تعلیم ترقی کی بنیاد اور اسکردو میں معیاری اداروں کی سنگین کمی


تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد، ترقی کی کنجی، اور فکری ارتقا کا پہلا زینہ ہے۔ وہ معاشرے جنہوں نے تعلیم کی قدر کو پہچان لیا، آج دنیا میں علمی، سائنسی، تہذیبی اور اقتصادی میدانوں میں ممتاز مقام حاصل کر چکے ہیں۔ علم وہ روشنی ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر شعور، فہم، تحقیق اور تخلیق کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ تعلیمی ترقی کے بغیر کسی بھی معاشرے کی پائیدار اور حقیقی ترقی کا تصور ممکن نہیں۔

بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ آج بھی تعلیم کی اس بنیادی اہمیت کا پوری طرح ادراک نہیں کر پایا۔ نتیجتاً ہم آج بھی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہونے سے محروم ہیں۔ جہاں دنیا نے اپنے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے اپنے عوام کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم فراہم کی، وہیں ہم آج بھی بنیادی تعلیمی سہولیات سے محرومی کا شکار ہیں۔

اسکردو جیسے اہم اور گنجان آباد شہر کی مثال ہی لیجیے۔ حالیہ دنوں میں گورنمنٹ کالج اسکردو میں داخلوں کے دوران ایک تشویشناک حقیقت سامنے آئی۔ سیکڑوں نشستوں کے لیے ہزاروں کی تعداد میں داخلہ فارم جمع ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس شہر میں معیاری تعلیمی اداروں کی کتنی شدید کمی ہے۔ گورنمنٹ کالج اسکردو اپنی محدود سہولیات اور قلیل تعداد میں اساتذہ کے باوجود کوشش کر رہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو تعلیم کے مواقع فراہم کرے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو طلبہ اس ایک ادارے میں داخل ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں، وہ کہاں جائیں؟ کیا اس شہر میں اس معیار کا کوئی دوسرا سرکاری ادارہ موجود ہے؟ یا کم از کم کوئی ایسا ادارہ جو جزوی طور پر اس معیار کے قریب ہو؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کا جواب صرف ایک لفظ میں دیا جا سکتا ہے : ”نہیں“ ۔

اس تعلیمی خلا کا سب سے بڑا نقصان ان ذہین مگر نادار طلبہ کو اٹھانا پڑتا ہے جو نجی کالجوں کی بھاری فیس برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ وہ مجبور ہو جاتے ہیں کہ یا تو تعلیم چھوڑ دیں یا معمولی معیار والے اداروں میں جا کر اپنے خوابوں کا گلا گھونٹ دیں۔

اکثر حلقوں میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ والدین خود سرکاری اداروں میں بچوں کو پڑھانا نہیں چاہتے، مگر یہ سراسر حقیقت سے انحراف ہے۔ درحقیقت، والدین غیر معیاری اداروں میں بچوں کو بھیجنے سے گریز کرتے ہیں۔ جہاں معیاری تعلیم، قابل اساتذہ، اور نظم و ضبط ہو، وہاں والدین کا رجحان سب سے پہلے ہوتا ہے، جیسا کہ گورنمنٹ کالج اسکردو اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اتنے بڑے شہر کے لیے ایک معیاری کالج کافی ہے؟ یقیناً نہیں۔ اسکردو شہر کی تعلیمی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہاں کئی نئے سرکاری کالج قائم کیے جانے چاہیے، جو نہ صرف تعلیمی خلا کو پُر کریں بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کریں۔ تعلیم کو طبقاتی نظام سے نکال کر ہر فرد کے لیے یکساں بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ تعلیم جیسے بنیادی مسئلے پر کہیں کوئی اجتماعی شعور، کوئی سنجیدہ آواز یا کوئی پُرزور احتجاج دیکھنے کو نہیں ملتا۔ میڈیا پر دن رات سیاست، فرقہ واریت، ذاتی مفادات اور غیر اہم موضوعات پر بحث و مباحثے ہوتے ہیں، لیکن معیاری تعلیمی اداروں کی کمی پر کوئی قلم اٹھاتا ہے، نہ کوئی آواز بلند کرتا ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے معاشرے کو ترقی، امن، خوشحالی، برداشت، شعور اور خود انحصاری کی طرف لے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں فکری پسماندگی سے نکال کر تہذیبی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہی معاشرے میں تحقیق، تنقید، تخلیق، رواداری، ہم آہنگی، اور شعور جنم لیتے ہیں۔

لہٰذا، اب وقت آ گیا ہے کہ بلتستان کے دانشور، قلمکار، والدین، طلبہ، اساتذہ، عوام، اور سب سے بڑھ کر عوامی نمائندے اس سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ اسکردو جیسے اہم شہر میں گورنمنٹ کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ حکومت وقت اور محکمہ تعلیم فوری طور پر اس سمت میں عملی اقدامات اٹھائے تاکہ بلتستان کا ہر بچہ اپنے بنیادی تعلیمی حق سے محروم نہ رہے۔ ایک معیاری، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ تبھی وجود میں آتا ہے جب تعلیم کو محض ایک ضرورت نہیں، بلکہ اولین قومی فریضہ سمجھا جائے۔ آئیں، ہم سب مل کر اس فریضے کی ادائیگی کے لیے اپنی آواز بلند کریں اور تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھیں۔

Facebook Comments HS