پر نشر ہو رہی تھی کہ پاک فضائیہ نے ایک ہیلی کاپٹر بھی گرا دیا ہے۔ اتنے میں انڈین فضائیہ کے ایک سابق ”ائر مارشل سمہا کُٹی و رتھامن“ کے صاحب زادے ”ابھینندن و رتھامن“ جو ایک انڈین فلم میں کام کرنے کی وجہ سے ویسے بھی مشہور ہو چکے تھے۔ جانے کس پینک میں ”ٹولی ووڈ“ (تامل تیلگو فلم انڈسٹری) کے ہیرو کی طرح فضا میں بلند ہو گئے۔
اس وقت الیکٹرانک جاسوسی کے پاکستانی طیاروں کا کام اپنے عروج پر تھا۔ انڈین ریڈار کو کنٹرول کرنے والی خاتون افسر چیخ چیخ کر سب کو خبردار کر رہی تھی۔ لیکن اس کی آواز ائر فورس کے سسٹم تو ریکارڈ کر رہے تھے لیکن انڈین پائلٹ ”نندو / ابھے“ کو سنائی نہیں دے رہی تھی۔ ابھینندن کے مگ 21 کا ریڈار بھی جام تھا۔ اس نے ایک پہاڑی سے دوسری طرف جا کر حالات کا جائزہ لینا چاہا تو بہت اوپر جنگی تھیٹر میں موجود نعمان علی خان کے ایف سولہ ریڈار نے ابھینندن کے مگ 21 کی موجودگی کی خبر دی۔ نعمان کو نیچے ابھی نندن بھی نظر آ گیا اور اس سے بہت آگے اسی کے اسکواڈرن کا ایک جہاز بھی، جو مشن مکمل کر کے واپس جا رہا تھا۔ بظاہر دونوں میں اتنا فاصلہ تھا کہ وہ جہاز ابھینندن کی رینج میں نہیں تھا (مگ 21 میں نصب میزائل بی وی آر نہیں تھے اور پائلٹ بمشکل دیکھ کر ہی 20 یا 25 کلومیٹر دور دشمن جہاز پر فائر کر سکتا تھا) ۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ آج کے جدید بی وی آر میزائلوں کے برعکس ان میزائلوں کی رفتار بھی بہت زیادہ نہیں تھی اور ان کے فائر ہونے کے بعد اگر دشمن کے جہاز میں جدید ریڈار ہو تو اس کو ایک وارننگ مل جاتی ہے کہ اس کا جہاز کسی میزائل نے لاک کر لیا ہے (اس کی طرف آ رہا ہے ) ۔ نعمان نے اندازہ لگا لیا کہ مگ 21 اور اس کے ماتحت کا فاصلہ 70 سے 100 کلومیٹر تک ہے اور اس کے ماتحت کے طیارے کو ہٹ ہونے کا امکان نہیں لیکن اگر کسی وجہ سے پاکستانی پائلٹ نے رفتار آہستہ کی یا واپس پلٹا تو وہ مگ 21 کے پائلٹ کو نظر آ جائے گا۔
نعمان نے حساب لگایا تو مگ 21 پاکستانی کشمیر کے اوپر تھا اور اس کا رخ پاکستان کی طرف تھا یعنی اگر جہاز پر حملہ کیا جائے تو ملبہ پاکستان میں گرے گا!
