کرد عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے اور بلوچ لبریشن آرمی؟


کرد جنگجوؤں نے کئی دہائیوں سے جاری مسلح جدوجہد کا خاتمہ کیا۔ کردستان ورکرز پارٹی نے پیر کو اپنی مسلح جدوجہد کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا۔ انھوں نے نے ریاست کے خلاف چار دہائیوں سے جاری بغاوت کے خاتمے کا اعلان کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔

کردستان ورکرز پارٹی نامی عسکریت پسند گروپ کی بنیاد عبداللہ اوکلان نے 1970 کی دہائی کے آخر میں رکھی تھی۔ پارٹی نے 1984 میں ہتھیار اٹھائے، ترک سرزمین پر خونریز حملوں کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا جس میں چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ترکی کی 86 ملین آبادی مین 20 فیصد کرد آبادی ہے۔

کردستان ورکرز پارٹی کی قیادت نے نامعلوم مقام پر ہونے والی تاریخی کانگریس کے بعد ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنی مسلح جدوجہد کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ”کردوں کا مسئلہ اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں اسے جمہوری سیاست کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردگان نے فوری طور پر عسکریت پسند کردوں کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ملک میں ”امن اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے کا ایک اہم فیصلہ“ قرار دیا۔

عبداللہ اوکلان، جو 1999 سے جزیرے امرالی میں قید ہیں، نے اکتوبر 2024 میں اپنے جنگجوؤں سے ایک خط میں زور دیا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور جہاں بھی ہوں لڑائی بند کر دیں۔ یہ اعلان اکتوبر میں شروع ہونے والے طویل تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کرنے کے لیے سات ماہ کی محنت کا نتیجہ تھا جب انقرہ نے غیر متوقع طور پر اوکلان کو زیتون کی شاخ کا تحفہ پیش کیا تھا۔

جنوب مشرقی ترکی کے اہم کرد شہر دیار باقر کی سڑکوں پر اس خبر کا استقبال احتیاط کے ساتھ کیا گیا، جہاں مقامی لوگوں نے تشدد کو ختم کرنے کی بارہا کوششوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہے اور ادھورا نہ چھوڑا جائے۔ انہیں ”ہم کردوں“ کے ساتھ غداری نہیں کرنی چاہیے جیسا کہ وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں۔ ”ہم واقعی امن چاہتے ہیں،“ 60 سالہ کارکن فہری ساواس نے دنیا کی معروف خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹ فرانس پریس (اے ایف پی) کے ایک رپورٹر کو بتایا۔

عراقی کردستان کے علاقے اربیل میں بھی یہی جذبات دیکھنے میں آئے۔ جہاں 55 سالہ خالد محمد نے متنبہ کیا: ”ہم صرف امن کے عمل کی حمایت کرتے ہیں اگر یہ سنجیدہ ہو اور اس کے ساتھ بین الاقوامی ضمانتیں بھی ہوں۔

عبداللہ اوکلان کی قیادت میں 1984 میں شروع ہونے والی بغاوت میں، جو بنیادی طور پر ایک آزاد کرد ریاست کے لیے تھی۔ جس میں آج تک چالیس سالوں میں چالیس ہزار سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں،

کرد عسکریت پسند گروپ کے بانی رہنما عبداللہ اوکلان کی طرف سے لڑائی کے خاتمے کا مطالبہ اور ان کے گروپ کے ہتھیار ڈالنے کے اعلان سے خطے کے لیے دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ اوکلان کے پیغام کے اثرات آنے والے مستقبل میں مختلف کرد مسلح گروہوں، خاص طور پر شمال مشرقی شام اور شمالی عراق میں مقیم افراد میں دیکھے جائیں گے۔

اوکلان کا بیان ممکنہ طور پر خطے میں سیاسی اور فوجی کارروائیوں کو نئی شکل دے سکتا ہے۔ تمام نظریاتی اور سیاسی جماعتوں میں ”نان سٹیٹ ایکٹرز“ کے لیے رواداری، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں، اب تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران خطے میں غیر ریاستی مزاحمت کی حمایت کرنے والوں میں تنہا ہے۔

