سفر حج


یہ بات بالکل اسی طرح ہے جیسے میں یہاں لکھ رہا ہوں کہ مجھے یاد ہے جب میں آئی سی ایم اے میں تھا تو میرا ایک دوست بنا عامر (آج بھی ہے ) جب پہلی ملاقات ہوئی علیک سلیک کے ساتھ گھر والوں کا پوچھا تو پتہ لگا ابو عمرے پہ گئے ہوئے ہیں میں روایتی ماشا اللہ اور سبحان اللہ کہہ کے آگے گفتگو میں لگ گیا اس کے پھر کچھ دنوں بعد ایسے ہی گفتگو کے دوران پتہ چلا کہ وہ بھائی کو عمرے سے واپسی پہ لینے جا رہا ہے ائر پورٹ، پھر کچھ مہینوں بعد امی، ابو بہنوں کا پتہ لگا کہ وہ سب عمرے پہ جا رہے ہیں۔ میں تو فرط حیرت میں ویسے ہی تھا اور مزید ہو گیا کہ یار یہ کس قدر نیکو کار گھرانا ہے خدا انہیں بار بار بلا رہا ہے، اور میرے منہ سے انتہائی عقیدت سے سبحان اللہ ماشا اللہ کی صدائیں بلند ہونے لگیں پھر عامر نے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے کہا، کیا ہوا، ایمی یار وہ ابو پی آئی اے میں ہیں۔

یہ وہ دن تھا جس دن سے وہ جو بلاوے کی عمارت کھڑی تھی وہ کھڑاک سے گر گئی اور مضمون لکھنے سے کچھ مہینے پہلے تک ذہن میں یہی بات بیٹھی ہوئی تھی کہ جانی یہ بلاوے شلاوے کچھ نہیں ہوتے جس کے پاس سہولت میسر ہو بس وہ چلا جاتا ہے۔

اچھا ہم کیونکہ عام آدمی ہیں اس لیے ہمیشہ عام خیال ہی ذہن پہ فائز رہے اور جو دائرہ کار میسر رہا اس کے ارد گرد ہی خیال کی چاشنی پرورش پاتی رہی۔ یا دفتری زبان میں یوں سمجھیئے کہ چیزیں یا کام ہمیشہ وہی اکاؤنٹ فار کیے جس کے بارے میں تعین یہی ہو کہ یہ میں کر سکوں گا۔ اور جو نہیں کر پاؤں انہیں کبھی اکاؤنٹ فار بھی نہیں کیا یا پروجیکشن میں ہی نہیں ڈالا کہ یہ کبھی کرنے بھی ہیں جیسے میں نے کبھی اس بارے میں نہیں سوچا کہ مجھے تعلیمی سالوں میں اول آنا چاہیے، اور نہ ہی کبھی خود پہ اتنا زعم رہا، نہ ہی میں نے یہ سوچا کہ مجھے اسکول کالج یا یونیورسٹی کی چھٹی بالکل نہیں کرنی چاہیے بلکہ جس زمانے میں ہم اسکول و کالج میں تھے یہ ذمہ داری یا تو سرکار کے علاوہ کسی کے پاس تھی تو وہ الطاف حسین بھائی تھے۔ اسی طرح اک عمومی زندگی گزارنے کے ساتھ یہ بات بھی طے تھی کہ کبھی یہ اکاؤنٹ فار کیا ہی نہیں تھا کہ حج پر بھی جا سکتا ہوں۔

ہوا یوں کہ دفتر میں سیٹھ کو جانے کس وقت خدا یاد آیا کہ اس نے یہ سوچا کے ایمپلائیز کو حج پہ بھیجوں گا اور وہ بھی ایک سال میں پانچ۔ یعنی پورا پنج تن کا پنجہ گو کہ وہ انتہائی سنّی ہیں لیکن بہرحال اعلان مِن و عن ایسا ہی تھا تو جناب ہم بھی چوڑے ہوئے کہ یار سترہ لوگ ہیں پانچ میں اپنا نام کون سا بڑا کام ہے آ جائے گا۔ قرعہ اندازی ہوئی اور نام نہیں آیا اک آن کو لگا یار میں کتنا منحوس ہوں۔ (اک دوست تھا وہ منحوس کے نون پہ تشدید لگا کر اسے اور زور سے ادا کرتا تھا) سو میں نے بھی خود کے بارے میں وہی ادا کیا۔ گھر آیا شریک مشکلات کو بتایا اور زندگی وہی نارمل۔ پھر کوئی دو ہفتے بعد نصف بہتر کا فون آیا اور آواز کافی زور دار تھی جسے سن کر اول اول تو میں سہما پھر موبائل کو کان سے ذرا دور کر کے سنا تو وہ کہہ رہی تھی کہ اس کی یونیورسٹی کی حج کی قرعہ اندازی میں اس کا نام آ گیا ہے اور ازروئے اصول میرا بھی نام آ گیا ہے۔ یہ سن کر میں قریبی سیٹ پر بیٹھ گیا اور کچھ دیر تک مکمل سُن رہا دوسری جانب سے آواز آئی کہ سن رہے ہیں؟

