جنگ کا شوق اور طوفاں سے آشنائی


پاک و ہند کے درمیان حالیہ چار روزہ جنگ 10 مئی کو بند ہو گئی۔ یہ جنگ یک دم کیوں ختم ہو گئی؟ اس بارے میں تجزیہ کار حلقوں میں تین آراء گردش کر رہی ہیں : پہلی رائے یہ ہے کہ امریکہ بہادر اس وقت تک جنگ میں نہیں کُودا تھا جب تک ہندوستان، پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام لگا کر دھمکیاں دے رہا تھا۔ پھر ہندوستان نے پاکستان پر میزائلوں سے حملہ کر دیا۔ مگر جب جنگ کا پانسہ پلٹا اور پاکستان نے زمین سے زمین پر تباہی مچانے والے اسٹیٹ آف دی آرٹ میزائلوں سے ہندوستان کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا، ہندوستان کا ائر ڈیفنس سسٹم مفلوج کر دیا، سائبر حملہ کر کے ہندوستان کی ایک ہزار سے اوپر ویب سائٹس ہیک کر لیں اور پچھتر فی صد ملک کی بجلی کا نظام منجمد کر دیا تو امریکہ کی برصغیر کے لیے محبت یک دم جاگ اٹھی کیونکہ پاکستان کی اس جنگ میں برتری قائم ہونے جا رہی تھی۔ دوسری رائے یہ کہ پاکستان کی طرف سے ناقابلِ یقین رد عمل کے بعد ہندوستان نے امریکہ، سعودی عرب اور ترکی کی منت سماجت کر کے جنگ بند کروائی۔ تیسری رائے یہ ہے کہ ایٹمی ہمسائیوں کے درمیان تناؤ اتنی شدت اختیار کر چکا تھا کہ ذرا سی غلطی برصغیر پاک و ہند کو بالخصوص اور جنوبی ایشیا کو جوہری جنگ میں دھکیل کر ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی تھی۔ ایٹمی ہمسائیوں کو عقل آ گئی اور جنگ بند کر دی۔ پاک و ہند کے مابین چھوٹی بڑی جنگیں ملا کر یہ پانچویں جنگ تھی۔ اس سے قبل کشمیر ( کارگل) ( 1999 ) ، مشرقی پاکستان ( 1971 ) ، کشمیر ( 1965 ) اور کشمیر ( 1948 ) میں دونوں ممالک کی افواج بالمشافہ جنگیں کر چکی ہیں۔ جن کے نتائج اب کوئی تاریخی راز نہیں۔