پاکستان میں بلوچ لبریشن آرمی ایک دلچسپ معاملہ ہے، یہ تنظیم کرد عسکریت پسند تحریک سے متاثر ہے۔ بی ایل اے ابتدا میں ایک مکمل طور پر سیکولر تنظیم تھی اور اس یہ کچھ حد تک اپنے ’بائیں بازو‘ کے ورثے کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ حالانکہ اس کا زیادہ تر ادب مارکسسٹ یا ماؤسٹ نہیں ہے۔ اب صرف ایک بائیں بازو کی بلوچ قوم پرست اور عسکریت پسند تنظیم ہے۔

یہ دنیا کے بائیں بازو کی 10 بڑی علیحدگی پسند تحریکوں میں سب سے زیادہ سرگرم باغی گروپوں میں سے ایک ہے۔ بائیں طرف جھکاؤ رکھنے والی سیکولر علیحدگی پسند تحریکیں اپنے نظریاتی اور سیاسی فیصلوں اور حکمت عملیوں کو ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔

اس طرح، بائیں بازو کی شورشوں میں، بی ایل اے بنیادی طور پر ترکی، شام، عراق اور ایران میں کرد عسکریت پسند تحریکوں سے متاثر ہے اور انہیں تاریخی اور متوازی کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ اثر یقینی طور پر اس وقت زیادہ واضح ہوا جب بی ایل اے نے اپنی ایک خاتون خودکش بمبار کا نام (زالان کرد) ایک کرد خاتون کے نام پر رکھا جس نے 30 جون 1996 کو درسیم میں ترک فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے خودکش حملہ کیا۔

خاتون کا اصل نام محال بلوچ تھا جو بلوچستان کی تربت یونیورسٹی میں قانون کے ساتویں سمیسٹر کی طالبہ تھی اور اصل میں گوادر کی رہائشی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی ایل اے نے اسے یہ نام فروری 2023 میں دیا، اگست 2024 میں بلوچستان لبریشن آرمی کے پاکستانی فوج پر خودکش حملے کے بعد ۔ یہ حملہ پاکستانی فوجی اڈے پر کار بم دھماکے سے کیا گیا۔ اس حملے کے بعد بی ایل اے نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جو محال بلوچ نے حملے سے پہلے ریکارڈ کرایا تھا۔

خود کش بمبار، جو شمالی اور مشرقی شام میں کردوں کے لیے لڑ رہے ہیں، جنہیں ”روجاوا“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے انہوں نے (بی ایل اے ) اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے روجاوا، بلوچ اور کرد جدوجہد کے درمیان مماثلت کو اجاگر کیا۔ بی ایل اے کی جانب سے خواتین کی اپنی صفوں میں بھرتی سے اور خود کش حملوں مین شمولیت خواتین جنگجوؤں کے نام سرخیوں میں رہے ہیں۔

بی ایل اے پر اکثر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس کے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلقات ہیں۔ یہ تعلق اس کے بائیں بازو کے نظریے کے خلاف ہے۔ جبکہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان مبینہ تعلق بھی واضح نہیں ہے۔

ایسی تحریکیں مذہبی گروہوں سے بھی متاثر نظر آتی ہیں۔ خاص طور پر آپریشنل حکمت عملی کے شعبے میں۔ مثال کے طور پر، بائیں بازو کی دیگر عسکری تحریکوں سے متاثر ہو کر بی ایل اے نے القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے ہتھکنڈے بھی اپنائے ہیں، جن میں اپنی کارروائیوں میں خودکش بم دھماکوں کا استعمال بھی شامل ہے۔

اب شاید وہ وقت نہیں جب مزاحمتی تحریکیں آسانی سے کامیاب ہو جائیں۔ کولمبیا سے لے کر فلپائن تک سبق سیکھا جا سکتا ہے، جہاں بائیں بازو کی نسلی قوم پرست تحریکیں جدوجہد کر رہی ہیں۔

کرد عسکریت پسند جماعت ”کردستان ورکرز پارٹی“ جسے PKK کہا جاتا ہے۔ ان چالیس سالوں میں بغیر کسی خاص فائدے کے، انہوں نے دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی، معاشی، سماجی اور علاقائی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اپنے ہتھیار خود سپرد کر دیے۔ بی ایل اے، جو اس کلب میں سب سے زیادہ سرگرم گروپ ہے، ریاست کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے لیے پالیسی میں کیا تبدیلی لا سکتا ہے؟ یہ آنے والے مستقبل کا کلیدی سوال ہو گا۔

Facebook Comments HS