مگر میں واقعی سن ہو گیا تھا اور سننے کے باوجود بھی جواب نہیں دے پا رہا تھا۔ دراصل اس وقت میں اپنی اکاؤنٹ فار نہ کی ہوئی فہرست اور عامر کی بات کے گرد مسلسل گھوم رہا تھا۔ میرے جیسے شخص کے لئے انتہائی مشکل بات تھی کہ میں یہ سمجھوں کہ بُلاوا کیا ہوتا ہے۔ اک لمحے کو میں نے سوچا کہ یار خدا کا میرے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے خدائے ایزدی اس بار مجھے کسی طرح بھی نکلنے نہیں دے رہے ہیں قرعہ اندازی سے بچا تو وہاں نام نکلوا دیا جہاں قرعہ ڈلا ہی نہیں تھا۔ جب میں نے خود کو یہ بات سمجھا دی تو دل چاہا کہ سب سے پہلے یہ خبر فیصی کو سناؤں کیونکہ جو آپ کے ہر کمینے پن سے نیکی کا پہلو نکال سکتا ہے تو بلا مبالغہ وہی سمجھ سکتا ہے کہ کرم کا معاملہ کس درجہ پر ہے۔ اور اسے بتاؤں کہ یار گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ فیصی کو بتایا مَن ہلکا کیا اس نے بہترین الفاظ کا انتخاب کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ کرم کی انتہا ہے دوست، لیکن جہاں جہاں وہ بات کرتے وقفہ لیتا میں سمجھ لیتا وہ یہ کہنا چاہ رہا ہے یار! سدھرنا ہو گا۔ میں ہمیشہ یہی کہتا کہ ہم غلط کب ہیں جانو۔

حکومتی تربیتی حج کے تمام تر بتائے ہوئے طریقوں پہ عمل کرتے ہوئے رجسٹریشن، اور دیگر معاملات نبٹاتے ہوئے بہر حال حج ٹریننگ کا دن بھی آیا اور ہم بتلائے ہوئے مقام پہ پہنچے۔ ایک بڑا سا ہال تھا جہاں مرد و زن اپنے اپنے حلقوں میں براجمان تھے اور اک بڑی سی اسکرین پہ بریفنگ چل رہی تھی، پنکھے ہال میں تھے لوگوں کو گرمی بھی لگ رہی تھی مگر جونہی مفتی صاحب مکمل گلے تک کے بٹن لگا کر اور جبہ و دستار کے ساتھ مسکراتے ہوئے آئے تو میں نے پھر پسینے صاف کرنا بھی گناہ سمجھا۔ انہوں نے پورا موضوع مکمل کیا اور پھر تھوڑی ہی دیر میں منتظمین نے ہمارے ہاتھوں میں سوال کی پرچی تھما دی کہ اگر کوئی سوال ہے تو لکھ کر دے دیجیے۔ بہت سے لوگوں نے سوال لکھے اور جب پرچی مجھ تک آئی تو میں نے لکھا کہ؛

مفتی صاحب آداب! ہم نے پڑھا بھی ہے اور سنا بھی ہے منبروں سے کہ مسلمان امام مہدی کو حج کے موقع پہ پہچانیں گے تو کیا میں یہ کوشش کروں؟

پھر پوری توجہ مفتی صاحب پہ مذکور کردی کہ کیا جواب آتا ہے۔ بہر حال وہ سب کے جوابات دیتے ہوئے شاید ایک پرچی دھیمی پڑھ کر جیب میں رکھ لی میرا غالب گمان گیا کہ یہ میری ہی پرچی ہوگی۔ بعد از ٹریننگ میں نے استفسار کیا کہ قبلہ وہ ایک سوال لکھ کر بھیجا تھا اس کا نہ جواب آیا نہ سوال پڑھا گیا۔ تو اس پہ انہوں نے مجھے اوپر سے نیچے تک مکمل دیکھا اور فرمایا کچھ اور پوچھیں یہ سوال ٹریننگ سے متعلق نہیں تھا۔ ٹریننگ مکمل ہوئی اور پھر جو دوسری ٹریننگ تھی اس میں کالج کی کلاس کی طرح بس حاضری لگائی اور ٹریننگ سے خلاصی لی۔

جانے کا سمے جوں جوں قریب ہوتا رہا ہم تیاریوں میں اور پڑھائیوں میں مصروف رہے پھر اچانک جنگ کا سماں بندھ گیا اور ہر طرف فلائٹس ڈیلے یا کینسل ہونے لگیں مجھے اک آن کو خیال آیا کہ یار ہو سکتا ہے اب نہ جا سکیں کیونکہ اب تو جنگی صورتحال ہے، لیکن یہ کیا۔ ایک ہی دن میں یہ معاملہ بھی حل ہوا اور جنگ کے بادل مکمل غائب ہو گئے۔ اور فلائٹس نارمل ہو گئیں یعنی گھیرا واقعی تنگ ہے اس بار۔

اب انشا اللہ بائیس مئی کو روانگی ہے مدینہ کے لئے خدا نے بالخصوص دن بھی جمعرات کا دیا ہے فقیر کو اور دَر دِیا ہے بے پناہ سخی کا۔ امید ہے سرکار میری لغزشوں کو معاف فرماتے ہوئے اپنا کرم کریں گے اور حج کا اذن عطا فرمائیں گے۔

Facebook Comments HS