تین عظیم فلسفی خواتین
فلسفے کے نام سے کون روشناس نہیں یہ ایسا علم ہے جو اشیا کو منطقی طور پر سوچنا سیکھنا اور نئے زاویوں سے دنیا کی پہچان کا درس دیتا ہے کوئی بھی علم فلسفے کی دسترس سے باہر نہیں تمام علوم کی شاخیں اسی سے پھوٹتی ہیں۔ یونان نے عظیم فلسفیوں کو جنم دیا ہے ارسطو سقراط، افلاطون وغیرہ جن کا ذکر آج بھی فلسفے جیسے علوم کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے فلسفے جیسے علوم کو سمجھنے کے لیے ان بڑی شخصیات کی طرف رجوع کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں خواتین فلسفیوں کو کم جگہ دی گئی چند کتابوں کے علاوہ ان کا تذکرہ کہیں زیادہ نہیں ملتا دلچسپی کی بات یہ ہے کہ جن خواتین فلسفیوں کی ہم بات کرنے جا رہے ہیں وہ ارسطو جیسے عظیم فلسفی کی اساتذہ ہیں افلاطون نے سقراط کی ان اساتذہ کا ذکر (Dialogues) میں کیا ہے ان میں اوّل فیتھیا آف ڈیلفی ہیں یونان کے رسم و رواج اور ان کی رسومات کے حوالے سے ان کا کردار بہت اہم ہے سقراط ان کی گفتگو سننے جاتے تھے اور اس گفتگو کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ آوازیں انھیں غیب سے آتی تھیں ان غیبی آوازوں کے بارے میں سقراط سوچتا اور یہی سوچنا اسے فلسفی بننے کی منزلوں تک لے گیا ڈیلفی کے مندر پر یہ لکھے ہوئے الفاظ جس نے سقراط کو متاثر کیا (Know Yourself ) اور (Knowledge is virtue ) ہیں سقراط نے خود بتایا کہ اس کے بعد وہ سچائی کی تلاش میں لگ گئے۔
دوسری خاتون ایسارا آف لوکینیا ہیں جو کہ ایک فیثائی خاتون تھیں۔ کروٹانا کے حکمرانوں نے سائمئی سرکل سوسائٹی کو ختم کیا جسے بعد از یونان اور اٹلی میں دوبارہ منظم کیا گیا۔ ساری عمر ایسارا نے فیثا غورثی فلسفے کی ترویج و اشاعت کے لیے کام کیا اور شادی تک نہیں کی۔ (Human Nature ) ان کی مشہور کتاب ہے جس میں انھوں نے انسانی فطرت کے حوالے سے یہ فلسفہ پیش کیا کہ انسان کی فطرت پر بھی وہ تمام قانون لاگو ہوتے ہیں جو اس کائنات پر ہوتے ہیں ایسارا نے فیثا غورثیوں کے لیے کتاب بھی لکھی۔ ایسارا کے فلسفے نے ہی (Comos Relativity ) کو متعارف کرایا۔
اس دور کی تیسری اہم فلسفی لیونشن ہیں یہ وہ دور ہے جب یونان میں عورتوں اور غلاموں کے لیے سخت قوانین نافذ تھے انھیں معاشرتی حقوق حاصل نہیں تھے اس زمانے میں خواتین کے لیے تعلیم حاصل کرنا بہت کٹھن تھا۔ لیونشن نے اپنی ساری عمر ایتھنز میں گزاری اور یہاں ایپی کیورس کی قائم کردہ فلسفے کی اکیڈمی میں تعلیم حاصل کرتی رہیں اس اکیڈمی کو (Garden ) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے لیونشن وہ فلسفی تھیں جنھوں نے Theophrastus کے لکھے گئے مقالے پر تنقید کی جس کا موضوع حقیقی فلسفہ نشاط تھا ایپی کیورس کے بقول لیونشن کی یہ تنقید Treaties Against Theophrastus ہے اور یہ تنقید آج بھی فلسفے کی دنیا میں ایک اہم مقام رکھتی ہے جدید فلسفی آج لیونشن کو کھوئی ہوئی فلسفی خاتون کہتے ہیں۔


