اردو میں دخیل الفاظ کی روایت


جب ایک زبان کے الفاظ کسی دوسری زبان میں داخل ہوں تو انھیں دخیل الفاظ کہا جاتا ہے۔ دوسری زبان میں داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پوری طرح اس زبان کا حصہ بن جائیں اور اس زبان کے بولنے والے ان الفاظ سے اپنی زبان کے سانچوں اور قواعد کے تحت ویسا ہی برتاؤ کریں جیسا وہ اپنی زبان کے الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں۔

لفظ دو طرح سے کسی زبان میں داخل ہوتے ہیں ایک براہ راست اور دوسرا کسی اور زبان کے توسط سے یعنی پہلے لفظ ایک زبان سے دوسری زبان میں جاتے ہیں اور پھر وہاں سے کسی اور زبان میں، اس سفر کے دوران لفظوں کی صورت میں تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے۔ یہ تبدیلی لفظ کی ساخت میں، معنی میں اور تلفظ میں ہو سکتی ہے لیکن اصل ماخذ وہی زبان رہتی ہے جہاں سے لفظ نے سفر شروع کیا تھا۔ اردو میں ان دونوں طریقوں سے بیسیوں زبانوں کے سینکڑوں لفظ داخل ہوئے ہیں۔ اردو ہندوستانی زبان ہے اور ہندوستان صدیوں سے بیرونی حملہ آوروں، تاجروں اور سیاحوں کی آماجگاہ بنا رہا ہے۔ حملہ آور آریائی ہوں، دراوڑ ہوں، ایرانی ہوں، یونانی، ترک ہوں، عرب ہوں افغانی کہ انگریز؛ سیاح پرتگیزی واسکوڈی گاما ہو، یونانی میگتھنیز ہو کہ مسلم ابن بطوطہ؛ تاجر ہند سندھ کے ساحلوں پر اتریں کہ کاشغر سے ٹیکسلا سلک روٹ سے داخل ہوں ؛ ہندوستانی بہار میں موجود بدھوں کی نالندہ یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے طلبہ تبت سے آئیں، سری لنکا سے آئیں، چائنہ سے آئیں یا ترکی سے سبھی کو ہندوستان خوب راس آیا۔ یہ مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے مختلف زبانیں بولنے والے جب ہندوستان آتے رہے تو ان کی زبانیں ہندوستانی زبانوں پر اثرات مرتب کرتی رہیں۔ کچھ لفظ ہندوستانی زبانوں میں ان لوگوں کی اشیا اور ایجادات کے ساتھ آئے کچھ لفظ ان کے شعبوں کے جارگن کے طور پر یہاں کی زبانوں میں داخل ہوئے اور کچھ بول چال کے ذریعے آپسی رابطے کی خاطر ہندوستانی زبانوں کا حصہ بنے۔ اردو میں دخیل الفاظ کی روایت کو سمجھنے کے لیے دوسری زبانوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :

اردو میں دخیل یورپی زبانوں کے الفاظ
اردو میں دخیل ایشیائی زبانوں کے الفاظ
اردو میں دخیل مقامی زبانوں کے الفاظ

یورپی زبان کے الفاظ اردو میں براہ راست بھی داخل ہوئے اور انگریزی کے توسط سے بھی اردو میں شامل ہوتے رہے۔ قدیم ہند کے یورپی دنیا کے ساتھ مختلف نوعیت کے تعلقات تھے۔ ایک تو تجارت کے در کھلے رہتے تھے دوسرا سیاحت فروغ پاتی رہی اور تیسرا حملہ آور مختلف ادوار میں ہندوستان میں داخل ہوتے رہے۔ اگرچہ قبل مسیح میں سکندر یونانی ہندوستان میں آیا تھا اور اس کے بعد ایک معروف مورخ اور سیاح مگتھنیز کئی سال تک ہندوستان میں رہا لیکن لاطینی، اطالوی، ہسپانوی اور کالٹی زبانوں کی طرح یونانی زبان کے زیادہ تر الفاظ بھی اردو میں انگریزی کے توسط سے داخل ہوئے۔ پندرہویں صدی کے آخر میں پرتگالی واسکوڈی گاما ہندوستان آیا، پرتگیزیوں کے بعد فرانسیسی ہندوستان آئے سترہویں صدی کے اوائل میں ولندیزیوں کی آمد ہوئی۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں جرمن قوم سے بھی کچھ تجارت رہی اور آخر میں انگریز پوری آب و تاب سے ہند کے آسمان پر چمکے یوں یہ تمام یورپی زبانیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان کے الفاظ ہندوستان میں رابطے کی زبان اردو میں داخل ہوئے۔

اردو کا اپنا صرفی و نحوی ڈھانچہ ہے۔ اپنا افعالی نظام ہے البتہ بیسیوں زبانوں کے اسماء اس میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ زبان بننے کا عمل ہزاروں سالوں کو محیط ہے صدیوں پہلے جب اردو زبان کے خد و خال کچھ زیادہ واضح نہیں تھے اور نہ ہی اردو الگ سے اپنی شناخت رکھتی تھی لیکن یہ صرفی و نحوی ڈھانچا کسی نہ کسی صورت میں موجود تھا اور اس میں قدیم ہند کی زبانوں کے الفاظ شامل ہوئے جو بعد میں اردو کا مستقل حصہ بن گئے۔ آریائی اور دراوڑ ہند میں آ کر بسنے والی قدیم قومیں ہیں آریائی زبان کے الفاظ اور آوازیں اردو میں داخل ہوئیں یہ آوازیں اور الفاظ براہ راست سنسکرت یا پراکرت اور دیگر کھڑی بولیوں کے ذریعے اردو کا حصہ بنے۔

یورپی زبانوں سے کہیں زیادہ اثر اردو پر ایشیائی زبانوں کا پڑا۔ ہندوستان پر وار کرنے والے ایشیائی حملہ آور خاصا نام رکھتے ہیں اور ان کی زبانیں اس قدر اردو پر اثر انداز ہوئیں کہ لگنے لگا اردو نے کہیں انہی کے بطن سے جنم نہ لیا ہو۔ عربی، ترکی، فارسی اور پشتو بولنے والے عرب، ترک، ایرانی اور افغانی صدیوں سے ہندوستان میں آباد ہیں۔ ان زبانوں میں سے سب سے زیادہ اردو پر اثرات عربی اور فارسی کے ہیں۔

اردو، عربی اور فارسی سے زیادہ مماثلتیں رکھتی ہے اس کا موجودہ رسم الخط اور اس کے حروف تہجی عربی اور فارسی سے بڑی حد تک مماثل ہیں بلکہ انہی میں سے ہیں۔ ان دو زبانوں نے اردو کے خد و خال کو واضح کیا اور نئی شناخت دی۔ مسلم حملہ آوروں کی آمد سے اردو زبان کے بننے کا عمل تیز ہوا اور اردو کے نقوش خوب ابھرے۔ عام تاثر یہ بننے لگا کہ اردو مسلمان حملہ آوروں کی آمد سے، ان کی زبانوں کے عام استعمال سے اور مختلف زبانیں بولنے والے لشکروں کے سبب سے وجود میں آئی ہے اور یہ مسلمانوں کی زبان ہے۔ جبکہ ماہرین لسانیات کے نزدیک مختلف زبانیں مل کر نئی زبان نہیں بنا سکتیں۔ اردو پہلے سے موجود تھی عربی اور فارسی نے اتنا کیا کہ زبان کے بننے کے عمل کو تیز کیا اگر یہ زبان ہندوستان نہ آتی تو شاید اردو کو واضح ہو کر شناخت قائم کرنے میں چند صدیاں اور لگ جاتیں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر رؤف پاریکھ کا تحقیقی مضمون ”اردو لشکری زبان نہیں ہے“ قابل ذکر ہے۔ جن غیر ملکی زبانوں کے الفاظ من و عن اردو میں داخل ہوئے یا ان میں تصرف کیا گیا وہ تصرف چاہے اپنی زبان کے قاعدے سے کیا گیا ہو یا غیر زبان کے قاعدے سے یا سابقے یا لاحقے لگا کر مزید الفاظ بنائے گئے ہوں ہر صورت میں بقیہ غیر زبانوں کے الفاظ سے فارسی اور عربی زبان کے الفاظ کی تعداد اس ضمن میں زیادہ ہے۔

یورپی اور ایشیائی زبانوں کے علاوہ ہندوستان کی اپنی زبانوں کے الفاظ بڑی تعداد میں اردو میں داخل ہوئے۔ پنجابی، سندھی، دکنی، پوٹھوہاری اور متعدد کھڑی بولیوں کے الفاظ اردو میں موجود ہیں اس ضمن میں اردو زبان کے آغاز کے نظریات پیش کرنے والوں کے افکار اہمیت کے حامل ہیں۔ مختصر یہ کہ اردو میں بالترتیب سنسکرت، پراکرت اور کھڑی بولیوں کے الفاظ؛ عربی فارسی کے الفاظ؛ انگریزی کے الفاظ اور علاقائی زبانوں کے الفاظ صدیوں سے داخل ہوتے رہے ہیں اور اکثر تعداد ان الفاظ کی اردو کے مزاج میں ڈھل کر مختلف صورتوں میں آج بھی اردو زبان کا حصہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ دخیل الفاظ کسی زبان کے لیے صرف سود مند ہیں یا نقصان دہ بھی ہیں؟

Facebook Comments HS