جنگ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی بنی نوع انسان کی اپنی تاریخ۔ جنگی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر جنگیں جن وجوہات کی وجہ سے برپا ہوئیں ان میں سب سے بڑی وجہ معاشیات تھی۔ حتیٰ کہ مذاہب کی خاطر یا خداؤں کے لیے لڑی جانے والی جنگوں کے پس منظر میں بھی کہیں نہ کہیں معاشی عنصر ہی کارفرما تھا۔ زمانہِ موجود میں بھی کم و بیش ایسا ہی ہے صرف ہتھیار اور طریقہِ کار بدل گئے ہیں۔ زمانہ قبل از تاریخ میں قبائل جب آپس میں لڑتے تو نوکدار پتھروں، لاٹھیوں اور کلہاڑیوں کا استعمال کرتے تھے۔ یہ لڑائیاں عموماً خوراک کے ذخیروں، زرخیز زمینوں پر قبضہ کرنے اور آبی وسائل کی چھینا جھپٹی کے لیے لڑی جاتی تھیں۔ آگے چل کر پانچ سو قبل مسیح تک آتے آتے میدان جنگ میں تیزرفتاری سے حرکت کرنے کے لیے گھوڑے اور دشمن کی سپاہ پر وار کرنے کے لیے تلواریں، نیزے اور تیر کمان استعمال ہونے لگے۔ تاریخ کے درمیانی عرصے ( 1500 سال بعد مسیح) میں وسائلِ حرب و ضرب نے مزید ترقی کی کیونکہ چین میں سن 1000۔ 1200 میں بندوق اور 1500 میں بارود ایجاد کر لیا گیا۔ اب فوجوں کے وسائل میں آتشیں اسلحہ اور توپ خانہ شامل ہو گیا تھا۔ مگر اس سمت میں اہم پیش رفت 1915 میں ٹینک کی ایجاد سے ہوئی۔ جس نے رفتار اور آتشیں اسلحے کے امتزاج سے فنون جنگ میں انقلاب برپا کر دیا۔ لہٰذا پہلی جنگ عظیم ( 1914۔ 1918 ) میں بندوق، توپ خانے، ٹینکوں اور گولہ بارود کا بھرپور استعمال ہوا۔ اس جنگ کے دوران بری افواج مشترکہ حکمتِ عملی سے جنگ لڑنے لگ گئیں تھیں۔ مگر جنگی وسائل میں اہم اضافہ 1915 میں لڑاکا ہوائی جہازوں کی آمد تھی۔ اس کے ساتھ تیز رفتار ٹینک بھی وجود میں آچکے تھے۔ ان ایجادات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جرمنی نے دوسری جنگِ عظیم ( 1939۔ 1944 ) کے دوران فوج میں شامل ٹینک اور ہوائی جہاز کے مشترکہ حملے کا چلن اپنایا۔ اس تدبیر کا نام ”بلٹز کریگ BLITZKRIEG“ یا برق کی طاقت رکھا گیا۔ روس پر جرمن حملوں نے بلٹز کریگ کے بے شمار مظاہر دیکھے۔ مگر مجموعی طور پر ہٹلر کا روس پر حملہ ایک ایسا جذباتی فیصلہ تھا جو فوجی طاقت کے گھمنڈ میں کیا گیا تھا۔ دراصل ایک وسیع ملک میں جنگ کے لیے غیر معمولی ترسیلات کی ایک طویل رسدی لائن کی ضرورت ہوتی ہے جس کو ایک اجنبی ملک کے اندر جنگی حرارت کے دوران محفوظ رکھنا بہت دُشوار ہوتا ہے۔ چنانچہ جرمن فوجی کمانڈروں نے ٹینکوں کو تیل اور فوج کو ایمونیشن اور راشن مہیا کرنے کے لیے اصل ہدف یعنی ماسکو کی طرف پیش قدمی روک کر جنوب میں راشن اور تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا، جو کامیاب رہا مگر اس اثناء میں موسم سرما شروع ہو چکا تھا۔ شدید سردی میں لڑنے کی تربیت اور ساز و سامان جرمن فوج کے پاس نہیں تھا۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی وہ روس کو فتح کر لیں گے۔ اب ان کو اصل ہدف کی طرف واپس آنے کے لیے شدید دشواری کا سامنا تھا۔ ادھر روسی افواج برف میں لڑنے میں ماہر تھیں۔ انھوں نے نے اپنی ساری طاقت اسی وقت کے لیے بچا رکھی تھی۔ پھر کیا ہوا؟ روسی افواج جرمن فوج پر ایک آفت بن کر لپکیں اور اس کو شکست ِفاش دے دی۔ یہاں ایک لمحے کے لیے یہ یاد کرنا ضروری ہے کہ اس جنگ میں دو جنگی اتحاد بن چکے تھے۔ اولین اتحادی یا ALLIES جن میں امریکہ، برطانیہ، یورپ اور روس شامل تھے اور دوسرا محوری قوتیں یا AXIS جس میں صرف تین ممالک : جرمنی، اٹلی اور جاپان تھے۔ دوسری جنگ عظیم کا اختتام نہایت خوفناک تھا۔ 6 اگست 1945 کو جاپان کے شہر ہیروشیما اور 8 اگست 1945 کو ناگاساکی پر، دنیا میں امن کے علم بردار اور یکجہتی کے ٹھیکیدار امریکہ بہادر نے ہوائی جہازوں کے ذریعے ایٹم بم گرا دیے۔ جن سے ڈھائی لاکھ نہتے انسان پل بھر میں لقمہِ اجل بن گئے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد کوئی عالمگیر جنگ نہیں ہوئی۔ مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں ایٹمی ہتھیار بنانے کی دوڑ لگ گئی۔ جس میں ایٹم بم بنانے کے فارمولے چوری ہو کر دنیا کے دیگر ممالک کے پاس جانے لگے۔ آج امریکہ کے علاوہ روس، چین، برطانیہ، فرانس، ہندوستان، پاکستان، اسرائیل، اور شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ ہندوستان 18 مئی 1974 کو راجھستان کے صحرا پوکھراں میں تین ایٹمی دھماکے کر کے ایٹمی کلب میں شامل ہو گیا۔ جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے رہنماؤں نے ضروری سمجھا کہ پاکستان بھی یہ صلاحیت حاصل کر لے۔ پاکستان کی جوہری طاقت بننے کی داستان کافی طویل ہے۔ مختصراً یہ کہ پاکستان 28 مئی 1988 ء کو بلوچستان کے دور دراز پہاڑوں میں ایٹمی دھماکے کر کے ایٹمی طاقت بن گیا۔

پتھر کے ہتھیاروں سے لے کر جوہری ہتھیاروں تک جنگ کی ارتقائی منازل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرتِ انسان کو جنگ کرنے کا شوق زمانہِ قدیم سے چلا آتا ہے۔ جن اقوام نے اس جبلت پر قابو پا لیا وہ دنیا میں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں۔ اس ضمن میں چین، جاپان، نیوزی لینڈ، سوئزرلینڈ، سنگا پور، جرمنی، کینیڈا اور سکینڈے نیویا کے چھ ممالک کی مثال دی جا سکتی ہے۔ مگر شعوری طور پر پس ماندہ اقوام ابھی تک جنگ کے شوق میں مبتلا ہیں اور جنگ کے شوق کی آبیاری کے لیے ان کے اربوں ڈالر کے وسائل عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے جنگی ہتھیاروں کی خرید پر خرچ ہو رہے ہیں۔