ونگ کمانڈر نعمان نے اپنی صوابدید پر مگ 21 پر اپنے بی وی آر میزائل سے حملہ کر دیا۔ مگ 21 کا پائلٹ ویسے بھی ”گواچی گائے“ کی طرح فضا میں ابھی حالات کا محض جائزہ ہی لے رہا تھا۔ ریڈیو پر لیڈی کنٹرولر شور مچا رہی تھی کہ ٹھک سے اس کا جہاز ہٹ ہو گیا۔ پائلٹ کے پاس چند ہی سیکنڈ تھے اور یوں ابھینندن ورتھامن کچھ دیر بعد پاکستانی کشمیر کی سیر کو اپنے پیراشوٹ کے ساتھ چل پڑے۔
ابھینندن کا خیال تھا کہ وہ ہندوستانی کشمیر کے اوپر ہے۔ دل چسپ بات یہ بھی تھی کہ اب وہ ایک انوکھے ریکارڈ میں بھی حصے دار بن چکا تھا۔ نومبر 2012 میں ریٹائر ہونے والے اس کے والد بھی کوئی تیس سال پہلے ایک مگ 21 سے ایجکشن کر چکے تھے۔ یعنی باپ بیٹوں کی جوڑی نے ہندوستانی قوم کو دو مگ 21 طیاروں کا نقصان پہنچایا تھا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ سب کے علم میں ہے۔
اب کامران بشیر مسیح کی کہانی کی طرف آتے ہیں۔
نعمان علی خان میزائل مارنے اور یہ دیکھنے کے بعد کہ مگ 21 کا پائلٹ پاکستانی علاقے میں اتر چکا ہے تیزی سے کم ہوتے فیول کی اہمیت سمجھتے ہوئے ائر بیس کی طرف واپس چل پڑتے ہیں۔
حسن صدیقی کے فائر کی کہانی زمین پر اب تک سب کو پتہ چل چکی تھی صرف جہاز کے ملبے اور پائلٹ کی تلاش تھی۔ اسی اثناء میں پاکستانی ریڈار نے مزید ایک اور ہندوستانی طیارے کی خلاف ورزی اور پھر یک دم غائب ہو جانے کی اطلاع دے دی تھی۔ جب کہ نعمان نے ابھی تک میزائل کا اعلان ہی نہیں کیا تھا۔
جیسے ہی ابھینندن کے ہندوستانی جہاز گرنے کی پکی خبر پاکستان میں پہنچی۔ اسی وقت اسکواڈرن لیڈر (مساوی میجر) حسن صدیقی اپنے بیس پر لینڈ کر رہا تھا۔ زمینی عملے کو علم تھا کہ چھوٹا صاحب میزائل مار کر آیا ہے۔ وارنٹ افسر (مساوی صوبیدار) نے صاحب کا منہ چوما اور بتایا کہ جہاز گر گیا ہے اور حسن کے نہ نہ کرتے بھی اپنے کورآل سے موبائل نکال کر ”فاتح کے ساتھ پہلی سیلفی“ کھینچ لی۔
قوم کو ٹی وی سے پتہ چل چکا تھا کہ ہمارے شاہینوں نے ایک گھس بیٹھیا مار گرایا ہے۔ لیکن کس نے مارا یہ ابھی بھی راز تھا کیوں کہ ائر فورس اب اس طرح اعلان نہیں کرتی۔ لوگ اس مخمصہ میں بھی تھے کہ یہ جہاز آیا، ”جے ایف 17“ نے گرایا ہے یا ایف سولہ نے۔ یاد رہے اس وقت ہمارے پاس ایف 17 کا بلاک ون موجود تھا جس پر بی وی آر نہیں لگ سکتا تھا۔ وہ دیکھنے میں تو ایف سولہ جیسا تھا لیکن کام میں مگ 21 یا ایف 7 جیسا ہی تھا۔
قوم اس انتظار میں تھی کہ وارنٹ افسر نے اپنی بیگم کو پائلٹ کے ساتھ کھینچی سیلفی بھیج دی۔ بیگم نے اپنی بہن سے شیئر کر کے پیٹ ہلکا کر لیا اور محض ایک منٹ بعد جیو ٹی وی پر وارنٹ افسر اور حسن صدیقی کی سیلفی اور پیچھے جہاز کے ساتھ بریکنگ نیوز کے ٹِکر چل رہے تھے۔
دو منٹ بعد کسی نے اسے ”ایم ایم عالم ثانی“ کا خطاب دے دیا تھا۔ نعمان نے ابھی تک بیس پر لینڈ بھی نہیں کیا تھا۔ پانچ چھ منٹ بعد جب وہ بیس پر پہنچا تو عملے نے حیرت سے پوچھا کہ صاحب کیا میزائل گرا کر آئے ہو؟ (کیوں کہ نعمان نے اناؤنس ہی نہیں کیا تھا) ۔ بڑے صاحب کا غصیلا چہرہ دیکھ کر وارنٹ افسر نے مزید کچھ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔
اسکواڈرن پہنچ کر نعمان نے ہنگامی حالات میں میزائل فائر کرنے سے ”اوپر سب کو“ آگاہ کیا، مگ 21 کے کوارڈینیٹ بتائے۔ اسے بتایا گیا کہ جہاز کا ملبہ بھی مل چکا ہے اور پائلٹ کی گرفتاری بھی لگ بھگ ہو چکی ہے۔ بعد میں نعمان علی خان کے اس پر خطر فیصلے نے پاکستانی تاریخ بدل دی۔ اور حسن صدیقی کی زندگی۔
پاکستانی سوشل میڈیا کسی اور سمت چل پڑا تھا۔ نعمان کے برعکس حسن صدیقی ایک ہیرو بن چکا تھا۔ وارنٹ افسر کی طرف سے کی گئی ”سنگین غلطی“ نے جو کچھ کیا اس کا پوری قوم پر انتہائی مثبت اثر پڑ چکا تھا۔ اور لوگوں کے جذبات آسمان کو چھو رہے تھے۔
”وتعذ من تشا“ کی عملی تفسیر۔
پاک فضائیہ نے کئی دن بعد جب ابھینندن بھی واپس جا چکا تھا یہ اعلان کیا کہ جہاز ”حسن صدیقی“ نے نہیں ”نعمان علی خان“ نے گرایا تھا۔ لیکن اب کون سنتا ہے۔
میں سوشل میڈیا میں فیس بک اور واٹس ایپ ٹائپ استعمال نہیں کرتا یوں فیک نیوز سے بچا رہتا ہوں۔ اسی لئے میں ان محترم کامران بشیر سے ناواقف تھا کیوں کہ میں نے گوگل پر صرف کامران ہی لکھا تھا کہ بشیر مسیح خود آ گیا۔ یعنی حضرت ٹرینڈنگ پر تھے۔
ایک منٹ میں کئی یوٹیوب اور فیس بک اکاؤنٹ دیکھنے کے بعد میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔ کیوں کہ کامران مسیح نہ تو پائلٹ ہے اور نہ کیپٹن یا گروپ کیپٹن۔ یہ کارگو (اور اسی طرح کے دوسرے ) جہازوں پر کام کرنے والے ٹیکنیکل عملے کا ایک رکن ہے۔ انہیں امریکی فضائیہ میں ”لوڈ ماسٹر“ کہا جاتا ہے یعنی سامان یا حساس اسلحہ جہاز میں لادنے والے۔ یہ لوگ نچلے عملے یعنی فضائی سپاہی یا ائرمین سے ترقی کرتے ہوئے افسر بنتے ہیں (وہی رینکر ڈی ایس پی ٹائپ) اور زیادہ سے زیادہ اسکواڈرن لیڈر بنتے ہیں۔ ان کے ونگ پر دو نہیں ایک ”پر“ ہوتا ہے جب کہ جہاز میں سفر کے دوران ان کے کانوں پر ہیڈ فون لگے رہتے ہیں تاکہ پیچھے سامان کے ساتھ رہتے ہوئے کارگو جہاز کے شور مچاتے انجن کی آواز کے باوجود پائلٹ سے رابطے میں رہ سکیں۔
ایک یو ٹیوب میں بتایا جا رہا تھا کہ کامران نے نہتے آدم پور پر روس کی بیٹریاں اڑا دیں دوسری طرف ایک بتا رہا تھا کہ اس نے دو طیارے تباہ کیے۔ جس کے بعد اسے واپس بلا لیا گیا ورنہ وہ دہلی تک کو تباہ کر دیتا۔
ہمارے مسیحی بھائی تو اسے ”سیسل ٹو“ قرار دے رہیں۔ بھائیو! ویسے تو کامران ”وتعذ من تشا“ کی عملی تفسیر ہے۔ لیکن خدا کے واسطے وہ پائلٹ نہیں ہے یہ اور بات کہ جہاز میں اپنے موبائل سے اپنی ویڈیو بنانے پر اب یا تو اس کا کورٹ مارشل ہو گا یا حسن صدیقی کی طرح پبلک کی فرمائش پر کوئی میڈل ملے گا۔
ایسے مواقع پر یاد رہے پاک فضائیہ کی طرف سے جنگ ( 1948 ) میں پہلا زخمی ایک عیسائی پائلٹ تھا۔ فلائنگ افسر جگ جیون جن کے ساتھی پائلٹ مختار ڈوگر کو اس مشن پر پہلا ستارہ جرات ملا تھا۔
ائر فورس کی ہی طرف سے سیسل چوہدری ہی نہیں، ونگ کمانڈر مڈل کوٹ نے 1965 اور 1971 دونوں جنگوں میں ستارہ جرات حاصل کیا اور 1971 میں جام نگر سے واپسی پر جام شہادت نوش کیا۔
ائر کموڈور نذیر لطیف (بل لطیف) بھی ستارہ جرات کے ساتھ عیسائی تھے۔ چند اور بھی تھے۔
یاد رہے ستارہ جرات حاصل کرنے والے ابھینندن کے شکاری نعمان علی خان اب ائر کموڈور بن چکے ہیں۔
کامران مسیح بھٹی کا تخت یا تختہ کیا بنتا ہے انتظار کرتے ہیں۔







اس مضمون کو ملا کر پڑھیں۔ایف سولہ سے روسی طیاروں کی تباہی اور جے ٹین سے رافال کی تباہی تکhttps://www.humsub.com.pk/589798/muqarrab-qayyum-5/