17 مئی بلند فشار خون سے آگہی کا عالمی دن


muhammad salim gujranwala

بلند فشار خون کو خاموش انسانی قاتل کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ انسانی جسم کے خون کے دباؤ کا مختلف وجوہات کے باعث بڑھ جانا۔ اس زیادہ یا بلند فشار خون کے انسانی جسم پر بہت مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

2005 سے ہر سال 17 مئی کو عالمی ادارہ صحت کے زیر اہتمام بلند فشار خون یا ہائپر ٹینشن کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں بلند فشار خون کے انسانی صحت پر مضر اثرات کو واضح کرنا اور ان سے بچاؤ کے طریقے اپنانا ہے۔

ان مضر اثرات میں آنکھوں کی بینائی کم ہونا یا ختم ہو جانا، دل کے پٹھوں کا کمزور ہو کر پھیل جانا یا بڑھ جانا، حملہ قلب یا بندش قلب، حملہ فالج ہونا، دماغی شریان پھٹ کر خون دماغ میں بہہ جانا اور گردوں کی کارکردگی آہستہ آہستہ کم ہو کر بالکل ختم ہو جانا شامل ہیں۔

انسانی دل جسم کی شریانوں میں خون کو ایک خاص دباؤ سے بھیجتا ہے، جس سے خون سر سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک پہنچتا ہے۔ عمر بڑھنے یا زیادہ مرغن غذاؤں کے استعمال سے خون کی شریانوں میں چربی کا جماؤ ہو جاتا ہے اور ان کی قوت لچک کم ہوتی جاتی ہے اور ساتھ ہی شریانوں کا اندرونی قطر بھی کم ہو جاتا ہے جس سے شریانوں میں خون کی روانی کا عمل سست ہو جاتا ہے اور دل کو زیادہ قوت اور دباؤ سے خون کو دل سے شریانوں میں بھیجنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے فشار خون بلند ہو جاتا ہے اور دل کے پٹھے زیادہ دباؤ کی وجہ سے پہلے موٹے ہوتے ہیں اور بعد میں کمزور ہو جاتے ہیں اور کارکردگی قلب بہت حد تک سست ہو جاتی ہے۔

بلند فشار خون کو انسانی جسم کا خاموش قاتل کہا گیا ہے کیونکہ زیادہ تر لوگوں کو اس کی کوئی علامت یا تکلیف محسوس نہیں ہوتی ہے۔ کئی لوگوں کو سر میں درد، اختلاج قلب، کم خوابی، ذہنی و جسمانی بے چینی اور بینائی میں کمی کی علامات شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر کسی کو بھی یہ علامات محسوس ہوں تو اسے ڈاکٹر کے پاس جاکر اپنے خون کے دباؤ کی جانچ کروانی چاہیے اور اگر ایک ہفتے کے مختلف دنوں اور اوقات میں خون کا دباؤ زیادہ رہتا ہے تو بلند فشار خون کی تشخیص ہو جاتی ہے۔

خون کے دباؤ کے دو درجے ہوتے ہیں، ایک اوپر والا جس کو سسٹالک کہتے ہیں جو دل کے سکڑنے کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے اور ایک نیچے والا جو دل کے پھیلنے کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے جس کو ڈائیسٹالک کہتے ہیں۔ ایک صحت مند بالغ انسان کا فشار خون 125 / 80۔ 150 ملی میٹر مرکری ہوتا ہے۔ 150 سے اوپر والا بلند فشار خون میں شمار ہوتا ہے۔

پاکستان میں حالیہ برسوں میں بلند فشار خون کے مریضوں کی تعداد میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تقریباً دو کروڑ سے زائد نفوس اس بیماری کا شکار ہیں جن میں اب زیادہ تر نوجوان شامل ہیں۔ طرز حیات میں تبدیلی، جسمانی کسرت کی کمی، نیٹ اور دیگر ٹیلی روابط کے زیادہ استعمال اور مسابقت کی دوڑ اور ذہنی تفکرات کے باعث اس بیماری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

صحت مند طرز زندگی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے بلند فشار خون سے بچا جا سکتا ہے یا اس کو قابو کیا جاسکتا ہے۔ حیوانی چربی والی اور مرغن غذائیں کم سے کم استعمال کریں۔ گھی کی جگہ سرسوں، سورج مکھی یا پام آئل کا استعمال بھی کم سے کم کریں۔ ابلی ہوئی سبزیاں کھانا معمول بنائیں۔ کچی سبزیوں کا لازمی استعمال کریں۔ خوردنی نمک کا کم سے کم استعمال کریں۔ سالن کے سوا نمک کا استعمال بند کر دیں۔ نمک کی روزانہ مقدار پانچ گرام سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ پانچ گرام نمک میں دو گرام سوڈیم پایا جاتا ہے۔ امراض قلب اور بلند فشار خون کے مریضوں کو روزانہ پندرہ سو ملی گرام سوڈیم استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ روزانہ یا ایک دن چھوڑ کر 30 منٹ کی تیز چہل قدمی کریں۔ 8 گھنٹے کی نیند لازمی پوری کریں۔ پریشانی اور تفکرات سے بچیں۔

اگر فشار خون زیادہ ہو جائے تو فوراً اپنے معالج سے رجوع کریں۔ پرہیز کریں اور ادویات اپنے معالج کی ہدایات کے مطابق لیں۔ دیسی اور حکیمی ٹوٹکوں سے پرہیز کریں۔ ہمیشہ اپنی بیماری کے متعلق اپنے مستند معالج سے دریافت کریں، اس کا یقین کریں اور اس پر اعتماد کریں۔

Facebook Comments HS