لاطینی امریکہ مختصر تاریخ
لاطینی امریکہ سے مراد ریاست متحدہ امریکہ کے جنوب کا خطہ ہے جہاں لاطینی زبانیں ( اسپینی، پرتگالی اور فرانسیسی ) بولی جاتی ہیں۔ یہ خطہ میکسیکو، وسطی امریکہ، جنوبی امریکہ کے علاوہ بحیرہ کربئین کے بیشتر جزائر پر مشتمل ہے جبکہ خطے کے انگریزی اور ڈچ بولنے والے چند ممالک (سورینام، گیانا، فاک لینڈ کا جزیرہ، جمیکا، ٹوباگو اور بیلیز وغیرہ) عموماً لاطینی امریکہ میں شمار نہیں کیے جاتے ہیں اس خطے میں انسانی آبادی اور تہذیب و تمدن تو بہت زمانوں سے موجود چلی آ رہی تھی تاہم ان کے بارے میں بقیہ دنیا کو علم اس وقت ہوا، جب 15 ویں صدی کے آخری عشرے میں اسپینی مہم جو ”کرسٹوفر کولمبس“ اور دوسرے اسپینی اور پرتگالی ملاحوں نے اس کو دریافت کیا۔ یورپیوں کی آمد کے وقت یہاں تمدن کے اہم مراکز میں ایک ”پیرو“ تھا جہاں موچے اور ”انکا“ تمدن نشوونما پذیر تھے۔ وسطی امریکہ میں ”اولمیک“ اور ”مایا“ تمدن جبکہ میکسیکو ”ازتیک“ تمدن کے مرکز تھے۔ 16 ویں صدی کے پہلے عشروں میں اس خطے کے زیادہ تر علاقے پر اسپین جبکہ برازیل پر پرتگال نے قبضہ جما کر اپنی سلطنتوں کا حصہ بنایا۔ کچھ علاقہ فرانس کی نو آبادی بنا۔
19 ویں صدی کے اوائل میں یورپ میں قوم پرستی کا غلبہ تھا جس کا اثر امریکہ پر بھی پڑا شمالی امریکہ میں 13 برطانوی کالونیوں نے 1776 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کر کے متحدہ ریاست امریکہ کے نام سے خودمختار ملک تشکیل دیا۔ یورپ کے روشن خیال تصورات کا لاطینی امریکہ کے تعلیم یافتہ طبقے میں مقبولیت، امریکہ کی کامیاب جنگ آزادی، 1789 کا انقلاب فرانس اور یورپ میں نیپولین کی فتوحات ایسے عوامل تھے جو لاطینی امریکہ کی اقوام میں قومی پرستی اور آزادی کے حصول کے لیے محرک رہے۔ 1800 سے 1825 تک کے عرصے میں لاطینی امریکہ میں آزادی کی جنگیں لڑی گئیں۔ بحیرہ کربئین کا جزیرہ ”سپینولا“ (موجودہ ہیٹی) کی فرانسیسی کالونی پہلا لاطینی علاقہ تھا جس نے ایک سابقہ غلام رہنما کی قیادت میں آزادی حاصل کر لی۔ 1804 میں افریقہ النسل انقلابی رہنماؤں نے یہاں ”ہیٹی“ کے نام سے آزاد ملک قائم کیا۔ 1810 میں لاطینی امریکہ کے دوسرے کئی حصوں میں اسپین کے تسلط کے خلاف بغاوتیں پھوٹ پڑیں۔ یہاں کے جنوبی امریکہ کے حصے میں آزادی کی کامیاب جنگوں میں ان کے دو نامور جرنیلوں، وینزویلا کے سی مون بولیوکک ( Simon Bolive) اور ارجنٹائن کے سان مارٹن (San Martan) کی قیادت اہم رہی۔ سی مون بولیور ( 1783 تا 1830 ) یورپ کے سیاسی مفکر (والٹئیر، روسو اور مانٹیسکو) سے متاثر تھا۔ اگرچہ بولیور کے آبائی ملک وینزویلا نے 1811 میں اسپین سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ مگر اس کے ساتھ یہاں کے انقلابیوں کا تصادم کئی سال جاری رہا۔ 1819 میں بولیور ڈھائی ہزار لشکر لے کر کوہستان انڈیز پر سے ہو کر موجودہ کولمبیا پہنچ گیا اور بوگوٹا کے مقام پر اسپینی فوج کو شکست فاش دی۔ اور 1821 تک وینزویلا کو مکمل طور پر آزاد کرایا۔ اس کے بعد بولیورجنوبی جانب اکیوڈور کی طرف بڑھا۔ وہاں کے ساحلی شہر گویاکیول میں اس کی ملاقات تحریک آزادی کے دوسرے نامور جنگجو ”سان مارٹن“ سے ہوئی۔ سان مارٹن کے ملک ارجنٹائن نے اگرچہ 1816 میں اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا مگر ”چلی“ اور ”پیرو“ میں اسپینی فوج کی بھاری بھر کم موجودگی خطرے کا باعث تھی سان مارٹن نے کئی لڑائیوں کے بعد 1817 کو چلی آزاد کرایا۔ 1821، میں شمالی جانب بذریعہ سمندر پیرو پہنچ گیا مگر یہاں اسپینی فوج کے مقابلے کے لیے اس کو بڑے لشکر کی ضرورت تھی۔ ”ایکواڈور“ میں بولیور کے ساتھ ملاقات ہوئی جس میں مارٹن اپنے لشکر بولیور کی کمان میں دے کر ارجنٹائن چلا گیا وہاں سے بعد میں یورپ جا کر رہائش پذیر ہوا۔ جبکہ جنوبی امریکہ کے بقیہ حصوں کی جنگ آزادی بولیور کی قیادت میں جاری رہی۔ جس نے اسپینی افواج کا کوہستان انڈیز تک پیچھا کیا۔ دسمبر 1824 میں ”بولیور“ کے لشکر نے اس کو آخری شکست دے کر جنوبی امریکہ میں اسپینی تسلط کا خاتمہ کر دیا۔ جبکہ دو سال پہلے 1822 میں جنوبی امریکہ کے سب سے بڑے ملک برازیل نے پرامن طریقے سے پرتگال کے تسلط سے آزادی حاصل کر لی تھی۔ لاطینی امریکہ کے میکسیکو خطے میں آزادی کی جدوجہد میں صف اول کا کردار عام مقامی امریکیوں نے ادا کیا۔ یہاں اوائل بغاوت 1810 میں شروع ہوئی تھی۔ کئی سال تک یہاں کے عوام اسپینی فوج کے خلاف لڑتے رہے۔ اپنے ایک لیڈر Jose Morlgy کی زیر قیادت کافی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر کے 1813 میں آزاد ریپبلک کا اعلان کر دیا۔ 1815 میں اس کے قتل کے بعد مختلف گروہوں نے گوریلا جنگ جاری رکھی۔ 1820 میں حالات نے نیا موڑ لیا یوں اگلے سال 1821 میں باہمی تصفیہ ہو کر میکسیکو کو مکمل طور پر آزاد قرار دیا گیا۔ میکسیکو کی آزادی کے بعد جلد وسطی امریکہ کی ریاستیں (کوسٹاریکا نکاراگوا، گوئٹے مالا، ہنڈراس، السیلواڈور، پانامہ اور بیلیز) بھی اسپین کے تسلط سے نکل گئے اور ”وفاقی جمہوریہ وسطی امریکہ“ کے نام سے ریاست تشکیل دی۔ ( 1838 میں کوسٹاریکا، گوئٹے مالا، ہندڈراس اور نکاراگوا اس سے نکل کر آزاد ممالک بن گئے۔ اسی طرح 1841 میں السیلواڈور 1903 میں پانامہ اور 1981 میں بیلیز کے نکل جانے سے یہ وفاق تحلیل ہو گیا) 1830 تک لاطینی امریکہ کے خطے کے چند جزائر ( کیوبا وغیرہ) کے علاوہ بقیہ ممالک اسپینی تسلط سے آزاد ہو گئے تھے۔ ان کی تعداد 16 تھی۔
تاہم حصول آزادی کے باوجود یہ ممالک فوجی آمروں کے تحت رہے جن کے مد نظر عوامی مفاد کے بجائے اپنا اقتدار اور دولت رہی۔ اسپین اور فرانس لاطینی امریکہ میں اپنی سابقہ کالونیوں پر پھر سے تسلط جمانے کی کاوشوں میں تھے مگر برطانیہ اور امریکہ نے ان کو ایسا نہیں کرنے دیا۔ 1823 میں امریکی صدر ”منرو“ نے ایک اعلامیہ میں یورپی طاقتوں کو متنبہ کیا کہ اب کے بعد وہ امریکی براعظموں میں نو آبادیات قائم کرنے کا خیال ترک کر دیں۔ یہ اعلامیہ ”منرو ڈاکٹرائن (Monroe Doctrine ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1830 تک لاطینی امریکہ کے زیادہ تر ممالک آزاد ہو گئے تھے۔ بحیرہ کر بئین میں واقع کیوبا کا جزیرہ لاطینی امریکہ کی آخری اسپینی کالونی رہ گیا تھا 1868 میں یہاں کے باشندوں نے اسپین سے آزادی کا اعلان کر کے جنگ شروع کر دی مگر 10 سال طویل لڑائی نتیجہ خیز ثابت نہ ہونے پر 1878 میں کیوبا نے جنگ ترک کر دی صرف چند گروہوں نے اسپین سے آزادی کی جد و جہد جاری رکھی۔ 1895 میں Jose Maria Marti نامی جلاوطن کیوبن لیڈر نے واپس آ کر کیوبا کی آزادی کے لیے پھر سے بھر پور جنگ کا آغاز کیا۔ مارٹی اگرچہ مارا گیا تاہم اسپین کے خلاف جنگ جاری رہی۔ 1898 میں امریکہ کیوبا کی حمایت میں اس جنگ میں کود پڑا۔ امریکہ اور اسپین جنگ کے نام سے یاد کی جانی والی چار ماہ کی اس جنگ میں اسپین کو شکست ہو گئی۔ جس کے بعد 1901 میں کیوبا کو آزاد ملک قرار دیا گیا۔ لیکن وہاں امریکہ نے اپنی مرضی کی فوجی حکومت قائم کر دی۔ امریکہ سے شکست کے بعد“ پورٹوریکو ”اور“ گوام ”وغیرہ کی کالونیاں بھی اسپین کے تسلط سے نکل گئیں۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے منرو ڈاکٹرائن کے ذریعے لاطینی امریکہ کو یورپی مداخلت سے بچا لیا مگر خود اس پر بالواسطہ تسلط یوں جمایا کہ وہاں اپنی مصنوعات بھیجیں اور منڈیوں پر قبضہ کر لیا، ان کے ریلوے، معدنی کانوں اور دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری کی۔ وہاں کی حکومتوں کو قرضے دیے اور بعض اوقات انقلاب برپا کرنے والے گروہوں کو سرمایہ فراہم کیا۔ امریکی بینک کاروں نے لاطینی امریکہ کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر سرمائے کے ذریعے کنٹرول حاصل کیا ان سرمایہ کاروں اور بینک کاروں کے پیچھے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حکومت ہوتی تھی بعض اوقات امریکہ مختلف بہانوں سے وہاں کی کسی ریاست میں عملاً اپنی فوجی بھیج کر کسی ایک گروہ کی مدد کرتا۔ امریکہ نے چھوٹے ملکوں کے علاوہ اپنی سرمایہ کاری اور دولت کے بل بوتے پر خطے کے بڑے ملکوں پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا اور ان ملکوں کی دولت کا بڑا حصہ ہڑپ کرنے لگا۔ مختصر یہ کہ لاطینی امریکہ کی ریاستیں اگرچہ اسپین کے براہ راست قبضے سے تو آزاد ہو گئیں تھیں مگر اس پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے بالواسطہ تسلط جمایا۔ 1903 میں پانامہ کا صوبہ امریکی مدد سے کولمبیا سے علیحدہ ہوا تو امریکہ سے پانامہ نہر کی تعمیر کا سمجھوتہ کیا۔ 1914 میں نہر کی تکمیل سے بحرہ اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان جہاز رانی شروع ہوئی اور یوں لاطینی امریکہ دنیا کی بحری تجارت کی ایک اہم شاہراہ بنا۔ 20 ویں صدی کے آخری نصف میں براعظم جنوبی امریکہ سرد جنگ کی رزم گاہ بن گیا۔ امریکی مداخلت اور سرد جنگ کے مضمرات کے علاوہ کیوبا جیسے ممالک میں انقلابات کے باعث لاطینی امریکہ کی سیاست متاثر رہی 1959 میں کیوبا میں فیڈرل کاسترو کے تحت اہم سوشلسٹ انقلاب برپا ہوا۔ 1960 اور 1970 کے عشروں میں ارجنٹائن، برازیل، چلی، یوروگائے اور ”پروگائے“ میں جمہوری حکومتوں کی جگہ فوجی آمریتیں قائم ہوئیں۔ 20 ویں صدی کے آخر اور 21 ویں صدی کی ابتدا میں بائیں بازو کی حکومتوں کی طرف رجحان رہا جن کے خلاف قدامت پسند حلقوں کی طرف سے بغاوتیں بھی ہوتی رہیں تاہم خطے کے کئی ممالک میں بائیں بازو کی سیاست کے پھر سے ابھرنے کا عمل بھی موجود ہے۔


