انڈیا، پاکستان موجودہ تنازعہ اور مضمرات


دو جوہری طاقتوں انڈیا اور پاکستان کے درمیان 4 مئی تا 10 مئی کے دوران تنازعے نے جو شکل اختیار کی وہ میڈیا نے دکھا دیا۔ جس میں جوہری جنگ کی طرف بڑھنے کے خطرات بھی سر پر منڈلا رہے تھے۔ ایسے میں چند ممالک نے سفارتی سطح پر اس تنازعے کو روکنے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا لیکن آخر کار امریکہ نے دونوں ممالک کو سیز فائر کرانے میں اپنا رول ادا کیا۔ جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ قطع نظر اس کے کون جیتا اور کون ہارا لیکن انسانیت غالب آ گئی۔ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتی۔ آخر کار مکالمہ بازی کے نتیجے میں حل تلاش کیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کا فقدان ہے

انڈیا اور پاکستان کے درمیان مستقبل میں ایسے اقدامات (تنازعات، حملے، اور کشیدگی) کو روکنے کے لیے چند سنجیدہ، مستقل، اور باہمی اعتماد پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں۔ درج ذیل اقدامات دونوں ممالک کو ایک مستحکم اور پرامن راستے کی طرف لے جا سکتے ہیں :

1۔ مستقل سفارتی مکالمہ (Sustained Diplomatic Dialogue)
دونوں ممالک کو باقاعدہ سفارتی مذاکرات کا سلسلہ بحال رکھنا ہو گا، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔
بیک چینل ڈپلومیسی بھی جاری رکھی جا سکتی ہے۔

مذاکرات کو دہشت گردی یا دیگر مسائل سے مشروط نہ کیا جائے بلکہ انہیں تمام مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جائے۔

2۔ انسدادِ دہشت گردی کے مشترکہ اقدامات (Joint Anti Terror Mechanism)

دونوں ممالک کو خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم قائم کرنا چاہیے۔ دہشت گرد گروہوں کی شناخت اور کارروائیوں کو روکنے کے لیے اعتماد پر مبنی تعاون ہونا چاہیے۔

3۔ عسکری رابطہ کاری (Military to Military Communication DGMO سطح کے رابطے کو مزید فعال بنایا جائے۔ ڈی جی ایم او کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے بعد فوری رابطہ اور وضاحت کشیدگی کو کم کر سکتی ہے۔ ہاٹ لائن اور دیگر عسکری ذرائع کو مستقل بنیادوں پر استعمال کیا جائے۔

4۔ میڈیا کا مثبت کردار
دونوں ممالک کے میڈیا کو اشتعال انگیز بیانات، نفرت انگیز رپورٹنگ، اور جنگی جنون سے گریز کرنا ہو گا۔
امن اور تعاون کے بیانیے کو فروغ دینا ہو گا۔

5۔ عوامی روابط اور ثقافتی تبادلے
طلبا، فنکار، صحافی، اور تاجروں کے لیے ویزا آسانی سے جاری کیے جائیں۔ کھیلوں، فنون، اور مذہبی زیارات کے ذریعے رابطے بحال ہوں تاکہ عوامی سطح پر نفرت کم ہو۔

6۔ مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل
اصل تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے، جب تک یہ حل نہیں ہوتا کشیدگی کا خطرہ برقرار رہے گا۔
دونوں ممالک کو اقوام متحدہ، OIC، یا دیگر غیر جانبدار ثالثی کی مدد سے سیاسی حل کی طرف بڑھنا ہو گا۔

7۔ جوہری ہتھیاروں کی حفاظت اور اعتماد سازی
جوہری اسلحے سے متعلق ایک دوسرے کو اعتماد میں لینے، اور اتفاق کردہ حدود کے اندر رہنے کے لیے نئے معاہدے ہونے چاہئیں۔ جس میں ”جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال نہیں“ کے اصول پر بات چیت ہو سکتی ہے۔

اگر ان اقدامات کو خلوص نیت سے اپنایا جائے، تو نہ صرف جنگوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا کو پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ یورپ اپنے اختلافات کو حل کرتے ہوئے باہمی اعتماد سازی کے ساتھ آگے بڑھ کر ترقی کر رہا ہے۔ کل کے دشمن آج کے دوست بن گئے ہیں۔ کیا یہ دونوں جوہری ممالک ایسا نہیں کر سکتے؟ یہ دونوں ممالک اپنی اپنی عوام کو غربت کی لکیر کی سطح سے اوپر اٹھا کر ترقی کا دور ممکن بنائیں۔ انتہاء پسندی مسائل کا حل نہیں ہوا کرتی۔

 

Facebook Comments HS