اگر حالیہ پاک بھارت جنگ کا تجزیہ کیا جائے تو درج ذیل نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں :

1۔ اگرچہ زمانہِ موجود کی جنگ آرمرڈ ( یعنی ٹینکوں کی سپاہ) ، توپ خانے، اور انفنٹری (پیدل فوج) کو پیچھے چھوڑ کر لڑاکے جہازوں، جوہری ہتھیاروں اور میزائل کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مگر دشوار گزار پہاڑی علاقے میں جنگ کے لیے آج بھی انفنٹری اور توپ خانے کی اہمیت سے انکار نہیں۔ پھر جنگ کے بعد زمین پر قبضہ کرنے کے لیے آرمرڈ اور انفنٹری کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے۔

2۔ حالیہ جنگ جنوبی ایشیا کو مکمل تباہی میں دھکیلنے کے دہانے پر پہنچ کر واپس لوٹی ہے۔ اس جنگ سے ہندوستان کی طرف جنگ کا شوق کسی قدر ماند پڑا ہے۔ جب کہ پاکستان میں یہ شوق اب بھی برقرار ہے۔ بقول شاعر :

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ ترے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

مگر شاعر نے جس طوفاں سے آشنا ہونے کی دُعا کی ہے وہ ایٹمی جنگ کی تباہی نہیں۔ بلکہ قومی بحران ہے جس سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد اور جہد مسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں چین، ویتنام اور بنگلہ دیش کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

3۔ ہندوستان کی سیاسی قیادت کا یہ خیال تھا کہ پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر عالمگیر رائے پاکستان کے خلاف کر لے گا۔ اور دنیا اس جنگ میں ہندوستان کا ساتھ دے گی۔ مگر ہندوستان کا موقف کمزور ثابت ہوا کیونکہ بین الاقوامی مسلمہ قوانین کے مطابق کوئی مُلک کسی دوسرے ملک پر اس لیے جنگ مسلط نہیں کر سکتا کہ اس کو شک ہے کہ دوسرے ملک نے چند افراد بھیج کر اس کے چند لوگ قتل کر دیے ہیں۔ اگرچہ میں ذاتی طور پر دہشت گردی کے خلاف ہوں اور جن لوگوں نے پہلگام کیا وہ لوگ انسانیت اور امن کے دشمن تھے۔ البتہ پہلگام کا سانحہ انڈیا کی مقبوضہ کشمیر میں اتنی بڑی تعداد میں موجود سیکورٹی فورسز کی ناکامی کا ثبوت بھی ہے۔

4۔ امریکی قیادت جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اب سنجیدہ نظر آ رہی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے میرا ذاتی موقف یہ ہے کہ کشمیر مذہبی یا علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہے۔ یہ خطہِ کشمیر بشمول وادی، جموں، لداخ، آزاد کشمیر، گلگت، بلتستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے حامل مختلف زبانیں بولنے والے 16 ملین لوگوں کی شناخت، خود مختاری اور وقار کا مسئلہ ہے۔ کشمیریوں کا حق خود مختاری اقوامِ عالم تسلیم کرتی ہیں۔ اور اس کا حل اسی تناظر میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں، میں دونوں اطراف کے فیصلہ سازوں کے سامنے چند تجاویز رکھنا چاہتا ہوں :

1۔ ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں کو مشورہ ہے کہ وہ آپس میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں اور جو اربوں ڈالر وہ سامانِ جنگ پر خرچ کر رہے ہیں وہ اپنے عوام کو صحت، تعلیم اور زندگی کی بہتر سہولیات فراہم کرنے پر صرف کریں۔

2۔ بدقسمتی سے مسئلہ کشمیر پر دونوں طرف اپنے اپنے مفادات وابستہ ہیں۔ جو اس مسئلے کو حل کرنے میں مانع ہیں۔ خدارا ان مفادات کو ترک کر کے اس مسئلے کو کشمیریوں کی خواہشات اور آرزؤوں کے مطابق حل کرنے کی تدبیر کریں۔

3۔ ہندوستان پاکستان کے لیے آبی ذخائر کے مسائل پیدا کرنے سے باز رہے۔ اس کے نتائج نہایت بھیانک ہو سکتے ہیں۔

4۔ ہندوستان، پاکستان اور چین آپس میں متحد ہو کر جنوبی ایشیاء کا معاشی بلاک قائم کر سکتے ہیں۔ اور تینوں ممالک کے ساڑھے تین ارب لوگوں کی زندگیوں میں امن آشتی اور فلاح کی نوید لا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS